🐝 قرآن کے عجائبات: شہد کی مکھی — ایک ننھی مخلوق، ایک عظیم نشانی 🐝
کبھی ٹھہر کر۔۔۔ ذرا رک کر۔۔۔ کائنات کی ان گنت نشانیوں پر غور کیا ہے؟ اللہ رب العزت نے اپنی کتابِ مبین، قرآن مجید میں، بار بار ہمیں دعوتِ فکر دی ہے۔ اس نے ہمیں اپنی ذات کو پہچاننے کے لیے کائنات میں پھیلی نشانیوں (آیات) کو دیکھنے کا حکم دیا ہے۔ کبھی وہ بلند و بالا آسمانوں کی بات کرتا ہے، کبھی گہرے سمندروں کی، اور کبھی۔۔۔ وہ ہمارا دھیان ایک بالکل ننھی سی مخلوق کی طرف مبذول کراتا ہے۔
قرآن مجید کی ایک پوری سورت کا نام "النحل" یعنی "شہد کی مکھی" ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ یہ اس حقیر نظر آنے والے کیڑے کی عظمت پر ربانی مہر ہے۔ جب ہم قرآن کی روشنی میں شہد کی مکھی کی زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں، تو عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ اس کی زندگی کا ہر پہلو، اس کا ہر عمل، اس کی ہر پرواز۔۔۔ توحید کی ایک زندہ دلیل اور اللہ کی حکمتِ بالغہ کا ایک بے مثال نمونہ ہے۔
آئیے، آج ہم قرآن کے اوراق سے شہد کی مکھی کے اس معجزے کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔ یہ صرف ایک کیڑے کی کہانی نہیں، یہ خالق اور مخلوق کے اس گہرے تعلق کی کہانی ہے جو ہر صاحبِ فکر کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔
🌿 سورۃ النحل: اللہ کا ننھا معمار اور کیمیا دان
شہد کی مکھی کے بارے میں سب سے بنیادی اور جامع رہنمائی ہمیں سورۃ النحل کی آیات 68 اور 69 میں ملتی ہے۔ یہ آیات نہ صرف اس مخلوق کے طرزِ زندگی کو بیان کرتی ہیں بلکہ اس کے عمل کے پیچھے چھپی 'ہدایت' کو بھی واضح کرتی ہیں۔
وَأَوْحَىٰ رَبُّكَ إِلَى النَّحْلِ أَنِ اتَّخِذِي مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا وَمِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا يَعْرِشُونَ ﴿٦٨﴾
ثُمَّ كُلِي مِن كُلِّ الثَّمَرَاتِ فَاسْلُكِي سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا ۚ يَخْرُجُ مِن بُطُونِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ أَلْوَانُهُ فِيهِ شِفَاءٌ لِّلنَّاسِ ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ ﴿٦٩﴾
پھر ہر قسم کے پھلوں (اور پھولوں) سے رس چوس، پھر اپنے رب کے (بتائے ہوئے) ہموار راستوں پر چلتی رہ۔ ان کے پیٹوں سے ایک پینے کی چیز (شہد) نکلتی ہے جس کے رنگ مختلف ہوتے ہیں، اس میں لوگوں کے لیے شفا ہے، بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے ایک بڑی نشانی ہے جو غور و فکر کرتے ہیں۔ (69)" (سورۃ النحل، آیات: 68-69)
💭 "وَأَوْحَىٰ رَبُّكَ" — ایک خاص وحی، ایک خاص رشتہ
قرآن کا آغاز ہی حیران کن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے لفظ 'وحی' استعمال کیا۔ یہ وہی لفظ ہے جو انبیاء کرام علیہم السلام کے لیے استعمال ہوتا ہے۔۔۔ مگر یہاں اس کا اطلاق ایک ننھی مخلوق پر ہو رہا ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ 'وحی' کے کئی درجات ہیں۔ انبیاء پر جو وحی آتی ہے وہ شریعت اور احکام لاتی ہے، جبکہ مکھی کو کی جانے والی 'وحی' دراصل ایک 'الہامی ہدایت' (Divine Instinct) ہے۔
وحی کا مفہوم: ہدایتِ ربانی
یہ کوئی عام جبلت نہیں ہے۔ یہ براہِ راست اللہ کی طرف سے ڈالی گئی ایک پروگرامنگ ہے۔ شہد کی مکھی کو کوئی ٹریننگ اسکول نہیں بھیجا جاتا۔۔۔ اسے کوئی سکھاتا نہیں کہ پھولوں کا رس کیسے چوسنا ہے، چھتہ کیسے بنانا ہے، یا راستہ کیسے تلاش کرنا ہے۔ یہ سب علم اس کے وجود میں "ڈال" دیا گیا ہے۔ لفظ "رَبُّكَ" (آپ کا رب) کا استعمال بھی گہرا ہے۔۔۔ یعنی وہی رب جو آپ (ﷺ) کی تربیت فرما رہا ہے، وہی رب اس ننھی مکھی کی بھی تربیت اور رہنمائی فرما رہا ہے۔
ذرا سوچیے، اگر یہ محض اندھی جبلت ہوتی، تو یہ اتنی منظم، اتنی پیچیدہ اور اتنی بے عیب کیسے ہو سکتی تھی؟ اس کا ہر قدم، ہر فیصلہ۔۔۔ ایک عظیم منصوبے کا حصہ لگتا ہے۔
🏡 "أَنِ اتَّخِذِي" — حکمتِ تعمیر اور ہندسی کمال
وحی کا پہلا حکم گھر بنانے کا ہے۔۔۔ اور کیا خوب ترتیب بیان کی گئی: "پہاڑوں میں، درختوں میں، اور ان چھتوں میں جو وہ (انسان) بناتے ہیں"۔ قرآن نے پہلے قدرتی (Natural) اور پھر انسان کے بنائے ہوئے (Man-made) ٹھکانوں کا ذکر کیا۔ یہ ترتیب ماحول سے مطابقت کی بہترین مثال ہے۔
مسدس (Hexagon) کا معجزہ
قرآن نے صرف گھر بنانے کا کہا، لیکن اس 'وحی' کے تحت مکھی جو گھر بناتی ہے، وہ خود ایک معجزہ ہے۔ شہد کی مکھی اپنے چھتے کے خانے ہمیشہ 'مسدس' (Hexagon) یعنی چھ کونوں والی شکل کے بناتی ہے۔ کیوں؟
جدید ریاضی اور انجینئرنگ ہمیں بتاتی ہے کہ اگر آپ کو کسی جگہ کو چھوٹے چھوٹے خانوں میں اس طرح تقسیم کرنا ہو کہ:
- کم سے کم مواد (موم) استعمال ہو۔
- زیادہ سے زیادہ جگہ (شہد ذخیرہ کرنے کے لیے) ملے۔
- خانوں کے درمیان کوئی جگہ ضائع نہ ہو (No Gaps)۔
۔۔۔تو اس کے لیے صرف تین شکلیں ممکن ہیں: مثلث، مربع، یا مسدس۔ اور ان تینوں میں سے 'مسدس' وہ واحد شکل ہے جو کم سے کم مواد (Perimeter) میں زیادہ سے زیادہ جگہ (Area) فراہم کرتی ہے۔
شہد کی مکھی کو یہ ہندسی کمال (Geometrical Perfection) کس نے سکھایا؟۔۔۔ یہ وہی 'وحی' ہے جس کا ذکر "وَأَوْحَىٰ رَبُّكَ" میں کیا گیا۔
🌸 "ثُمَّ كُلِي مِن كُلِّ الثَّمَرَاتِ" — رزق کی تلاش اور خدمتِ خلق
اگلا حکم رزق کے حصول کا ہے۔ "پھر ہر قسم کے پھلوں (پھولوں) سے چوس"۔ یہاں "كُلِّ الثَّمَرَاتِ" (تمام پھل/پھول) کا لفظ قابلِ غور ہے۔ یہ مکھی کی وسیع رینج (Wide Range) کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ کسی ایک پھول پر انحصار نہیں کرتی، بلکہ ہر طرح کے پھولوں سے رس لیتی ہے۔
مکھی کا کردار: پولینیشن (Pollination)
یہاں ایک اور حکمت پوشیدہ ہے۔ شہد کی مکھی جب ایک پھول سے دوسرے پھول تک جاتی ہے، تو وہ صرف رس نہیں لیتی۔۔۔ بلکہ وہ 'زیرگی' (Pollination) کا عمل بھی سرانجام دیتی ہے۔ وہ نر پھولوں کے زر دان (Pollen) مادہ پھولوں تک پہنچاتی ہے، جس سے پھل بنتے ہیں اور فصلیں پیدا ہوتی ہیں۔
غور کیجیے! اللہ نے اسے حکم دیا کہ "کُلِی" (تُو کھا)، لیکن اس کے کھانے کے عمل میں ہی کائنات کی بقا کا سامان رکھ دیا۔ وہ اپنا پیٹ بھرنے نکلتی ہے اور پوری انسانیت کے لیے پھلوں اور فصلوں کا انتظام کر جاتی ہے۔۔۔ یہ ہے اللہ کا نظامِ ربوبیت۔ وہ ایک مخلوق کے عمل سے لاکھوں دوسری مخلوقات کو رزق پہنچا رہا ہے۔
☁️ "فَاسْلُكِي سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا" — پروردگار کے ہموار راستے
یہ آیت کا سب سے حیران کن سائنسی پہلو ہے۔ "پھر اپنے رب کے (بتائے ہوئے) ہموار راستوں پر چلتی رہ۔"
شہد کی مکھی اپنے چھتے سے میلوں دور رزق کی تلاش میں جاتی ہے اور پھر اندھیرے میں بھی سیدھی اپنے چھتے میں واپس پہنچ جاتی ہے۔۔۔ یہ کیسے ممکن ہوتا ہے؟ جدید سائنس نے دہائیوں کی تحقیق کے بعد جو دریافت کیا، قرآن نے اسے "سُبُلَ رَبِّكِ" (تیرے رب کے راستے) اور "ذُلُلًا" (ہموار/آسان کیے ہوئے) کہہ کر چودہ سو سال پہلے بیان کر دیا۔
مکھی کا 'ویگل ڈانس' (Waggle Dance)
سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ شہد کی مکھی جب کوئی نیا باغ یا پھولوں کا ذخیرہ دریافت کرتی ہے، تو وہ واپس آ کر دوسری مکھیوں کو اس کا 'پتہ' بتاتی ہے۔۔۔ اور یہ پتہ وہ ایک خاص 'رقص' (Waggle Dance) کے ذریعے بتاتی ہے۔
- اس رقص کا زاویہ (Angle) بتاتا ہے کہ خوراک سورج کے حساب سے کس سمت میں ہے۔
- رقص کا دورانیہ (Duration) بتاتا ہے کہ خوراک کتنی دور ہے۔
یہ ایک پیچیدہ نیویگیشن سسٹم ہے۔۔۔ لیکن قرآن کہتا ہے کہ یہ راستے مکھی کے لیے "ذُلُلًا" یعنی 'آسان کر دیے گئے' ہیں۔ اللہ نے یہ پیچیدہ علم اس کی فطرت میں رکھ دیا ہے۔
مقناطیسی حس (Magnetic Sense)
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ مکھی سورج کے علاوہ زمین کے مقناطیسی میدان (Earth's Magnetic Field) کو بھی محسوس کر سکتی ہے۔ بادلوں بھرے دن میں بھی جب سورج نظر نہیں آتا، وہ زمین کی مقناطیسی لہروں کو کمپاس (Compass) کے طور پر استعمال کرتی ہوئی اپنے راستے تلاش کر لیتی ہے۔
یہ ہیں وہ "سُبُلَ رَبِّكِ"۔۔۔ وہ ربانی راستے جو خالق نے اس ننھی مخلوق کے لیے ہموار کر دیے ہیں۔
🍯 "يَخْرُجُ مِن بُطُونِهَا شَرَابٌ" — شفا کا مشروب
اب مکھی کی تمام محنت کے نتیجے کا ذکر ہے۔۔۔ "ان کے پیٹوں سے ایک پینے کی چیز (شہد) نکلتی ہے۔"
یہاں 'پیٹ' (بُطُونِهَا - جمع کا صیغہ) کا لفظ بھی ایک معجزہ ہے۔ مکھی کے دو پیٹ ہوتے ہیں۔ ایک اس کی اپنی خوراک کے لیے، اور دوسرا 'شہد کا تھیلا' (Honey Stomach) جہاں وہ پھولوں کا رس جمع کرتی ہے۔ اس تھیلے میں جا کر رس کیمیائی طور پر تبدیل ہونا شروع ہو جاتا ہے، پھر چھتے میں جا کر مزید مکھیوں کے عمل سے گزر کر یہ 'شہد' بنتا ہے۔ قرآن کا "بُطُونِهَا" (اس کے پیٹوں) کہنا بالکل درست ہے۔
"مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُهُ" (مختلف رنگوں والا)
قرآن نے کہا کہ اس شہد کے "رنگ مختلف" ہوتے ہیں۔ یہ ایک واضح سائنسی حقیقت ہے۔ شہد کا رنگ، ذائقہ اور خوشبو اس بات پر منحصر ہے کہ مکھی نے رس کس پھول سے چوسا ہے۔۔۔ بیری کا شہد گہرا سرخ، سِترس کا شہد ہلکا سنہری، اور پھولائی کا شہد تقریباً سفید ہوتا ہے۔ یہ تنوع (Diversity) بھی اللہ کی قدرت کی نشانی ہے۔
"فِيهِ شِفَاءٌ لِّلنَّاسِ" (اس میں لوگوں کے لیے شفا ہے)
یہ قرآن کا حتمی اعلان ہے۔۔۔ شہد صرف غذا نہیں، یہ 'شفا' ہے۔ آج سائنس تصدیق کرتی ہے کہ شہد:
- اینٹی بیکٹیریل (Antibacterial): یہ جراثیم کو مارتا ہے۔ اس میں ہائیڈروجن پر آکسائیڈ (Hydrogen Peroxide) قدرتی طور پر موجود ہوتا ہے۔
- اینٹی آکسیڈنٹ (Antioxidant): یہ جسم کو بیماریوں سے بچاتا ہے۔
- زخم بھرنے والا (Wound Healing): یہ زخموں کو تیزی سے بھرتا ہے اور انفیکشن سے بچاتا ہے۔
چودہ صدیاں قبل، جب مائیکرو اسکوپ نہیں تھا، جراثیم کا تصور نہیں تھا، اس وقت قرآن کا یہ اعلان کہ اس 'مشروب' میں شفا ہے، خود اس کتاب کے الہامی ہونے کی دلیل ہے۔
🧠 "إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ"
آیات کا اختتام اس جملے پر ہوتا ہے: "بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے ایک بڑی نشانی ہے جو غور و فکر کرتے ہیں۔"
یہ نشانی ہر کسی کو نظر نہیں آتی۔۔۔ یہ صرف "أَهْلِ التَّفَكُّرِ" (غور و فکر کرنے والوں) کو نظر آتی ہے۔ شہد کی مکھی کی پوری زندگی اطاعت، محنت، تنظیم، اور افادیت کا درس ہے۔
- وہ 'وحی' کی مکمل اطاعت کرتی ہے۔
- وہ بے کار نہیں بیٹھتی، مسلسل محنت کرتی ہے۔
- وہ ایک منظم جماعت (Community) کا حصہ بن کر رہتی ہے۔
- اس کا وجود دوسروں (پودوں اور انسانوں) کے لیے نفع بخش ہے۔
شہد کی مکھی ہمیں سکھاتی ہے کہ جب ایک مخلوق اللہ کی 'وحی' (ہدایت) پر چلتی ہے، تو اس کا وجود 'شفا' بن جاتا ہے۔۔۔ وہ جہاں جاتی ہے، خیر پھیلاتی ہے۔۔۔ تو انسان، جو اشرف المخلوقات ہے، جب وہ اللہ کی 'وحی' (قرآن) پر چلے گا، تو اس کا وجود انسانیت کے لیے کتنا بڑا نفع اور شفا بن جائے گا؟
شہد کی مکھی کا معجزہ صرف شہد کی مٹھاس میں نہیں۔۔۔ اس کا اصل معجزہ اس کی زندگی کے پیچھے کارفرما 'ہدایتِ ربانی' میں ہے۔ ایک ننھی سی مخلوق کی اتنی پیچیدہ زندگی، اس کا انجینئرنگ کا کمال، اس کا نیویگیشن سسٹم، اور اس کی کیمیا گری۔۔۔ یہ سب چیخ چیخ کر پکار رہے ہیں کہ اس کائنات کا کوئی خالق ہے، کوئی پالنے والا ہے، جو ہر چیز کو حکمت کے ساتھ چلا رہا ہے۔
جس رب نے مکھی کو 'وحی' کی، اسی رب نے ہمیں 'قرآن' عطا کیا۔ اگر ہم بھی اس ہدایت کے راستوں پر چل پڑیں، تو ہماری زندگی بھی شہد کی طرح میٹھی اور دوسروں کے لیے 'شفا' بن سکتی ہے۔
🌸 غور کرو، دیکھو، سوچو — تمہارے چاروں طرف اللہ کی قدرت کے جلوے ہیں 🌸
No comments:
Post a Comment