اللہ کی نشانیاں

🌟 آج کی آیت

لوڈ ہو رہا ہے...

Saturday, November 15, 2025

سائنس کے دو عظیم ترین راز اور قرآن: آفاق اور انفس | Science & Quran Mysteries

سائنس، کائنات اور انسانی شعور
آفاق اور انفس کے سربستہ رازوں کا تحقیقی سفر

🌌 انسان ازل سے ایک متلاشی وجود ہے۔ جب وہ رات کی تاریکی میں آسمان کی لامتناہی وسعتوں کو دیکھتا ہے، تو اس کے دل میں ایک ہوک سی اٹھتی ہے کہ "یہ سب کیا ہے؟" اور جب وہ تنہائی میں اپنی ہی ذات کے اندر جھانکتا ہے، اپنی سوچوں کے طوفان کو محسوس کرتا ہے، تو پھر وہی سوال ابھرتا ہے کہ "میں کون ہوں؟"۔

آج ہم اکیسویں صدی کے اس موڑ پر کھڑے ہیں جہاں سائنس نے ٹیکنالوجی کے انبار لگا دیے ہیں، مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ "حقیقت" آج بھی اتنی ہی بڑی پہیلی ہے جتنی ہزاروں سال پہلے تھی۔ سائنس کی پوری عمارت درحقیقت دو ایسے ستونوں پر کھڑی ہے جن کی بنیادوں تک ہماری رسائی آج تک نہیں ہو سکی۔ یہ دو ستون، یہ دو عظیم راز وہی ہیں جنہیں قرآن مجید نے چودہ سو سال پہلے "آفاق" (Universe) اور "انفس" (Self/Consciousness) کا نام دیا تھا۔

پہلا حصہ: آفاق – کائنات کی پراسرار خاموشی

عدم سے وجود کا سفر (Ex Nihilo)

سائنسدان جب اپنی جدید ترین دوربینیں خلاء کی گہرائیوں میں مرکوز کرتے ہیں، تو انہیں کیا نظر آتا ہے؟ روشنی، مادہ، اور وقت کا ایک نہ ختم ہونے والا رقص۔ لیکن اس رقص کا آغاز کہاں سے ہوا؟ بیسویں صدی سے پہلے، سائنس کا ایک بڑا طبقہ یہ مانتا تھا کہ کائنات "ازلی" (Eternal) ہے، یعنی یہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ یہ نظریہ اللہ کے وجود کا انکار کرنے والوں کے لیے ایک پناہ گاہ تھا۔

لیکن پھر 1920 کی دہائی میں ایڈون ہبل اور دیگر سائنسدانوں کی تحقیقات نے ایک دھماکہ خیز انکشاف کیا: کائنات ساکن نہیں ہے، یہ پھیل رہی ہے! اگر کائنات پھیل رہی ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ اگر ہم وقت کے پہیے کو الٹا گھمائیں، تو یہ کائنات سکڑتی جائے گی، یہاں تک کہ ایک ایسے مقام پر پہنچ جائے گی جہاں مادہ، توانائی، وقت اور جگہ (Space-Time) سب ایک نکتے میں گم ہو جائیں گے۔ سائنس اسے "سنگولیرٹی" (Singularity) کہتی ہے۔ وہ نکتہ جہاں طبیعات کے سارے قوانین دم توڑ دیتے ہیں۔

أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا "کیا ان کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں باہم ملے ہوئے (بند) تھے، تو ہم نے انہیں جدا جدا کر دیا (پھاڑ دیا)؟" سورۃ الانبیاء: 30

یہ آیتِ کریمہ جسے آج ہم بگ بینگ تھیوری (Big Bang Theory) کی روشنی میں پڑھتے ہیں، صدیوں تک مفسرین کے لیے ایک معمہ بنی رہی۔ "رتقاً" کا مطلب ہے کسی چیز کا سلا ہوا یا بند ہونا، اور "فتق" کا مطلب ہے اسے پھاڑ کر جدا کر دینا۔ جدید کاسمولوجی اس سے بہتر الفاظ میں کائنات کی تخلیق کا نقشہ نہیں کھینچ سکتی۔ ایک بند نکتہ، جو اچانک پھٹا اور کائنات وجود میں آ گئی۔

دوسرا حصہ: انفس – انسانی ذات کا لامتناہی سمندر

اب آئیے ذرا دوربین کو ہٹا کر خوردبین (Microscope) کی طرف چلیں۔ ہم کائنات میں اتنے چھوٹے ہیں کہ ہمارا کوئی وجود نہیں، لیکن ہمارے اندر ایک ایسی کائنات آباد ہے جو شاید باہر کی کائنات سے زیادہ پیچیدہ ہے۔ وہ کائنات ہمارا "دماغ" ہے۔

نیورانز کا جنگل اور شعور کی گتھی

انسانی دماغ محض 1.4 کلوگرام کا گوشت کا لوتھڑا ہے، مگر اس کی ساخت ایسی ہے کہ جدید ترین سپر کمپیوٹرز بھی اس کے سامنے عاجز ہیں۔ ایک انسانی دماغ میں تقریباً 86 سے 100 ارب نیورانز (عصبی خلیات) ہوتے ہیں۔ یہ تعداد ہماری کہکشاں ملکی وے (Milky Way) کے ستاروں کے لگ بھگ ہے۔

لیکن اصل جادو تعداد میں نہیں، ان کے "رابطوں" (Connections) میں ہے۔ ہر نیوران ہزاروں دوسرے نیورانز کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ سائنسدان اندازہ لگاتے ہیں کہ انسانی دماغ میں کنکشنز (Synapses) کی تعداد 100 ٹریلین سے زیادہ ہے۔ اگر آپ دنیا کے تمام ٹیلی فون نیٹ ورکس اور انٹرنیٹ راؤٹرز کو ملا لیں، تب بھی انسانی دماغ کا پیچیدہ نظام ان سے ہزاروں گنا بڑا ہے۔

🧠

دی ہارڈ پرابلم آف کونشیسنس (The Hard Problem of Consciousness)

سائنس کا سب سے بڑا بحران یہ ہے کہ مادہ "سوچ" کیسے بن جاتا ہے؟ دیکھیں، نیورانز میں صرف برقی سگنل اور کیمیکلز دوڑتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ بے جان ایٹم مل کر "محسوس" کیسے کرتے ہیں؟ وہ کون ہے جو آپ کے اندر بیٹھ کر یہ تحریر پڑھ رہا ہے؟

اسے فلسفہ اور سائنس میں "شعور کا مشکل ترین مسئلہ" کہا جاتا ہے۔ مادی سائنس اس کا جواب دینے سے قاصر ہے کیونکہ یہاں معاملہ مادے کا نہیں، "روح" کا ہے۔

وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ ۖ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا "اور یہ آپ سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ کہہ دیجئے! کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تمہیں بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔" سورۃ بنی اسرائیل: 85

تیسرا حصہ: آفاق اور انفس کا حیرت انگیز سنگم

اب ایک انتہائی دلچسپ مشاہدے کی طرف چلتے ہیں۔ 2017 میں یونیورسٹی آف ویرونا کے ایسٹرو فزسٹ فرانکو وازا (Franco Vazza) اور نیورو سرجن البرٹو فیلیٹی (Alberto Feletti) نے ایک مشترکہ تحقیق کی۔ انہوں نے انسانی دماغ کے نیورل نیٹ ورک اور کائنات کے کاسمک ویب (Cosmic Web) کا موازنہ کیا۔ نتائج دنگ کر دینے والے تھے:

  • کائنات میں کہکشائیں ایک دوسرے سے کشش ثقل کے تاروں سے جڑی ہیں۔
  • دماغ میں نیورانز ایک دوسرے سے ایکزونز (Axons) کے ذریعے جڑے ہیں۔
  • کائنات کا 70 فیصد حصہ "ڈارک انرجی" (نامعلوم توانائی) ہے۔
  • دماغ کا 77 فیصد حصہ "پانی" ہے۔
  • دونوں کا سٹرکچر (ساخت) دیکھنے میں ہو بہو ایک جیسا لگتا ہے، گویا کسی نے ایک ہی ڈیزائن کو دو مختلف پیمانوں پر بنایا ہو۔

یہ مماثلت محض اتفاق نہیں ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ "مصور" ایک ہی ہے۔ جس نے باہر کی دنیا بنائی، اسی نے اندر کی دنیا تخلیق کی۔

چوتھا حصہ: اللہ کی دلیل اور ہماری غفلت

سورۃ حم السجدہ کی آیت نمبر 53، جو اس بلاگ کا مرکزی خیال ہے، ایک زندہ معجزہ ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے مستقبل کا صیغہ استعمال کیا ہے: "ہم دکھائیں گے" (We will show them)۔ یہ نہیں کہا کہ ہم نے دکھا دیا۔ اس کا مطلب ہے کہ جیسے جیسے انسان کا علم بڑھے گا، جیسے جیسے وقت آگے جائے گا، اللہ کی نشانیاں مدھم ہونے کے بجائے مزید نکھر کر سامنے آئیں گی۔

ایک دہریہ (Atheist) کہتا ہے کہ "کائنات ایک حادثہ ہے"۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ ایک پرنٹنگ پریس میں دھماکہ ہوا اور اس کے نتیجے میں "دیوانِ غالب" کی مکمل جلد، بہترین جلد بندی کے ساتھ چھپ کر باہر آ گئی۔ کیا کوئی ذی شعور انسان اسے مان سکتا ہے؟

سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ "عنقریب ہم انہیں آفاق (کائنات کے کناروں) میں بھی اپنی نشانیاں دکھائیں گے اور ان کی اپنی ذات (انفس) میں بھی۔۔۔ یہاں تک کہ ان پر کھل جائے گا کہ یہی (قرآن) حق ہے۔" سورہ حم السجدہ (41:53)
روحانی نتیجہ

سائنس خدا کی حریف نہیں، بلکہ خدا کی گواہ ہے۔ ٹیلی سکوپ اللہ کی عظمت کو بڑا کر کے دکھاتی ہے اور مائیکرو سکوپ اللہ کی کاریگری کی باریکیوں کو نمایاں کرتی ہے۔ ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں "یقین" حاصل کرنا سب سے آسان ہے، بشرطیکہ ہم تعصب کی عینک اتار کر دیکھیں۔ آفاق کی وسعتیں ہوں یا انفس کی گہرائیاں، ہر ذرہ پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ یہ نظام لاوارث نہیں ہے۔

اب فیصلہ آپ کا ہے: کیا یہ کائنات محض ایک حادثہ ہے، یا ایک عظیم رب کا شاہکار؟ ✨

No comments:

Post a Comment

Post Top Ad