اللہ کی نشانیاں

🌟 آج کی آیت

لوڈ ہو رہا ہے...

Friday, November 14, 2025

جیمز ویب ٹیلی سکوپ: کائنات کے ماضی کا سفر اور قدرت کی نشانیاں

جیمز ویب ٹیلی سکوپ: 🌌
کائنات کے ماضی کا سفر اور قدرت کی نشانیاں

آج کی جدید سائنس ہمیں کائنات کے ان گوشوں تک لے گئی ہے جہاں انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ نئی نسل کی خلائی دوربینیں، خاص طور پر جیمز ویب اسپیس ٹیلی سکوپ (James Webb Space Telescope)، اتنی طاقتور ہیں کہ وہ ایسی روشنی کو بھی دیکھ سکتی ہیں جو ۱۳ ارب سال پہلے اپنے منبع سے چلی تھی اور اب زمین تک پہنچی ہے۔ 🌍✨

جیمز ویب دوربین سے لی گئی کائنات کی قدیم ترین تصویر - اللہ کی نشانیاں

🕰️ وقت کا سفر اور روشنی کی رفتار

یہ بات سمجھنا انتہائی دلچسپ ہے کہ چونکہ روشنی کو سفر کرنے میں وقت لگتا ہے، اس لیے جب ہم ان دور دراز ستاروں کو دیکھتے ہیں تو ہم دراصل انہیں اس حالت میں نہیں دیکھ رہے ہوتے جو آج ہے، بلکہ ہم کائنات کے ماضی میں جھانک رہے ہوتے ہیں۔ 🔭

ہم کائنات کو اُس وقت کی حالت میں دیکھ رہے ہیں جب پہلی بار ستارے اور کہکشائیں بننی شروع ہوئی تھیں۔ گویا اللہ تعالیٰ نے روشنی کی رفتار کے ذریعے ہمیں کائنات کی "تخلیقی تاریخ" (Creation History) کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا موقع فراہم کیا ہے۔

سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ "عنقریب ہم انہیں اپنی نشانیاں آفاق (کائنات کے کناروں) میں بھی دکھائیں گے اور خود ان کے اپنے وجود میں بھی، یہاں تک کہ ان پر یہ بات کھل جائے گی کہ یہ (قرآن) بالکل حق ہے۔" سورۃ فصلت: 53 🌿

🌌 "الغیب" اور انفرا ریڈ شعاعیں

جیمز ویب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ انفرا ریڈ روشنی (Infrared Light) کو محسوس کر سکتی ہے۔ یہ وہ روشنی ہے جو عام انسانی آنکھ سے نظر نہیں آتی اور نہ ہی پرانی دوربینیں اسے دیکھنے کی صلاحیت رکھتی تھیں۔ 👁️‍🗨️

کائنات میں بہت سی چیزیں گرد و غبار (Cosmic Dust) کے بادلوں میں چھپی ہوئی ہیں۔ انفرا ریڈ شعاعیں ان بادلوں کے آر پار دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس ٹیکنالوجی نے ماہرینِ فلکیات کو یہ جاننے میں مدد دی ہے کہ کائنات کی شروعات میں روشنی، مادّہ اور چیزوں کی ترتیب کیسے بنی۔ یہ اللہ کی صفت "الباطن" (چھپا ہوا) کی ایک ادنیٰ سی جھلک ہے کہ کس طرح وہ چھپی ہوئی چیزوں کو ظاہر فرماتا ہے۔

انفرا ریڈ روشنی میں کائنات کا منظر - سائنس اور اسلام

🧪 کائنات کی کیمیائی ترتیب اور توازن

یہ دوربینیں صرف تصویریں نہیں لیتی بلکہ ستاروں اور سیاروں کی کیمیائی ساخت کا بھی تجزیہ کرتی ہیں۔ یہ دیکھنا کہ اربوں سال پہلے کیسے ہائیڈروجن اور ہیلیم سے مل کر ستارے بنے اور پھر ان کے پھٹنے سے وہ عناصر وجود میں آئے جن سے ہمارا جسم بنا ہے، ایک حیران کن عمل ہے۔ 🧬
یہ سب ایک بہترین اور باریک بینی سے طے شدہ نظام (Fine-Tuned System) کی نشاندہی کرتا ہے، جسے چلانے والی ذات یقیناً اللہ رب العزت کی ہے۔

مَّا تَرَىٰ فِي خَلْقِ الرَّحْمَٰنِ مِن تَفَاوُتٍ ۖ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَىٰ مِن فُطُورٍ "تم رحمان کی تخلیق میں کوئی بے ربطی نہ دیکھو گے، پھر نگاہ دوڑا کر دیکھو، کیا تمہیں کوئی شگاف نظر آتا ہے؟" سورۃ الملک: 3 ☁️
🌿 روحانی نتیجہ (Reflection) جیمز ویب ٹیلی سکوپ نے کائنات کی وسعت کو ہمارے سامنے کھول کر رکھ دیا ہے۔ جب ہم اربوں سال پرانی روشنی کو دیکھتے ہیں، تو ہمیں اپنی کم مائیگی اور اللہ کی کبریائی کا شدت سے احساس ہوتا ہے۔ سائنس کائنات کے "کیسے" (How) کا جواب دے رہی ہے، لیکن قرآن ہمیں "کیوں" (Why) اور "کس نے" (Who) کا جواب دیتا ہے۔
یہ دوربینیں درحقیقت ہماری آنکھیں کھول رہی ہیں تاکہ ہم خالقِ کائنات کی کاریگری کو پہچان سکیں اور بے اختیار پکار اٹھیں:
"اے ہمارے رب! تو نے یہ سب بے مقصد پیدا نہیں کیا۔"
"کائنات کی وسعتوں میں غور و فکر کرنا بھی ایک عبادت ہے۔"

اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی تو اسے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں اور کمنٹ میں سبحان اللہ لکھیں۔ 👇

No comments:

Post a Comment

Post Top Ad