کائنات کے سربستہ راز: وہ حقائق جن سے سائنس اب تک پردہ نہیں اٹھا سکی
🌌 تعارف:
جب ہم رات کے وقت آسمان کی طرف دیکھتے ہیں تو ہمیں لاتعداد ستارے چمکتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ منظر جتنا خوبصورت ہے، اتنا ہی پرسرار بھی۔ انسانی فطرت ہمیشہ سے متجسس رہی ہے؛ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ ہم کہاں سے آئے ہیں؟ یہ کائنات کیسے وجود میں آئی؟ اور اس کی آخری سرحد کیا ہے؟
پچھلی چند صدیوں میں سائنس نے حیرت انگیز ترقی کی ہے۔ ہم نے ایٹم کے اندر جھانک لیا ہے اور دور دراز کہکشاؤں کی تصاویر حاصل کر لی ہیں۔ لیکن، سچائی یہ ہے کہ جتنا ہم جانتے ہیں، وہ اس کے مقابلے میں ریت کے ایک ذرے کے برابر ہے جو ہم "نہیں جانتے"۔ آج ہم کائنات کے اُن عظیم رازوں کا ذکر کریں گے جو آج بھی جدید سائنس کے لیے "لا ینحل معمہ" بنے ہوئے ہیں اور دیکھیں گے کہ قرآن مجید ان حقائق کی طرف کیسے اشارہ کرتا ہے۔
1. ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی: کائنات کا پوشیدہ 95 فیصد
🔭 کیا آپ یقین کریں گے کہ ہم پوری کائنات کا صرف 5 فیصد حصہ دیکھ سکتے ہیں؟ جی ہاں! ستارے، سیارے، گیس، غبار، اور یہاں تک کہ ہم خود—یہ سب مل کر کائنات کا صرف 5 فیصد بناتے ہیں۔ باقی 95 فیصد کیا ہے؟ سائنسدان اسے "ڈارک میٹر" (Dark Matter) اور "ڈارک انرجی" (Dark Energy) کا نام دیتے ہیں۔
یہ وہ نادیدہ قوتیں اور مادے ہیں جو ہمیں نظر نہیں آتے، نہ ہی یہ روشنی خارج کرتے ہیں، مگر ان کا اثر پوری کائنات پر ہے۔ ڈارک میٹر کہکشاؤں کو بکھرنے سے روکتا ہے جیسے کوئی "غیب کا ہاتھ" انہیں تھامے ہوئے ہو، جبکہ ڈارک انرجی کائنات کو تیزی سے پھیلا رہی ہے۔ سائنس آج تک یہ نہیں جان سکی کہ یہ اصل میں "ہیں کیا"؟
💭 غور کیجیے! قرآن نے چودہ سو سال پہلے "غیر مرئی ستونوں" (بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا) کا ذکر کیا۔ کیا یہ کششِ ثقل (Gravity) اور ڈارک میٹر کی طرف اشارہ نہیں ہے جو کائنات کے نظام کو تھامے ہوئے ہے مگر ہمیں نظر نہیں آتا؟ یہ اللہ کی وہ نشانیاں ہیں جو بتاتی ہیں کہ نظامِ ہستی خود بخود نہیں چل رہا بلکہ اسے کوئی "حی و قیوم" ذات سنبھالے ہوئے ہے۔
2. بگ بینگ سے پہلے کیا تھا؟ (Singularity کا معمہ)
🕰️ سائنس کہتی ہے کہ کائنات کا آغاز "بگ بینگ" (Big Bang) سے ہوا۔ یعنی ایک بہت بڑا دھماکہ جس سے وقت اور مادہ وجود میں آیا۔ لیکن سائنس کا سب سے بڑا سوال یہ ہے: "اس دھماکے سے پہلے کیا تھا؟"
طبیعیات (Physics) کے قوانین بگ بینگ کے لمحے پر آکر ٹوٹ جاتے ہیں۔ سائنسدان کہتے ہیں کہ وقت ہی بگ بینگ سے شروع ہوا، لہذا "پہلے" کا سوال بے معنی ہے۔ لیکن انسانی عقل یہ تسلیم نہیں کرتی کہ "کچھ نہیں" (Nothingness) سے اچانک "سب کچھ" (Everything) وجود میں آگیا۔ یہاں سائنس خاموش ہے اور فلسفہ و مذہب بولتے ہیں۔
🌿 یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ وقت اور مادہ اللہ کی تخلیق ہیں، لیکن اللہ وقت کی قید سے آزاد ہے۔ وہ "الاول" ہے، یعنی جب کچھ نہ تھا، تب بھی وہ تھا۔ بگ بینگ سے "پہلے" کا معمہ صرف اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے حل ہوتا ہے کہ کائنات کا ایک خالق ہے جو خود مخلوق کے قوانین (Physics) کا پابند نہیں۔
3. کائنات کی وسعت اور ملٹی ورس (Multiverse)
🚀 ہماری کائنات مسلسل پھیل رہی ہے۔ دور دراز کہکشائیں ہم سے روشنی کی رفتار سے بھی زیادہ تیزی سے دور جا رہی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ کس چیز کے اندر پھیل رہی ہے؟ کیا کائنات کا کوئی کنارہ (Edge) ہے؟
جدید سائنس اب "ملٹی ورس" (Multiverse) کا نظریہ پیش کر رہی ہے، یعنی ہماری کائنات جیسی شاید اربوں اور کائناتیں موجود ہوں جو بلبلوں کی طرح تیر رہی ہیں۔ ہم صرف اپنی کائنات (Observable Universe) کی حد تک دیکھ سکتے ہیں، اس کے باہر کیا ہے؟ یہ آج تک ایک راز ہے۔
💎 "وإنا لموسعون" (ہم ہی وسعت دینے والے ہیں)۔ یہ الفاظ آج کی جدید کاسمولوجی (Cosmology) کا نچوڑ ہیں۔ 14 صدیاں پہلے جب ٹیلی سکوپ کا وجود نہ تھا، قرآن نے کائنات کے پھیلنے (Expansion of Universe) کا واضح اعلان کیا۔ یہ وسعت انسانی تخیل سے باہر ہے اور یہ اللہ کی کبریائی کا ایک چھوٹا سا مظہر ہے۔
4. بلیک ہولز: جہاں فزکس ختم ہوتی ہے
🕳️ بلیک ہولز کائنات کے سب سے پراسرار اجسام ہیں۔ یہ اتنے طاقتور ہیں کہ روشنی بھی ان سے بچ کر نہیں نکل سکتی۔ ان کے مرکز میں "Singularity" ہوتی ہے، ایک ایسا مقام جہاں مادے کی کثافت لامتناہی (Infinite) ہو جاتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ بلیک ہول کے اندر جانے والی معلومات (Information) کہاں جاتی ہیں؟ کیا وہ فنا ہو جاتی ہیں یا کسی اور کائنات میں نکل جاتی ہیں؟ اسے "Information Paradox" کہا جاتا ہے اور یہ جدید سائنس کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔
شعور (Consciousness): سب سے بڑا اندرونی راز
🧠 کائنات کے بیرونی رازوں کے ساتھ ساتھ، ایک راز ہمارے اپنے اندر ہے۔ "شعور" کیا ہے؟ ہم "میں" ہونے کا احساس کیسے رکھتے ہیں؟ دماغ تو گوشت اور خلیات کا مجموعہ ہے، اس میں خیالات، جذبات اور "روح" کہاں سے آتی ہے؟ سائنس اسے "The Hard Problem of Consciousness" کہتی ہے اور اعتراف کرتی ہے کہ شاید اس کا جواب مادی دنیا میں موجود ہی نہیں ہے۔
خلاصہ: علم کی حد اور اللہ کی معرفت
سائنس کی تمام تر ترقی کے باوجود، ہم آج بھی کائنات کے سمندر کے کنارے کھڑے چند سیپیاں چن رہے ہیں۔ ڈارک میٹر، ڈارک انرجی، روح کی حقیقت، اور کائنات کا انجام—یہ وہ راز ہیں جو ہمیں عاجزی سکھاتے ہیں۔
یہ "لاعلمی" دراصل مایوسی نہیں، بلکہ ایک دعوتِ فکر ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کائنات کے پیچھے ایک ایسی علیم و حکیم ہستی کارفرما ہے جس کا علم لامحدود ہے۔ جہاں سائنس کی حدود ختم ہوتی ہیں، وہیں سے ایمان کا سفر شروع ہوتا ہے۔ کائنات کے یہ سربستہ راز پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ یہ سب بے مقصد نہیں ہے۔
No comments:
Post a Comment