اہرامِ مصر: صحرا میں ایستادہ پراسرار پہرے دار
(سائنسی، تاریخی اور قرآنی تجزیہ)
دنیا کے عجائبات کا ذکر ہو اور اہرامِ مصر کا نام نہ آئے، یہ ناممکن ہے۔ مصر کے تپتے صحرا میں ہزاروں سال سے سینہ تانے کھڑی یہ فلک بوس عمارتیں آج بھی انسانی عقل کو دنگ کر دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ 🏜️ یہ صرف پتھروں کے ڈھیر نہیں ہیں، بلکہ یہ قدیم مصریوں کی انجینئرنگ، علمِ نجوم، ریاضی اور مذہبی عقائد کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ لیکن بطور مسلمان، جب ہم ان آثار کو دیکھتے ہیں، تو ہماری نظر صرف ان کی ظاہری شان و شوکت پر نہیں رکتی، بلکہ ہم ان کے پیچھے چھپی اس "عبرت" کو تلاش کرتے ہیں جس کا حکم ہمیں ہمارا رب دیتا ہے۔۔۔
✦ • ✦ • ✦
اہرام کی تعمیر: انسانی عقل کا شاہکار یا جنات کا کام؟ 🏗️
اہرامِ مصر، خاص طور پر "خوفو کا ہرم" (Great Pyramid of Giza)، تعمیراتی تاریخ کا ایک ایسا معمہ ہے جسے آج کی جدید سائنس بھی مکمل طور پر حل کرنے سے قاصر ہے۔ 💭 عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ یہ اہرام تقریباً 4500 سال قبل تعمیر کیے گئے تھے۔ سب سے بڑا ہرم تقریباً 23 لاکھ پتھروں کے بلاکس سے بنا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک بلاک کا وزن 2 سے 30 ٹن تک ہے، اور کچھ پتھر تو 50 ٹن سے بھی زیادہ وزنی ہیں!
کچھ حیران کن حقائق جو عقل کو دنگ کر دیں:
- 🔹 پتھروں کی نقل و حمل: قدیم زمانے میں جب پہیہ یا جدید کرینیں موجود نہیں تھیں، اتنے بھاری پتھر سینکڑوں میل دور سے کیسے لائے گئے؟ اور پھر انہیں سینکڑوں فٹ بلندی تک کیسے پہنچایا گیا؟
- 🔹 شمالی قطب سے ہم آہنگی: اہرامِ مصر کی سمت بندی (Alignment) اتنی درست ہے کہ یہ قطب شمالی (True North) کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ ہزاروں سال پہلے کمپاس کے بغیر یہ درستگی کیسے ممکن ہوئی؟
- 🔹 ستاروں کا عکس: گیزا کے تینوں بڑے اہرام آسمان پر موجود "اورین بیلٹ" (Orion Belt) کے تین ستاروں کی ترتیب کے عین مطابق زمین پر بنائے گئے ہیں۔ 🌌
✦ • ✦ • ✦
کیا قرآن نے اہرام کی تعمیر کا راز کھول دیا ہے؟ 📖
صدیوں سے مؤرخین یہ بحث کرتے رہے ہیں کہ اتنے بڑے پتھر کاٹ کر کیسے لائے گئے؟ لیکن حال ہی میں ڈیوڈ ڈیوڈوٹس (Davidovits) نامی ایک سائنسدان نے یہ نظریہ پیش کیا کہ یہ پتھر قدرتی پہاڑوں سے کاٹے نہیں گئے تھے، بلکہ انہیں وہیں "مٹی کو پکا کر" (Geopolymer Concrete) سانچوں میں ڈھالا گیا تھا۔ یہ نظریہ اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ پتھروں کے درمیان جوڑ اتنے باریک کیوں ہیں کہ ان میں ایک بال بھی نہیں گزر سکتا۔
اب ذرا قرآنِ کریم کی طرف آئیے! چودہ سو سال پہلے، جب دنیا جیالوجی اور پولیمر سائنس سے ناواقف تھی، قرآن نے فرعون کے وزیر "ہامان" کو دی گئی ہدایت کا ذکر کس طرح کیا ہے۔ یہ آیت پڑھ کر آپ کا ایمان تازہ ہو جائے گا:
وَقَالَ فِرْعَوْنُ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ مَا عَلِمْتُ لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرِي فَأَوْقِدْ لِي يَا هَامَانُ عَلَى الطِّينِ فَاجْعَل لِّي صَرْحًا لَّعَلِّي أَطَّلِعُ إِلَىٰ إِلَٰهِ مُوسَىٰ وَإِنِّي لَأَظُنُّهُ مِنَ الْكَاذِبِينَ
"اور فرعون نے کہا: اے درباریو! میں اپنے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں جانتا۔ تو اے ہامان! میرے لیے مٹی کو آگ پر پکاؤ (اینٹیں بناؤ)، پھر میرے لیے ایک اونچی عمارت بناؤ تاکہ میں موسیٰ کے خدا کو جھانک کر دیکھوں، اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں۔"
(سورۃ القصص: 38)
سبحان اللہ! 🌿 قرآن نے 1400 سال پہلے "مٹی کو آگ پر پکانے" (Baked Clay) کا ذکر کیا، جو کہ آج کی جدید تحقیق سے عین مطابقت رکھتا ہے کہ شاید اہرام کے بڑے بلاکس قدرتی پتھر نہیں بلکہ اسی طرح کی کوئی تکنیک استعمال کرکے بنائے گئے تھے۔ یہ اللہ کی نشانی نہیں تو اور کیا ہے؟
✦ • ✦ • ✦
ریاضی اور جغرافیہ کے کمالات 📐
اہرام صرف قبریں نہیں ہیں، بلکہ یہ ریاضی (Mathematics) کی ایک کھلی کتاب ہیں۔
🔸 اگر آپ بڑے ہرم کے دائرے (Perimeter) کو اس کی اونچائی سے تقسیم کریں، تو جواب 2Pi (3.14) آتا ہے۔ یہ "Pi" کی قدر ہے جسے جدید ریاضی نے بہت بعد میں دریافت کیا۔
🔸 ہرمِ خوفو دنیا کے زمینی رقبے کے عین جغرافیائی مرکز (Geographical Center of Earth) میں واقع ہے۔ یہ مقام دنیا کے مشرق اور مغرب کو برابر حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔
🔸 حیرت انگیز طور پر، اہرام کے اندر کا درجہ حرارت باہر کے شدید صحرائی موسم کے باوجود مستقل 20 ڈگری سینٹی گریڈ رہتا ہے، جو زمین کا اوسط درجہ حرارت ہے۔
🔸 اگر آپ بڑے ہرم کے دائرے (Perimeter) کو اس کی اونچائی سے تقسیم کریں، تو جواب 2Pi (3.14) آتا ہے۔ یہ "Pi" کی قدر ہے جسے جدید ریاضی نے بہت بعد میں دریافت کیا۔
🔸 ہرمِ خوفو دنیا کے زمینی رقبے کے عین جغرافیائی مرکز (Geographical Center of Earth) میں واقع ہے۔ یہ مقام دنیا کے مشرق اور مغرب کو برابر حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔
🔸 حیرت انگیز طور پر، اہرام کے اندر کا درجہ حرارت باہر کے شدید صحرائی موسم کے باوجود مستقل 20 ڈگری سینٹی گریڈ رہتا ہے، جو زمین کا اوسط درجہ حرارت ہے۔
✦ • ✦ • ✦
فرعون کا تکبر اور اللہ کی پکڑ ☁️
ان اہرام کو بنانے کا مقصد کیا تھا؟ فراعینِ مصر کا عقیدہ تھا کہ مرنے کے بعد وہ دیوتا بن جائیں گے، اس لیے انہوں نے اپنے جسموں کو حنوط (Mummify) کیا اور یہ عظیم الشان مقبرے بنائے۔ وہ سمجھتے تھے کہ ان کے خزانے اور یہ مضبوط عمارتیں انہیں ہمیشہ زندہ رکھیں گی۔
لیکن آج وہ کہاں ہیں؟
فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ۖ أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً ۖ وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يَجْحَدُونَ
"رہے عاد، تو وہ زمین میں ناحق تکبر کرنے لگے اور کہنے لگے کہ ہم سے زیادہ طاقت میں کون ہے؟ کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ وہ اللہ جس نے انہیں پیدا کیا ہے، وہ طاقت میں ان سے بہت زیادہ ہے؟ اور وہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے رہے۔"
(سورۃ فصلت: 15)
فرعون نے خدائی کا دعویٰ کیا، بڑی بڑی عمارتیں بنائیں، لیکن اللہ نے اسے پانی کی لہروں میں غرق کر دیا اور اس کے جسم کو آنے والی نسلوں کے لیے "نشانی" بنا کر محفوظ کر دیا۔ آج لاکھوں سیاح ان اہرام کو دیکھنے جاتے ہیں، لیکن وہ وہاں کسی بادشاہ کی تعظیم کے لیے نہیں جاتے، بلکہ پتھروں کے ڈھیر دیکھنے جاتے ہیں۔ وہ جسم جو کبھی "میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں" (انا ربکم الاعلیٰ) کا نعرہ لگاتا تھا، آج میوزیم میں شیشے کے تابوت میں بے بس پڑا ہے۔
✦ • ✦ • ✦
سائنسی تحقیق اور اسلامی نقطہ نظر کا سنگم 🔬
جدید سائنس جتنی ترقی کر رہی ہے، اتنے ہی راز ان اہرام کے کھل رہے ہیں۔ کچھ محققین کا ماننا ہے کہ اہرام بجلی پیدا کرنے کے لیے یا توانائی کے مراکز (Power Plants) کے طور پر بھی استعمال ہو سکتے تھے۔ ان کے اندر گرینائٹ کے چیمبرز اور سرنگوں کا پیچیدہ نظام کسی عام مقبرے سے کہیں بڑھ کر ہے۔
لیکن ایک مسلمان کے لیے اصل سبق یہ ہے کہ علم اور ٹیکنالوجی اللہ کی دین ہے۔ اللہ نے ان قوموں کو بھی بے پناہ علم دیا تھا، شاید ہم سے بھی زیادہ۔ لیکن جب انہوں نے اس علم پر تکبر کیا اور اللہ کی آیات کو جھٹلایا، تو وہ علم انہیں بچا نہ سکا۔
لیکن ایک مسلمان کے لیے اصل سبق یہ ہے کہ علم اور ٹیکنالوجی اللہ کی دین ہے۔ اللہ نے ان قوموں کو بھی بے پناہ علم دیا تھا، شاید ہم سے بھی زیادہ۔ لیکن جب انہوں نے اس علم پر تکبر کیا اور اللہ کی آیات کو جھٹلایا، تو وہ علم انہیں بچا نہ سکا۔
✨ روحانی نتیجہ (Conclusion) ✨
اہرامِ مصر کی بلند و بالا چوٹیاں ہمیں یہ یاد دلاتی ہیں کہ انسان چاہے پتھروں کو موم کر دے، ہواؤں کو تسخیر کر لے، اور آسمان کے ستاروں تک پہنچ جائے، اس کی حیثیت اپنے خالق کے سامنے عاجز بندے سے زیادہ کچھ نہیں۔
یہ عمارتیں "طاقت" کا نہیں بلکہ "فنا" کا نشان ہیں۔ یہ گواہی دیتی ہیں کہ بادشاہت صرف اللہ کی ہے جو ہمیشہ رہنے والا ہے۔ باقی سب مٹ جانے والا ہے۔ ہمیں اپنی صلاحیتوں اور ٹیکنالوجی پر غرور کرنے کے بجائے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور ان قوموں کے انجام سے عبرت پکڑنی چاہیے۔
یہ عمارتیں "طاقت" کا نہیں بلکہ "فنا" کا نشان ہیں۔ یہ گواہی دیتی ہیں کہ بادشاہت صرف اللہ کی ہے جو ہمیشہ رہنے والا ہے۔ باقی سب مٹ جانے والا ہے۔ ہمیں اپنی صلاحیتوں اور ٹیکنالوجی پر غرور کرنے کے بجائے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور ان قوموں کے انجام سے عبرت پکڑنی چاہیے۔
"زمین پر اکڑ کر نہ چل، بے شک تو نہ زمین کو پھاڑ سکتا ہے اور نہ بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ سکتا ہے۔" (القرآن)
تحقیق و تحریر: Allah Signs Team | جملہ حقوق محفوظ نہیں، صدقہ جاریہ کے طور پر شیئر کریں 🌿
No comments:
Post a Comment