🚢 عجائباتِ قرآن 🚢
حضرت نوحؑ کی کشتی: نجات کا وہ سفینہ جو آج بھی رواں ہے
قرآن مجید، اللہ رب العزت کا وہ ابدی کلام ہے جو محض ایک کتابِ ہدایت ہی نہیں، بلکہ آیات و نشانیوں کا ایک ایسا بے کراں سمندر ہے جس کی ہر موج میں غور و فکر کرنے والوں کے لیے حکمت کے ہزاروں موتی پنہاں ہیں۔ یہ ہمیں ماضی کی اُن قوموں کے قصے سناتا ہے جو عروج و زوال سے گزریں، تاکہ ہم، جو آج اس زمین پر بس رہے ہیں، ان کے انجام سے عبرت حاصل کریں۔ ان قصوں میں سے ایک، جو اپنی ہیبت، اپنے سبق اور اپنے روحانی پیغام میں بے مثال ہے، وہ حضرت نوح علیہ السلام اور ان کی کشتی کا واقعہ ہے۔ 💭
جب ہم "کشتیِ نوح" کا ذکر سنتے ہیں، تو ہمارے ذہن میں ایک بہت بڑے طوفان، جانوروں کے جوڑوں، اور ایک بہت بڑی لکڑی کی کشتی کا تصور آتا ہے۔ لیکن قرآن اس واقعے کو محض ایک تاریخی داستان کے طور پر بیان نہیں کرتا۔ قرآن اسے ایک "آیت" یعنی ایک زندہ نشانی قرار دیتا ہے۔ یہ ایک ایسا معجزہ ہے جو صرف اس دور کے کافروں کے لیے نہیں، بلکہ آج، اس جدید دور میں کھڑے ہر انسان کے لیے بھی اتنی ہی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ کشتی صرف پانی پر نہیں چلی تھی؛ یہ کشتی توکل، ایمان، اور وحیِ الٰہی کی طاقت پر چلی تھی۔
آج ہم اس بلاگ میں، قرآن حکیم کے اوراق سے حضرت نوح علیہ السلام کی اس مبارک کشتی کے ان عجائبات پر غور کریں گے، جو ہمیں بتاتے ہیں کہ یہ سفینہِ نجات آج بھی، فتنوں کے اس طوفانی دور میں، ہماری رہنمائی کے لیے موجود ہے۔
📖 مضامین کی فہرست
🌊 صدیوں کی پکار اور استہزاء کا طوفان
قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو ساڑھے نو سو سال (950) تک توحید کی دعوت دی۔ یہ انسانی تاریخ کی طویل ترین تبلیغی جدوجہد میں سے ایک ہے۔ ذرا تصور کیجیے! ایک نبی، نو صدیاں، ایک ہی پیغام... لیکن قوم کا جواب کیا تھا؟ ضد، ہٹ دھرمی، تکبر، اور مذاق۔ وہ اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیتے، اپنے چہروں پر کپڑے لپیٹ لیتے، اور اس نبیِ برحق کا تمسخر اڑاتے۔
یہ استہزاء اس وقت اپنے عروج پر پہنچا جب اللہ تعالیٰ نے اس طویل جدوجہد کے بعد، اپنے نبی کو ایک حکم دیا۔ ایک ایسا حکم جو ظاہری اسباب کی دنیا میں بالکل خلافِ عقل نظر آتا تھا۔
🚢 "ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی سے"
یہ وہ مرکزی نکتہ ہے جو کشتیِ نوح کو ایک انسانی کاوش سے بڑھ کر ایک ربانی معجزہ بناتا ہے۔ اللہ نے یہ نہیں کہا کہ "اے نوح! ایک کشتی بناؤ"۔ بلکہ فرمایا:
وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا وَلَا تُخَاطِبْنِي فِي الَّذِينَ ظَلَمُوا ۚ إِنَّهُم مُّغْرَقُونَ
"اور (اے نوح!) تم ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق کشتی بناؤ، اور مجھ سے ان لوگوں کے بارے میں (کوئی) بات نہ کرنا جنہوں نے ظلم کیا، بے شک وہ غرق کیے جانے والے ہیں۔"
(سورۃ ھود: 37)
غور کیجیے! "بِأَعْيُنِنَا" (ہماری آنکھوں کے سامنے) اور "وَوَحْيِنَا" (ہماری وحی کے مطابق)۔ یہ الفاظ اعلان کر رہے ہیں کہ اس کشتی کا ڈیزائن، اس کا مٹیریل، اس کی ساخت، سب کچھ براہِ راست اللہ کی نگرانی اور اس کی وحی کے تحت تھا۔ حضرت نوح علیہ السلام، جو شاید بڑھئی (Carpenter) نہ تھے، انہیں دنیا کی سب سے مضبوط اور بڑی کشتی بنانے کا حکم دیا جا رہا تھا، جو آنے والے عظیم ترین طوفان کا مقابلہ کر سکے۔
قوم کا ردِ عمل فوری تھا۔ وہ علاقہ جہاں وہ رہتے تھے، وہ کوئی ساحلی علاقہ نہ تھا، وہاں دور دور تک کوئی سمندر نہ تھا۔ وہ خشک زمین پر ایک نبی کو لکڑیاں اکٹھی کرتے اور ایک بہت بڑا جہاز بناتے دیکھ رہے تھے۔
وَيَصْنَعُ الْفُلْكَ وَكُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ مَلَأٌ مِّن قَوْمِهِ سَخِرُوا مِنْهُ ۚ قَالَ إِن تَسْخَرُوا مِنَّا فَإِنَّا نَسْخَرُ مِنكُمْ كَمَا تَسْخَرُونَ
"اور وہ (نوح) کشتی بنانے لگے، اور جب بھی ان کی قوم کے سردار ان کے پاس سے گزرتے تو ان کا مذاق اڑاتے. انہوں نے کہا: اگر تم ہم پر ہنستے ہو تو ہم بھی (عنقریب) تم پر اسی طرح ہنسیں گے جیسے تم ہنستے ہو۔"
(سورۃ ھود: 38)
یہ "ایمان بالغیب" کا عظیم ترین امتحان تھا۔ ایک طرف پوری قوم کا تمسخر، صدیاں بیت گئیں، کوئی طوفان تو دور کی بات، بارش کا نشان تک نہ تھا۔ دوسری طرف، اللہ کا حکم اور اس پر ایک نبی کا کامل یقین۔ یہ کشتی لکڑی اور کیلوں سے نہیں، یہ توکل اور یقین کے دھاگوں سے بُنی جا رہی تھی۔ 🌴
---🌪️ وہ طوفان جو صرف بارش نہیں تھا
قرآن مجید اس طوفان کی جو منظر کشی کرتا ہے، وہ خود ایک معجزہ ہے۔ یہ کوئی عام سیلاب نہیں تھا۔ یہ زمین و آسمان کا ایک ایسا ملن تھا جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ اللہ کے حکم سے، عذاب کا آغاز ہوا۔
قرآن کے الفاظ دیکھئے: ☁️
...حَتَّىٰ إِذَا جَاءَ أَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّورُ...
...
فَفَتَحْنَا أَبْوَابَ السَّمَاءِ بِمَاءٍ مُّنْهَمِرٍ ﴿١١﴾ وَفَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُيُونًا فَالْتَقَى الْمَاءُ عَلَىٰ أَمْرٍ قَدْ قُدِرَ ﴿١٢﴾
"یہاں تک کہ جب ہمارا حکمِ (عذاب) آ پہنچا اور تنور ابل پڑا...
...
تو ہم نے موسلا دھار بارش سے آسمان کے دروازے کھول دیئے۔ اور ہم نے زمین کو چشموں میں تبدیل کر دیا (پھاڑ دیا)، پس (دونوں) پانی اس کام کے لیے مل گئے جو مقدر ہو چکا تھا۔"
(سورۃ ھود: 40) اور (سورۃ القمر: 11-12)
"فَارَ التَّنُّورُ" (تنور ابل پڑا) — یہ ایک انوکھی تعبیر ہے۔ تنور، جو آگ کی جگہ ہے، وہاں سے پانی کا ابلنا اس بات کی نشانی تھا کہ عذاب اب اٹل ہے اور یہ کہ یہ پانی صرف اوپر سے نہیں، بلکہ زمین کے نیچے سے بھی پھوٹ رہا ہے۔
"وَفَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُيُونًا" (اور ہم نے زمین کو چشموں میں پھاڑ دیا)۔ گویا پوری زمین ایک ہی چشمہ بن گئی تھی۔ یہ صرف بارش نہیں تھی، یہ زمین کا اندرونی پانی (Magma-heated water) اور آسمان کا پانی (Torrential Rain) تھا، جو اللہ کے حکم سے ایک ہو گئے۔
🏔️ ایمان کا رشتہ بمقابلہ خون کا رشتہ
یہ طوفان صرف کافروں اور مومنوں کے درمیان امتیاز نہیں تھا؛ یہ ایمان اور کفر کے درمیان حتمی لکیر تھا۔ کشتی چل پڑی۔ قرآن اس منظر کو بیان کرتا ہے: "وَهِيَ تَجْرِي بِهِمْ فِي مَوْجٍ كَالْجِبَالِ" (اور وہ کشتی انہیں پہاڑوں جیسی موجوں میں لیے جا رہی تھی)۔
اس ہیبت ناک منظر کے درمیان، قرآن ایک باپ (نبی) اور اس کے کافر بیٹے کے درمیان ہونے والے آخری مکالمے کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیتا ہے۔ یہ قرآن کے عجائبات میں سے ایک ہے، جو بتاتا ہے کہ اللہ کے نزدیک اصل رشتہ خون کا نہیں، ایمان کا ہے۔
حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو، جو الگ کھڑا تھا، پکارا: "اے میرے بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں کے ساتھ نہ رہ۔"
اس نے جواب دیا: "میں ابھی کسی پہاڑ کی پناہ لے لوں گا جو مجھے پانی سے بچا لے گا۔"
نبیِ وقت نے فرمایا: "آج اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں، سوائے اس کے جس پر وہ رحم فرمائے۔" اور پھر، ایک پہاڑ جیسی موج دونوں کے درمیان حائل ہو گئی، اور وہ غرق ہونے والوں میں سے ہو گیا۔
ایک باپ کی محبت تڑپی۔ انہوں نے اپنے رب کو پکارا:
وَنَادَىٰ نُوحٌ رَّبَّهُ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي وَإِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَأَنتَ أَحْكَمُ الْحَاكِمِينَ
"اور نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب کو پکارا اور عرض کیا: اے میرے رب! بے شک میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہے اور یقیناً تیرا وعدہ سچا ہے اور تُو سب حاکموں سے بڑا حاکم ہے۔"
(سورۃ ھود: 45)
اللہ تعالیٰ کا جواب، جو قیامت تک کے لیے ایک اصول بن گیا، دلوں کو ہلا دینے والا ہے:
قَالَ يَا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ ۖ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ ۖ فَلَا تَسْأَلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ۖ إِنِّي أَعِظُكَ أَن تَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ
"فرمایا: اے نوح! وہ تیرے اہل میں سے نہیں ہے۔ بے شک اس کے عمل اچھے نہ تھے۔ پس مجھ سے اس بات کا سوال نہ کر جس کا تجھے علم نہیں، میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ نادانوں میں سے نہ ہو جا۔"
(سورۃ ھود: 46)
سبحان اللہ! اللہ نے واضح کر دیا کہ "اہل" یا "خاندان" وہ نہیں جو خون کے رشتے سے جڑا ہو، بلکہ وہ ہے جو "ایمان" کے رشتے سے جڑا ہو۔ یہ کشتیِ نوح کا سب سے بڑا سبق ہے: نجات کا معیار نسب نہیں، عمل اور عقیدہ ہے۔ 💔
---⛰️ قرآن کا جغرافیائی معجزہ: کوہِ جُودی
طوفان تھم گیا۔ اللہ نے زمین کو حکم دیا کہ اپنا پانی نگل لے اور آسمان کو حکم دیا کہ تھم جائے۔ کشتی، جو ایمان والوں اور ہر مخلوق کے جوڑوں کو پناہ دیے ہوئے تھی، اب ایک منزل پر آ ٹھہری۔
یہاں قرآن کا ایک اور اعجاز دیکھئے۔ دنیا کی دیگر مذہبی روایات (بشمول بائبل) اس پہاڑ کا نام "ارارات" (Ararat) بتاتی ہیں۔ لیکن قرآن نے، جو ان تمام کتابوں کے بعد نازل ہوا اور جس کے نبی (ﷺ) امی تھے، ایک بالکل مختلف اور مخصوص نام لیا:
وَقِيلَ يَا أَرْضُ ابْلَعِي مَاءَكِ وَيَا سَمَاءُ أَقْلِعِي وَغِيضَ الْمَاءُ وَقُضِيَ الْأَمْرُ وَاسْتَوَتْ عَلَى الْجُودِيِّ ۖ وَقِيلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظَّالِمِينَ
"اور حکم دیا گیا: اے زمین! اپنا پانی نگل جا، اور اے آسمان! تھم جا۔ اور پانی خشک کر دیا گیا اور کام تمام کر دیا گیا، اور کشتی 'جُودی' پر جا ٹھہری، اور کہہ دیا گیا: دوری ہو ظالم قوم کے لیے۔"
(سورۃ ھود: 44)
قرآن نے "جُودی" کا نام لیا۔ چودہ سو سال تک دنیا اس پر زیادہ توجہ نہ دے سکی۔ لیکن آج جدید آرکیالوجی اور جغرافیہ کیا کہتا ہے؟ "کوہِ ارارات" (Mount Ararat) ایک آتش فشانی پہاڑ ہے، جہاں کسی قدیم کشتی کے ٹھہرنے کے آثار بہت کم ہیں۔ لیکن اس کے قریب، ترکی اور عراق کی سرحد پر، ایک اور پہاڑی سلسلہ ہے جسے آج بھی "جودی داغ" (Cudi Dağı) یا "کوہِ جودی" کہا جاتا ہے۔
کئی ماہرینِ آثارِ قدیمہ اور محققین، بشمول ران وائٹ (Ron Wyatt) اور دیگر، نے اس علاقے میں تحقیق کی ہے اور وہاں ایک بہت بڑی، کشتی نما ساخت (Boat-shaped formation) دریافت کی ہے، جس کی لمبائی اور چوڑائی بائبل میں مذکور کشتی کے عین مطابق ہے (قرآن نے پیمائش بیان نہیں کی)۔ اس مقام پر قدیم لکڑی کے فوسلز (Fossilized wood) اور دھاتی کیلوں (Metal rivets) کے شواہد بھی ملے ہیں۔
یہ قرآن کا ایک زندہ معجزہ ہے کہ اس نے چودہ سو سال پہلے اس مقام کی اتنی درست نشاندہی کی، جو اس وقت کسی کے علم میں نہ تھی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ کلام اس رب کا ہے جس نے اس کشتی کو بنایا، چلایا، اور ٹھہرایا تھا۔ 🌿
---🌿 "اور ہم نے اسے نشانی بنا دیا"
قرآن اس پورے واقعے کو سمیٹتے ہوئے ایک حتمی اعلان کرتا ہے۔ یہ واقعہ صرف تاریخ کا حصہ بننے کے لیے نہیں تھا، بلکہ اسے ایک ابدی نشانی (آیت) بنانا مقصود تھا۔
فَأَنجَيْنَاهُ وَأَصْحَابَ السَّفِينَةِ وَجَعَلْنَاهَا آيَةً لِّلْعَالَمِينَ
"پس ہم نے انہیں (نوح کو) اور کشتی والوں کو نجات دی اور ہم نے اس (کشتی، یا واقعے) کو تمام جہان والوں کے لیے ایک نشانی بنا دیا۔"
(سورۃ العنکبوت: 15)
کشتیِ نوح صرف لکڑی کا ایک ڈھانچہ نہیں تھی۔ وہ اس بات کی علامت تھی کہ جب اللہ بچانا چاہے، تو پہاڑ جیسی موجیں بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔ اور جب وہ پکڑنا چاہے، تو بلند ترین پہاڑ بھی پناہ نہیں دے سکتا۔
یہ کشتی اس بات کی نشانی ہے کہ نجات کا انحصار مادی اسباب پر نہیں، بلکہ اللہ کے حکم کی پیروی پر ہے۔ قوم کے سرداروں نے مذاق اڑایا تھا کہ اس خشک زمین پر یہ کشتی کیا کرے گی؟ لیکن جب عذاب آیا، تو یہی کشتی واحد پناہ گاہ ثابت ہوئی۔
یہ کشتی توحید کا مرکز تھی۔ اس میں صرف وہ سوار ہوئے جو ایک اللہ پر ایمان لائے۔ اس نے کفر اور ایمان کے درمیان ایک لکیر کھینچ دی۔
---💎 روحانی نتیجہ: آج کی کشتیِ نجات
میرے عزیز قارئین! آج ہم جس دور میں جی رہے ہیں، یہ بھی طوفانوں کا دور ہے۔ یہ طوفان پانی کا نہیں، بلکہ فتنوں کا ہے، نظریات کا ہے، الحاد کا ہے، بے حیائی کا ہے، اور مادیت پرستی کا ہے۔ ہر طرف سے شکوک و شبہات کی موجیں ہمارے ایمان کی کشتی سے ٹکرا رہی ہیں۔
ایسے میں، حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کا معجزہ ہمیں پکار کر کہتا ہے کہ نجات آج بھی ممکن ہے۔ لیکن نجات کے لیے ایک "کشتی" میں سوار ہونا شرط ہے۔
ہمارے پیارے نبی، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے فرمایا (جس کا مفہوم ہے): "میرے اہل بیت کی مثال نوح کی کشتی کی سی ہے، جو اس میں سوار ہو گیا وہ نجات پا گیا، اور جو اس سے پیچھے رہ گیا وہ غرق ہو گیا۔" (مشکوٰۃ المصابیح)
آج ہمارے لیے وہ کشتیِ نجات کیا ہے؟ وہ اللہ کی کتاب، قرآن مجید، اور اس کے رسول ﷺ کی سنتِ مبارکہ ہے۔ یہ وہ سفینہ ہے جسے "بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا" (اللہ کی نگرانی اور وحی) کے تحت بنایا گیا ہے۔ دنیا والے آج بھی اس کا مذاق اڑا سکتے ہیں، اسے پرانا کہہ سکتے ہیں، اسے جدید دور کے خلاف کہہ سکتے ہیں... لیکن جب فتنوں کا طوفان اپنے عروج پر پہنچے گا، تو نجات صرف اسی "کشتی" میں سوار ہونے والوں کو ملے گی۔
کشتیِ نوح کا عجوبہ صرف اس کا لکڑی کا ڈھانچہ یا اس کا کوہِ جودی پر ٹھہرنا نہیں؛ اس کا اصل معجزہ یہ ہے کہ یہ ہر دور کے انسان کو نجات کا راستہ دکھاتی ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ چاہے حالات کتنے ہی ناممکن کیوں نہ لگیں، اگر ہم اللہ کے حکم اور اس کی وحی (قرآن و سنت) کو مضبوطی سے تھام لیں گے، تو ہم بھی اس طوفان سے پار اتر جائیں گے۔
🌸 غور کرو، دیکھو، سوچو — تمہارے چاروں طرف اللہ کی قدرت کے جلوے ہیں 🌸

No comments:
Post a Comment