اللہ کی نشانیاں

🌟 آج کی آیت

لوڈ ہو رہا ہے...

Friday, October 24, 2025

بڑی عمر میں باپ بننا اور بچے کی صحت | سائنسی تحقیق | اللہ کی نشانیاں

بڑی عمر میں باپ بننا | سائنسی تحقیق اور اللہ کی نشانیاں

✨ بڑی عمر میں باپ بننا اور بچے کی صحت: سائنسی تحقیق اور اللہ کی نشانیاں ✨

بڑی عمر میں باپ بننا - سائنسی تحقیق اور اللہ کی نشانیاں

زندگی کا ہر لمحہ، ہر سانس، اور ہر تخلیق اُسی ایک خالق کے حکم کی پابند ہے۔ وہ جب چاہتا ہے، خزاں کو بہار اور بانجھ کو اولاد عطا کر دیتا ہے۔ آئیے! جدید سائنس کے آئینے میں اُسی کی قدرت کے جلوے دیکھتے ہیں۔


🌿 تعارف: زندگی، اسباب اور مسبب الاسباب

اللہ رب العزت نے اس کائنات کو اسباب کی دنیا بنایا ہے۔ یہاں ہر شے کا ایک ظاہری سبب موجود ہے۔ آگ جلاتی ہے، پانی پیاس بجھاتا ہے، اور جوانی میں قوت و توانائی زیادہ ہوتی ہے۔ یہ سب اُسی کے بنائے ہوئے قوانین ہیں۔ مگر ہم، بحیثیتِ اہل ایمان، یہ یقین رکھتے ہیں کہ یہ اسباب خود مختار نہیں ہیں۔ آگ اُسی وقت جلاتی ہے جب اللہ چاہتا ہے، اور پانی اُسی وقت پیاس بجھاتا ہے جب اُس کا حکم ہوتا ہے۔ اگر وہ نہ چاہے تو آگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے گلزار بن جاتی ہے۔

آج کی دنیا میں، جہاں علم اور سائنس نے بے پناہ ترقی کی ہے، ہم کبھی کبھی ان اسباب میں یوں کھو جاتے ہیں کہ ’مسبب الاسباب‘ یعنی ان سببوں کو پیدا کرنے والے سے ہی غافل ہونے لگتے ہیں۔ آج کا ہمارا موضوع بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ جدید طب اور سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ جیسے عورت کے لیے ماں بننے کی ایک مخصوص عمر زیادہ موزوں ہے، ویسے ہی مرد کے لیے بھی ایک حیاتیاتی گھڑی (Biological Clock) موجود ہے۔ سائنس ہمیں "ایڈوانسڈ پیٹرنل ایج" (Advanced Paternal Age) یعنی بڑی عمر میں باپ بننے کے کچھ طبی خطرات سے آگاہ کرتی ہے۔

یہ سائنسی رپورٹس اور تحقیقات اپنی جگہ درست ہو سکتی ہیں، کیونکہ یہ مشاہدات پر مبنی ہیں، لیکن کیا یہ ’حتمی‘ ہیں؟ کیا یہ اللہ کی قدرت پر حاوی ہو سکتی ہیں؟ اگر ایسا ہوتا تو آج دنیا میں کوئی حضرت اسحاقؑ یا حضرت یحییٰؑ نہ ہوتے۔ شیطان پوری کوشش کرتا ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ سے کاٹ دے۔ وہ کبھی ہمیں وظیفوں اور تعویذوں کے ذریعے شرک میں مبتلا کرنا چاہتا ہے اور کبھی سائنس اور اسباب کو ہی ’’خدا‘‘ بنا کر ہمارے سامنے پیش کر دیتا ہے تاکہ ہم اللہ کی قدرت سے مایوس ہو جائیں۔

آئیے، آج ہم سائنسی تحقیق کا جائزہ بھی لیتے ہیں اور پھر دیکھتے ہیں کہ ہمارا ایمان، ہمارا قرآن، اور ہمارے انبیاء کی زندگیاں ہمیں اس بارے میں کیا سبق دیتی ہیں۔ مقصد خوف پھیلانا نہیں، بلکہ ایمان کو تازہ کرنا ہے کہ ہر شے کا مالک، ہر صحت کا دینے والا، اور ہر تخلیق کا خالق صرف اللہ وحدہ لا شریک لہ ہے۔

🧬 سائنس کی نظر میں: بڑی عمر اور والد بننا

سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جدید سائنس اس معاملے کو کس نظر سے دیکھتی ہے۔ طبی ماہرین عموماً 40 یا 45 سال سے زائد عمر کے مردوں کو "Advanced Paternal Age" (APA) کے زمرے میں شمار کرتے ہیں۔ اگرچہ مرد، عورتوں کے برعکس، حیاتیاتی طور پر بڑی عمر تک اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن تحقیق یہ بتاتی ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ مرد کے تولیدی خلیات (Sperm) کے معیار میں کچھ تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں۔

یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ، جسم کے تمام خلیات کی طرح، تولیدی خلیات میں بھی نقائص پیدا ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ سائنسدان ان تبدیلیوں کو "ڈی نووو میوٹیشنز" (De Novo Mutations) کہتے ہیں۔ یہ جینیاتی تبدیلیاں ہوتی ہیں جو نہ ماں سے آتی ہیں نہ باپ سے، بلکہ بچے کی تخلیق کے عمل کے دوران باپ کے تولیدی خلیے میں عمر کی وجہ سے پیدا ہو جاتی ہیں۔

یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے ایک مشین پرانی ہونے پر اس کے پرزوں میں گھساوٹ آ جاتی ہے۔ یہ اللہ کا بنایا ہوا نظامِ اسباب ہے کہ جوانی کی قوت اور بڑھاپے کے ضعف میں فرق رکھا گیا ہے۔ سائنس ہمیں صرف یہ بتا رہی ہے کہ اسباب کی دنیا میں عمر کے کیا اثرات ’دیکھے‘ گئے ہیں۔

🔬 جدید تحقیق کے خطرات: کیا یہ حتمی ہیں؟

جب ہم سائنسی رپورٹس کا مطالعہ کرتے ہیں، تو کچھ مخصوص بیماریوں کا تعلق بڑی عمر کے والد سے جوڑا جاتا ہے۔ ان میں سب سے زیادہ ذکر آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر (Autism Spectrum Disorder) اور شیزوفرینیا (Schizophrenia) کا آتا ہے۔ کچھ تحقیقات یہ بھی کہتی ہیں کہ اس سے بچے کا پیدائشی وزن کم ہو سکتا ہے یا کچھ اور پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

یہاں ایک لمحے کے لیے رک کر سوچنے کی ضرورت ہے۔ یہ رپورٹس ’’امکانات‘‘ (Risks) کا ذکر کرتی ہیں، ’’یقین‘‘ (Certainty) کا نہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ خطرہ 0.5% سے بڑھ کر 1% ہو سکتا ہے۔ مگر 99% معاملات میں ایسا نہیں ہوتا! یہیں پر شیطان ہمیں وسوسے میں ڈالتا ہے۔ وہ ہمیں اس 1% کے خوف میں مبتلا کر کے 99% رحمت سے مایوس کر دیتا ہے۔

اگر یہ سائنسی اصول اتنے ہی حتمی اور اٹل ہوتے، تو ہر بڑی عمر کا باپ لازماً بیمار بچے کو جنم دیتا، اور ہر جوان باپ کا بچہ لازماً صحت مند ہوتا۔ مگر کیا حقیقت میں ایسا ہے؟ ہرگز نہیں۔ ہم روز اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ نوجوان جوڑوں کے ہاں بھی معذور بچے پیدا ہوتے ہیں اور پچاس سال کے صحت مند باپ کے ہاں بھی چاند سے بچے پیدا ہوتے ہیں۔ تو پھر اصل کنٹرول کس کے ہاتھ میں ہے؟

یہ رپورٹس اور یہ خطرات بالکل ویسے ہی ہیں جیسے کوئی نجومی یا عامل آپ کو مستقبل کا خوف دلائے۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہاں ’’سائنس‘‘ کا لبادہ اوڑھ لیا گیا ہے۔ اہل ایمان ان ’’اسباب‘‘ کو دیکھتا ہے، ان سے احتیاط بھی کرتا ہے، مگر اس کا بھروسہ ان رپورٹوں پر نہیں، بلکہ اُس رب پر ہوتا ہے جو ان رپورٹوں کو ایک لمحے میں بدل دینے پر قادر ہے۔

💭 غور کیجئے!

سائنس ’’مشاہدہ‘‘ کرتی ہے، ’’تخلیق‘‘ نہیں کرتی۔ وہ صرف یہ بتا سکتی ہے کہ ’’کیا ہو رہا ہے‘‘، یہ نہیں بتا سکتی کہ ’’کیوں ہو رہا ہے‘‘۔ وہ جینیاتی تبدیلی (Mutation) کو دیکھ سکتی ہے، مگر اس تبدیلی کو ’’حکم‘‘ دینے والے کو نہیں دیکھ سکتی۔ وہ صرف اللہ ہے!

☁️ فتنۂ عصرِ حاضر: جب سائنس یقین بن جائے

آج کا ایک بہت بڑا فتنہ ’’سائنس پرستی‘‘ (Scientism) ہے۔ یہ سائنس نہیں ہے، بلکہ سائنس کو خدا مان لینے کا نام ہے۔ یہ وہی سوچ ہے جو نمونۂ تحریر میں بیان کی گئی کہ لوگ عہدوں اور منصبوں کے لیے پیروں اور عاملوں کے پاس جاتے ہیں۔ آج کا ’’جدید‘‘ انسان انہی مسئلوں کے حل کے لیے ’’سائنسدانوں‘‘ اور ’’ڈاکٹروں‘‘ کے پاس اس یقین کے ساتھ جاتا ہے کہ جو یہ کہیں گے، وہی ہو گا۔ استغفراللہ!

اگر کوئی عامل یا نجومی کسی کو وزیراعظم بنانے کی طاقت رکھتا تو وہ خود کیوں نہ بن جاتا؟ اسی طرح، اگر کوئی ڈاکٹر یا جینیاتی ماہر (Geneticist) اولاد کی صحت کی ’’گارنٹی‘‘ دے سکتا، تو کیا ان ڈاکٹروں کے اپنے بچے کبھی بیمار نہیں پڑتے؟ کیا ان کے ہاں کبھی کوئی معذوری یا بیماری نہیں آتی؟

حقیقت یہ ہے کہ وہ بھی اتنے ہی بے بس ہیں جتنے ہم۔ وہ بھی اللہ کے بنائے ہوئے نظامِ اسباب کے پابند ہیں۔ وہ کوشش کر سکتے ہیں، دعا نہیں کر سکتے (اگر ایمان نہ ہو)۔ وہ دوا دے سکتے ہیں، شفا نہیں دے سکتے۔ شفا صرف اللہ دیتا ہے۔ وہ جینیاتی ٹیسٹ کر سکتا ہے، مگر جینز (Genes) میں صحت کا ’’حکم‘‘ نہیں ڈال سکتا۔

شیطان ہمیں ان سائنسی اصطلاحات (Syndromes, Mutations, Risks) سے ایسے ہی ڈراتا ہے جیسے پرانے وقتوں میں جادوگر اور کاہن ڈرایا کرتے تھے۔ اہل ایمان تب بھی اللہ کا نام لے کر ان فتنوں کا مقابلہ کرتے تھے اور آج بھی اہل ایمان ان سائنسی فتنوں کا مقابلہ ’’یقین‘‘ سے کرے گا۔ وہ ڈاکٹر کی رپورٹ کو اللہ کے ’’امر‘‘ (حکم) سے اوپر نہیں رکھے گا۔

دجال جب آئے گا تو وہ بھی تو اسباب ہی دکھائے گا۔ وہ بارش برسائے گا، رزق کے ڈھیر لگائے گا۔ یہ سب ’’ظاہری اسباب‘‘ ہوں گے۔ جو لوگ آج ظاہری اسباب (جیسے سائنسی رپورٹ) کو ہی سب کچھ سمجھتے ہیں، وہ دجال کے فتنے کا شکار آسانی سے ہو جائیں گے۔ مگر اہل ایمان تب بھی کہے گا کہ میرا رب وہ ہے جو اسباب کا محتاج نہیں۔ اللہ احد، اللہ الصمد۔

🌟 قرآن کا فیصلہ: اللہ کی قدرت عمر کی محتاج نہیں

جب سائنس اور اسباب کی دنیا ہمیں مایوس کرنے لگے، تو آئیے! اس کلام کی طرف چلتے ہیں جو شک اور وہم سے پاک ہے، جو اس کائنات کے خالق کا کلام ہے۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ عمر، جوانی، یا بڑھاپا اللہ کے ’’کُن‘‘ (ہو جا) کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں خاص طور پر بڑی عمر میں اولاد ہونے کے واقعات کو اپنی نشانی بنا کر پیش کیا ہے۔ یہ واقعات آج کے دور کے ہر اس مسلمان کے لیے تسلی ہیں جو سائنسی رپورٹیں پڑھ کر مایوس ہو جاتا ہے۔ یہ اس لیے بیان کیے گئے تاکہ ہمارا یقین پختہ ہو کہ ’’اسباب‘‘ اگر اجازت نہ بھی دیں، تب بھی ’’مسبب الاسباب‘‘ جب چاہے، اپنا حکم نافذ کر دیتا ہے۔

🕌 حضرت ابراہیم (ع) اور بڑھاپے کی بشارت

حضرت ابراہیم علیہ السلام، جو اللہ کے خلیل ہیں، ان کی ساری زندگی قربانی اور توکل کا نمونہ ہے۔ جب وہ اور ان کی اہلیہ حضرت سارہ علیہا السلام، دونوں ’’انتہائی بڑھاپے‘‘ کو پہنچ گئے، اس عمر کو جہاں آج کی سائنس اولاد کے ’’صفر امکان‘‘ (Zero Percent Chance) کی رپورٹ دیتی ہے، تب اللہ کے فرشتے بشارت لے کر آئے۔

حضرت سارہؑ کا ردِ عمل وہی تھا جو کوئی بھی انسان اسباب کی دنیا کو دیکھ کر دیتا۔ انہوں نے تعجب کا اظہار کیا۔

قَالَتْ يَا وَيْلَتَىٰ أَأَلِدُ وَأَنَا عَجُوزٌ وَهَٰذَا بَعْلِي شَيْخًا ۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ عَجِيبٌ

(وہ بولیں: ’’ہائے میری کم بختی! کیا میں اب بچہ جنوں گی، جبکہ میں خود بڑھیا ہوں اور یہ میرے شوہر بھی بوڑھے ہیں؟ یہ تو یقیناً بڑی عجیب بات ہے۔‘‘)

قَالُوا أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ ۖ رَحْمَتُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ ۚ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ

(فرشتوں نے کہا: ’’کیا تم اللہ کے حکم پر تعجب کرتی ہو؟ اے اہلِ بیت! تم پر اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہیں۔ بے شک وہ بڑی تعریف والا، بڑی شان والا ہے۔‘‘)

(سورۃ ھود: 72-73)

غور کیجئے! فرشتوں کا جواب کیا تھا؟ ’’أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ‘‘ (کیا تم اللہ کے حکم پر تعجب کرتی ہو؟)۔ آج جو مسلمان سائنسی رپورٹ دیکھ کر تعجب کرتا ہے یا مایوس ہوتا ہے، اسے بھی یہی جواب ہے کہ کیا تم اللہ کے ’’امر‘‘ پر تعجب کرتے ہو؟ سائنس ’’عمر‘‘ کو دیکھتی ہے، فرشتے ’’امرِ الٰہی‘‘ کو دیکھ رہے تھے۔

🤲 حضرت زکریا (ع) کی پکار اور معجزاتی عطا

دوسری عظیم مثال حضرت زکریا علیہ السلام کی ہے۔ وہ اسباب کے اعتبار سے مکمل طور پر مایوس کن حالت میں تھے۔ خود انتہائی بوڑھے، اور اہلیہ بانجھ (جو جوانی میں بھی ماں نہیں بن سکتی تھیں)۔ یہ سائنسی اعتبار سے ’’ڈبل ناممکن‘‘ (Double Impossibility) صورتحال تھی۔ مگر انہوں نے پکارا کس کو؟ مسبب الاسباب کو۔

قَالَ رَبِّ أَنَّىٰ يَكُونُ لِي غُلَامٌ وَكَانَتِ امْرَأَتِي عَاقِرًا وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِيًّا

(عرض کیا: ’’اے میرے رب! میرے ہاں لڑکا کیسے ہوگا جبکہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بڑھاپے کی انتہا کو پہنچ چکا ہوں؟‘‘)

قَالَ كَذَٰلِكَ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِن قَبْلُ وَلَمْ تَكُ شَيْئًا

(فرمایا: ’’ایسا ہی ہوگا! تمہارے رب نے فرمایا ہے کہ یہ مجھ پر آسان ہے، اور میں نے اس سے پہلے تمہیں پیدا کیا جب تم کچھ بھی نہیں تھے۔‘‘)

(سورۃ مریم: 8-9)

اللہ کا جواب سنیے! ’’هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ‘‘ (یہ مجھ پر آسان ہے)۔ جو کام آج کی سائنس کو ’’انتہائی خطرہ‘‘ (High Risk) یا ’’ناممکن‘‘ (Impossible) لگتا ہے، وہ اللہ کے لیے ’’آسان‘‘ ہے۔ وہ یاد دلا رہا ہے کہ میں نے تمہیں بھی تو تب پیدا کیا تھا جب تم ’’کچھ بھی نہیں‘‘ تھے۔ جو ’’عدم‘‘ (Nothingness) سے وجود بخش سکتا ہے، کیا اس کے لیے بڑھاپے میں صحت مند اولاد دینا مشکل ہے؟ ہرگز نہیں۔

یہ آیات آج کے ہر اس شخص کے لیے ہیں جو 40 یا 50 سال کی عمر میں اولاد کا خواہش مند ہے اور سائنسی رپورٹس اسے خوفزدہ کرتی ہیں۔ یہ آیات ہمیں بتاتی ہیں کہ تمہارا کام رپورٹیں پڑھ کر مایوس ہونا نہیں، بلکہ حضرت زکریاؑ کی طرح پکارنا ہے۔

⚖️ توازن کا راستہ: توکل اور اسباب کی حد

اس ساری بحث کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہم سائنس، طب اور احتیاط کو یکسر چھوڑ دیں۔ یہ بھی انتہاپسندی ہوگی۔ ہمارے پاک نبی حضرت محمد ﷺ نے ہمیں اسباب کو اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ ’’اونٹ کو پہلے باندھو، پھر اللہ پر توکل کرو۔‘‘

اگر آپ بڑی عمر میں والد بننے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو اسباب کی حد تک احتیاط کرنا سنت اور شریعت کا تقاضا ہے:

  • صحت مند طرزِ زندگی: اچھی خوراک، ورزش، اور حرام (مثلاً سگریٹ نوشی، شراب) سے پرہیز، یہ وہ ’’اسباب‘‘ ہیں جو آپ کے اختیار میں ہیں۔
  • طبی مشورہ: ڈاکٹر سے مشورہ کرنا اور ضروری ٹیسٹ کروانا بھی اسباب کا حصہ ہے۔ یہ توکل کے خلاف نہیں۔
  • دعا اور روحانی علاج: اسباب اختیار کرنے کے بعد، دل کا بھروسہ صرف اللہ پر رکھنا۔

مگر خطرہ تب پیدا ہوتا ہے جب ہم ’’احتیاط‘‘ کرتے کرتے ’’وسوسے‘‘ میں پڑ جاتے ہیں اور ’’توکل‘‘ کو چھوڑ کر صرف ’’اسباب‘‘ پر بھروسہ کر بیٹھتے ہیں۔

اولاد کی نعمت ایک آزمائش ہے۔ صدر یا وزیراعظم بن جانا جیسے کوئی کامیابی نہیں، بلکہ آزمائش ہے، اسی طرح صحت مند اولاد کا ہونا بھی بذاتِ خود کامیابی نہیں، بلکہ ایک آزمائش ہے کہ تم اس کا شکر کیسے ادا کرتے ہو؟ اور اگر اولاد کسی بیماری یا معذوری کے ساتھ آئے، تو یہ بھی آزمائش ہے کہ تم اس پر صبر کیسے کرتے ہو؟

بڑی عمر کے والد بننے میں جہاں سائنسی خطرات ہیں، وہیں بے شمار فوائد بھی ہیں جو سائنس اکثر نظرانداز کر دیتی ہے۔ بڑی عمر کا باپ عموماً زیادہ مستحکم (Stable)، زیادہ صابر، اور زندگی کے تجربات سے مالا مال ہوتا ہے۔ وہ اپنے بچے کی تربیت پر وہ توجہ دے سکتا ہے جو شاید ایک نوجوان اور کم تجربہ کار باپ نہ دے سکے۔

🌌 روحانی نتیجہ: اصل کامیابی کیا ہے؟

بھائیو اور بہنو! صدر، وزیراعظم بننا کمال نہیں ہے۔ کمال یہ ہے کہ ہمیں کلمہ طیبہ نصیب ہو جائے۔ اسی طرح، جوانی میں باپ بننا یا ’’جینیاتی طور پر کامل‘‘ (Genetically Perfect) بچے کا باپ بننا بھی کمال نہیں ہے۔ کمال یہ ہے کہ جو اولاد بھی اللہ ہمیں عطا کرے، ہم اس کی تربیت ایسی کریں کہ وہ ’’مؤمن‘‘ بن جائے، وہ اللہ کو پہچاننے والا بن جائے۔

اگر آپ بڑی عمر میں باپ بنے ہیں، یا بننے والے ہیں، تو سائنسی رپورٹوں کے خوف کو دل سے نکال دیں۔ یہ آپ کے ایمان کا امتحان ہے۔ آپ کا کام ڈاکٹروں کی رپورٹوں پر یقین کرنا نہیں، بلکہ حضرت زکریاؑ کی طرح دعا کرنا ہے:

رَبِّ هَبْ لِي مِن لَّدُنكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً ۖ إِنَّكَ səmī'u d-du'ā'

(’’اے میرے رب! مجھے اپنی جناب سے پاکیزہ اولاد عطا فرما، بے شک تُو ہی دعا کا سننے والا ہے۔‘‘)

(سورۃ آل عمران: 38)

آپ کا کام ’’جینز‘‘ (Genes) کی فکر کرنا نہیں، بلکہ ’’ایمان‘‘ کی فکر کرنا ہے۔ اپنے بچے کے جسم کی صحت سے زیادہ اس کی روح کی صحت کی فکر کریں۔ اسے کلمہ طیبہ سکھائیں۔ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔ یہی اصل صحت ہے، یہی اصل کامیابی ہے، یہی اصل وراثت ہے۔

سائنس کی ہر تحقیق اللہ کی قدرت کا ایک چھوٹا سا مشاہدہ ہے۔ یہ خطرات (Risks) بھی اسی نے پیدا کیے ہیں اور ان خطرات سے بچانے والا بھی وہی ہے۔ اپنا معاملہ اسباب کے نہیں، مسبب الاسباب کے سپرد کر دیں، پھر دیکھیں کہ وہ خزاں میں کیسے بہار لاتا ہے۔

اصل کمال یہ نہیں کہ سائنسی اعتبار سے "محفوظ" اولاد ہو... اصل کمال یہ ہے کہ ہمیں کلمہ طیبہ نصیب ہو جائے۔ اصل کمال یہ ہے کہ ہم اللہ کی قدرت کو پہچانیں اور اس پر کامل یقین رکھیں۔ سائنس ایک مشاہدہ ہے، جبکہ قدرت ایک اٹل حقیقت ہے۔ جو وہ چاہتا ہے، ہو جاتا ہے، چاہے ساری دنیا کی سائنسی رپورٹیں اس کے خلاف ہوں۔

🌸 غور کرو، دیکھو، سوچو — تمہارے چاروں طرف اللہ کی قدرت کے جلوے ہیں 🌸

No comments:

Post a Comment

Post Top Ad