اللہ کی نشانیاں

🌟 آج کی آیت

لوڈ ہو رہا ہے...

Saturday, October 25, 2025

سمندر کی گہرائیاں: اندھیروں میں چمکتی اللہ کی نشانیاں" (The Depths of the Ocean: Allah's Shining Signs in the Darkness)

سمندر کی گہرائیاں: اللہ کی نشانیاں

🌊 سمندر کی گہرائیاں: اندھیروں میں چمکتی اللہ کی نشانیاں 🌊

🌿 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ انسان کی فطرت میں تجسس کوٹ کوٹ کر بھرا ہے۔ یہ جاننے کی خواہش کہ "اُس پار کیا ہے؟"۔۔۔ "آسمان کے اوپر کیا ہے؟"۔۔۔ اور "سمندر کی تہہ میں کیا ہے؟"۔۔۔ یہی وہ تجسس ہے جو انسان کو غور و فکر پر آمادہ کرتا ہے۔ ہم نے اپنی دوربینیں آسمان کے کناروں تک مرکوز کر دی ہیں، لیکن ہم بھول جاتے ہیں کہ خود ہماری زمین پر ایک ایسی کائنات موجود ہے جس کا 95 فیصد حصہ آج بھی ہماری نظروں سے اوجھل ہے۔

یہ کائنات ہے، سمندر کی گہرائیاں! ۔۔۔ آئیے، آج ہم سائنس اور ایمان کی روشنی میں اس پراسرار دنیا کا سفر کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ وہاں، اندھیروں کے پردوں میں، اللہ رب العزت کی کیسی کیسی نشانیاں چمک رہی ہیں۔

🌌 ایک بے کنار کائنات: پانی کے پردوں میں چھپی

جب ہم ساحل پر کھڑے ہو کر سمندر کو دیکھتے ہیں، تو ہمیں صرف اس کی سطح نظر آتی ہے۔ لیکن یہ سطح تو محض ایک پردہ ہے۔ اس پردے کے نیچے ہزاروں میٹر گہری ایک ایسی دنیا ہے جہاں زمین و آسمان کا تصور ہی بدل جاتا ہے۔

غور کیجئے! ۔۔۔ زمین کا 70 فیصد سے زائد حصہ پانی پر مشتمل ہے، اور ان سمندروں کی اوسط گہرائی تقریباً 3.7 کلومیٹر (یعنی 3700 میٹر) ہے۔ دنیا کا بلند ترین پہاڑ ماؤنٹ ایورسٹ اگر سمندر کے گہرے ترین مقام 'ماریانا ٹرینچ' (Mariana Trench) میں ڈال دیا جائے، تو بھی اس کی چوٹی سطح سے تقریباً 2 کلومیٹر نیچے ہو گی!

یہاں، چند سو میٹر سے نیچے ہی سورج کی روشنی مکمل طور پر ختم ہو جاتی ہے۔۔۔ وہاں ابدی اندھیرا ہے، درجہ حرارت نقطہ انجماد کے قریب ہے، اور دباؤ ایسا ہے کہ فولاد کو کچل کر رکھ دے۔ یہ وہ جگہ ہے جسے سائنس 'ڈیپ سی' (Deep Sea) کہتی ہے۔

💭 سوچنے کا مقام ہے! ۔۔۔ جس خالق نے اس وسیع و عریض کائنات کو پانی کے نیچے چھپا رکھا ہے، اس کی اپنی ذات کی وسعت کا عالم کیا ہو گا؟ یہ گہرائیاں ہمیں اپنی محدودیت اور اللہ کی لامحدودیت کا احساس دلاتی ہیں۔

💡 روشنی کا معجزہ: جہاں سورج نہیں پہنچتا

جہاں روشنی کا ایک فوٹون بھی نہیں پہنچ سکتا، وہاں زندگی کیسے ممکن ہے؟ یہ سوال سائنسدانوں کو صدیوں تک پریشان کرتا رہا۔ مگر اللہ کی قدرت دیکھئے، اس نے ان اندھیروں میں ایسی مخلوقات پیدا کیں جو اپنی روشنی خود بناتی ہیں! اس عمل کو **'بایولومینسینس' (Bioluminescence)** یعنی 'حیاتیاتی روشنی' کہا جاتا ہے۔

🔵 حیاتیاتی روشنی: ایک الہامی ڈیزائن

یہ کوئی معمولی روشنی نہیں۔ یہ "ٹھنڈی روشنی" (Cold Light) ہے۔۔۔ اس میں توانائی حرارت کے بجائے صرف روشنی کی شکل میں خارج ہوتی ہے۔ یہ مخلوقات اس روشنی کو شکار کرنے، اپنے ساتھی کو متوجہ کرنے، یا شکاری کو ڈرانے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔

اینگلر فش (Anglerfish) اپنے سر پر ایک چمکتا ہوا 'فانوس' لٹکائے گھومتی ہے تاکہ شکار کو اپنی طرف کھینچ سکے۔۔۔ جیلی فش کی کئی اقسام خطرہ محسوس ہونے پر روشنی کے دھماکے کرتی ہیں۔۔۔ یہ اندھیرے میں روشنی کے یہ چھوٹے چھوٹے قمقمے، یہ متحرک ستارے، کیا کسی حادثے کا نتیجہ ہو سکتے ہیں؟ ۔۔۔ ہرگز نہیں! یہ ایک عظیم ڈیزائنر، ایک حکیم ذات کے وجود کا ثبوت ہیں۔

📖 قرآن کریم اور سمندر کے اندھیرے

آج سے چودہ سو سال قبل، جب انسان سمندر کی سطح سے چند میٹر نیچے جانے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا، قرآن مجید نے سمندر کی گہرائیوں کی ایسی منظر کشی کی جسے پڑھ کر آج کا سائنسدان بھی حیرت زدہ رہ جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی مثال بیان کی جو کفر کے اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں:

أَوْ كَظُلُمَاتٍ فِي بَحْرٍ لُّجِّيٍّ يَغْشَاهُ مَوْجٌ مِّن فَوْقِهِ مَوْجٌ مِّن فَوْقِهِ سَحَابٌ ۚ ظُلُمَاتٌ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ إِذَا أَخْرَجَ يَدَهُ لَمْ يَكَدْ يَرَاهَا ۗ وَمَن لَّمْ يَجْعَلِ اللَّهُ لَهُ نُورًا فَمَا لَهُ مِن نُّورٍ

"یا (اُن کے اعمال کی مثال) جیسے ایک گہرے سمندر میں اندھیرے، کہ اس پر ایک لہر چھائی ہو، (پھر) اس کے اوپر ایک اَور لہر، (پھر) اس کے اوپر بادل ہو۔ اندھیرے ہیں ایک پر ایک۔ جب وہ اپنا ہاتھ نکالے تو لگتا نہیں کہ اُسے دیکھ پائے، اور جسے اللہ ہی نور نہ دے، اس کے لیے کوئی نور نہیں۔"

(سورۃ النور، آیت 40)

سبحان اللہ! ۔۔۔ یہ آیت مبارکہ 'اندرونی لہروں' (Internal Waves) کے جدید سائنسی تصور کی طرف واضح اشارہ کرتی ہے، جسے بیسویں صدی میں دریافت کیا گیا۔ سائنس بتاتی ہے کہ گہرے سمندر میں مختلف کثافت (Density) والے پانی کی تہوں کے درمیان بھی سطح کی طرح لہریں اٹھتی ہیں۔

قرآن کا یہ کہنا کہ "موج کے اوپر موج" اور پھر "اندھیرے تہہ در تہہ"۔۔۔ یہ عین وہی منظر ہے جو غوطہ خور گہرائی میں جا کر محسوس کرتے ہیں۔ پہلے سطح کی لہریں، پھر اندرونی لہریں، اور پھر روشنی کا مکمل خاتمہ۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ کلام اس ذات کا ہے جو ان تمام گہرائیوں کا خالق ہے۔

⚖️ ناقابلِ تصور دباؤ اور زندگی کا وجود

سمندر کی تہہ میں پانی کا دباؤ سطح کے مقابلے میں ہزار گنا سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔ یہ ایسا ہے جیسے ایک مربع انچ پر پچاس جمبو جیٹ طیاروں کا وزن رکھ دیا جائے! ۔۔۔ اس شدید دباؤ میں ہمارے پھیپھڑے سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں پچک جائیں گے۔

لیکن قربان جائیے اس رب کی قدرت پر! ۔۔۔ اس نے وہاں ایسی مخلوقات تخلیق کیں جن کے جسم میں ہوا کی تھیلیاں (Air Bladders) ہیں ہی نہیں، بلکہ ان کے جسم زیادہ تر پانی پر مشتمل ہیں، جو دباؤ کو برداشت نہیں کرتا بلکہ منتقل کر دیتا ہے۔ اس نے ان مخلوقات کے خلیوں (Cells) میں خاص قسم کے پروٹین اور کیمیائی مادے رکھے جو اس شدید دباؤ میں بھی زندگی کے افعال کو جاری رکھتے ہیں۔

یہ زندگی کا انتہائی حالات (Extreme Conditions) میں پایا جانا، یہ اللہ کی حکمت اور اس کے علم کی وسعت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

☁️ تجسس سے تسلیم تک کا سفر

سمندر کی گہرائیاں ہمیں ایک اہم سبق سکھاتی ہیں۔۔۔ ہمارا تجسس ہمیں جتنا علم دیتا ہے، وہ اتنا ہی ہمیں ہماری لاعلمی کا احساس دلاتا ہے۔ ہم جتنا زیادہ کائنات کو کھوجتے ہیں، اتنا ہی زیادہ ہمیں ایک "عظیم تخلیق کار" کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔

یہ اندھیرے، یہ دباؤ، اور ان میں چمکتی یہ روشنی۔۔۔ یہ سب پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ کوئی ہے جو اس نظام کو تھامے ہوئے ہے۔ ہمارا سفر تجسس سے شروع ہو کر، حیرت سے گزرتا ہوا، بالآخر 'تسلیم' (Submission) پر ختم ہونا چاہئے۔۔۔ اس رب کے آگے، جس کی قدرت کی کوئی انتہا نہیں۔

یاد رکھئے! ۔۔۔ جو ذات اتنے گہرے اندھیروں میں، اتنے شدید دباؤ کے نیچے، نازک سی مخلوق کو پیدا کر سکتی ہے اور اسے روشنی بھی عطا کر سکتی ہے، وہ ذات آپ کے دل کے اندھیروں کو بھی اپنی ہدایت کے نور سے روشن کرنے پر قادر ہے۔۔۔ بس ضرورت اس کی طرف رجوع کرنے کی ہے۔

🌸 غور کرو، دیکھو، سوچو — تمہارے چاروں طرف اللہ کی قدرت کے جلوے ہیں 🌸

No comments:

Post a Comment

Post Top Ad