✒️ موت کی بہن: نیند، روح کا قبضہ اور اللہ کی حاکمیت
دنیا پریشان ہے... راتوں کو نیند نہیں۔ کوئی مالدار ہے، بستر نرم ہے، مگر کروٹیں بدل رہا ہے۔ کوئی عہدے پر ہے، مگر سکون غائب ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں نیند کی گولی سلا دے گی... ڈاکٹر کا نسخہ کام آئے گا... ڈپریشن کی دوا سکون لائے گی... استغفراللہ۔
وہ بھول گئے کہ نیند اور جاگنا... یہ زمین کی کسی طاقت، کسی کیمیکل یا کسی ڈاکٹر کے ہاتھ میں نہیں۔ یہ حکم آسمان سے اترتا ہے۔ یہ بادشاہ، یہ پہلوان، یہ مالدار... جب سو جاتے ہیں تو ایک بے بس لاش کی طرح ہوتے ہیں۔ نہ انہیں اپنے نفع کا علم... نہ نقصان کا۔ وہ اپنی دولت کی حفاظت بھی نہیں کر سکتے۔
کیوں؟ اس لیے کہ نیند... یہ صرف تھکاوٹ کا علاج نہیں... یہ "موتِ صغریٰ" ہے... یہ چھوٹی موت ہے۔ یہ اللہ کی طرف سے روزانہ کی یاد دہانی ہے کہ تم کتنے بے بس ہو اور تمہارا رب کتنا قادر ہے۔ آج ہم اسی معجزے پر غور کریں گے... یہ نشانی ہے اُس کے لیے جو عقل رکھتا ہے۔
📚 اس بلاگ میں شامل موضوعات
🌙 بے بسی کا اقرار: گولی یا اللہ کا حکم؟
آج انسان کا توکل کتنا کمزور ہو گیا ہے۔ ذرا سی بے چینی ہوئی... فوراً گولی کی طرف بھاگا۔ وہ سمجھتا ہے کہ اس کیمیکل میں شفا ہے۔ ارے! اگر گولیوں میں نیند ہوتی تو ہر مالدار سکون سے سوتا... ہر بادشاہ بے فکر ہوتا۔ مگر ایسا نہیں ہے۔
فرعون بھی بادشاہ تھا... نمرود بھی... مگر وہ بھی سوتے تھے۔ اور آج کے بڑے بڑے طاقتور بھی نیند کے لیے ترستے ہیں۔ نیند کسی نسخے، کسی وظیفے، یا کسی ڈاکٹر کے اختیار میں نہیں... یہ خالصتاً اللہ کی رحمت ہے جو وہ جس پر چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔ وہ جب چاہتا ہے، پلکوں پر سکون اتار دیتا ہے... اور جب چاہتا ہے، آنکھوں سے نیند اڑا دیتا ہے... چاہے تم لاکھوں کی گولیاں کھا لو۔
📖 قرآن کا فیصلہ: روح کا قبضہ
سائنس کہتی ہے یہ 'biological process' ہے۔ دماغ تھک گیا، اعصاب کو آرام کی ضرورت ہے، اس لیے سو گیا۔ نہیں! یہ صرف اتنا نہیں۔ یہ اس سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔ یہ روح کا معاملہ ہے۔ یہ اللہ کا روزانہ کا عمل ہے جو ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے مگر ہم غافل ہیں۔
ہمارا رب قرآن میں کیا فرماتا ہے؟ یہ آیت اہل ایمان کے دلوں کو ہلا دیتی ہے:
اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا ۖ فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَىٰ عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرَىٰ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ
"اللہ ہی روحوں کو ان کی موت کے وقت قبض کرتا ہے، اور ان کی بھی جنہیں موت نہیں آئی ہے، ان کی نیند میں۔ پھر وہ ان روحوں کو روک لیتا ہے جن پر اس نے موت کا فیصلہ کیا ہو، اور دوسری کو ایک مقررہ وقت تک واپس بھیج دیتا ہے۔ بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں۔"
(سورۃ الزمر، 42)
غور کرو! اللہ 'قبض' (يَتَوَفَّى) کا لفظ استعمال کر رہا ہے۔ یہ وہی لفظ ہے جو موت کے لیے ہے۔ ہر رات، جب تم بستر پر جاتے ہو، تم اپنی روح اللہ کے حوالے کر دیتے ہو۔ تم بے اختیار ہو جاتے ہو۔ تمہارا دل دھڑک رہا ہے... سانس چل رہی ہے... مگر روح؟ وہ اللہ کے پاس ہے۔
☀️ ہر صبح ایک نئی زندگی: الارم یا اللہ کا اِذن؟
پھر صبح ہوتی ہے۔ الارم بجتا ہے۔ اور انسان سمجھتا ہے... 'میں' اٹھ گیا۔ استغفراللہ! کیسا دھوکا ہے۔ وہ الارم نہیں تھا جس نے تمہیں جگایا۔ وہ تو صرف ایک آواز تھی۔ تمہیں جگانے والا، تمہاری روح کو واپس تمہارے بے جان جسم میں بھیجنے والا... وہ اللہ ہے۔
کتنے ہی لوگ ہیں جو رات کو سوئے... اور صبح نہیں اٹھے۔ ان کا الارم بجتا رہا... مگر وہ نہیں اٹھے۔ کیوں؟ اس لیے کہ اللہ نے ان کی روح کو 'روک' لیا... (فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَىٰ عَلَيْهَا الْمَوْتَ)۔
اور تم... تمہیں اس نے ایک اور دن عطا کیا۔ ایک اور مہلت دی۔ تمہاری روح کو واپس بھیج دیا... (وَيُرْسِلُ الْأُخْرَىٰ)۔ یہ ہر صبح ایک نئی پیدائش ہے۔ ہر صبح اس بات کا اقرار ہے کہ زندگی اور موت صرف اسی کے ہاتھ میں ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ہمارے آقا، حضرت محمد ﷺ نے ہمیں یہ دعا سکھائی:
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ
"تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں مارنے (سلانے) کے بعد زندہ کیا (جگایا) اور اسی کی طرف لوٹنا (دوبارہ جی اٹھنا) ہے۔"
(صحیح البخاری)
دیکھو! نبی پاک ﷺ نے بھی اسے 'موت' (أَمَاتَنَا) اور 'زندگی' (أَحْيَانَا) کہا ہے۔ یہ معمول نہیں، یہ معجزہ ہے۔
💭 اسباب کا پردہ اور توحید کا سبق
اے اہل ایمان! اپنے ایمان کی حفاظت کرو۔ دنیا اسباب کا پردہ ہے۔ نیند گولیوں میں نہیں، اللہ کے حکم میں ہے۔ شفا ڈاکٹر کے ہاتھ میں نہیں، اللہ کی رحمت میں ہے۔ رزق نوکری میں نہیں، اللہ کی عطا میں ہے۔ اور زندگی الارم میں نہیں، اللہ کے اِذن میں ہے۔
ہم اسباب میں ایسے کھو گئے کہ 'مسبب الاسباب' کو بھول گئے۔ ہم نے الارم پر بھروسہ کر لیا... اس رب پر بھروسہ نہ کیا جو روحوں کو واپس بھیجتا ہے۔ ہم نے گولی پر یقین کر لیا... اس رب پر یقین نہ کیا جو سکون نازل کرتا ہے۔
اصل کمال یہ نہیں کہ نیند کی بہترین گولی مل جائے... یا سب سے مہنگا الارم خرید لیا جائے... اصل کمال یہ ہے کہ بستر پر لیٹتے ہی یہ یقین ہو کہ میری روح میرے رب کے حوالے ہے... اور صبح اٹھتے ہی زبان پر شکر ہو کہ میرے رب نے مجھے ایک دن اور عطا کیا۔ کلمہ طیبہ دل میں اتر جائے... بس پھر کامیابی ہی کامیابی ہے۔
🌟 روحانی نتیجہ 🌟
نیند اللہ کی نشانی ہے کہ ہم کتنے بے بس ہیں۔ اور ہر صبح کا جاگنا اس کی رحمت کا ثبوت ہے کہ اس نے ہمیں توبہ اور عمل کی ایک اور مہلت دی ہے۔
اپنی راتوں کو گولیوں کے حوالے مت کرو... اپنے رب کے حوالے کرو۔ اپنی صبح کا آغاز الارم کے شور سے نہیں... اس رب کے شکر سے کرو جس نے تمہیں موت کے بعد نئی زندگی بخشی۔
اللہ احد، اللہ الصمد۔
🌸 غور کرو، دیکھو، سوچو — تمہارے چاروں طرف اللہ کی قدرت کے جلوے ہیں 🌸
No comments:
Post a Comment