🌌 تخلیقِ کائنات… اور ایک اللہ کا جلوہ
🌿 رات کا وقت ہو… آسمان پر ستارے چمک رہے ہوں… کبھی آپ نے سوچا… یہ سب کیا ہے؟… یہ اربوں کہکشائیں… یہ نظامِ شمسی… یہ چاند اور سورج… اِن سب کو کس نے بنایا؟… کس نے اِنہیں اِن کے راستے پر چلایا؟…
ہماری نظر… ہماری چھوٹی سی نوکری… ہمارے چھوٹے سے عہدے… اور ہمارے چھوٹے سے گھر سے آگے نہیں جاتی… ہم سمجھتے ہیں کہ… فلاں وزیر اعظم بن گیا تو کمال ہوگیا… فلاں مالدار ہوگیا تو کامیابی مل گئی… نہیں… ہرگز نہیں… یہ سب دھوکہ ہے… یہ سب آزمائش ہے… اصل کمال تو اُس ایک ذات کا ہے… جس نے یہ سب بنایا… جس نے ’’کُن‘‘ کہا اور یہ کائنات بن گئی…
آج ہم اِس کائنات کی تخلیق کو دیکھیں گے… مگر سائنس کی نظر سے نہیں… بلکہ ایمان کی نظر سے… توحید کی نظر سے… کہ یہ کائنات خود چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے… اللہ احد… اللہ احد…
🪐 نقطۂ آغاز… جب حکم ’’کُن‘‘ آیا
آج کے سائنسدان کہتے ہیں کہ… یہ کائنات ایک نقطے سے شروع ہوئی… ایک بہت بڑا دھماکہ ہوا… جسے وہ ’’بگ بینگ‘‘ کہتے ہیں… چلو مان لیا… دھماکہ ہوا… مگر سوال یہ ہے کہ… یہ دھماکہ کروایا کس نے؟…
کیا یہ خود بخود ہوگیا؟… استغفراللہ… کیا اِس کے پیچھے کوئی عامل، کوئی نجومی، یا کسی مزار کی طاقت تھی؟… ہرگز نہیں… اُس وقت تو وقت بھی پیدا نہیں ہوا تھا… اُس وقت تو مکان بھی نہیں بنا تھا… اُس وقت صرف ’’ایک‘‘ تھا… اللہ… وہ جو ہمیشہ سے ہے…
💭 یہ دھماکہ کسی بادشاہ کا حکم نہیں تھا… کسی سپر پاور کا میزائل نہیں تھا… یہ صرف اُس ایک رب کا حکم تھا… ’’کُن فَیَکُون‘‘… (ہوجا، پس وہ ہوجاتا ہے)… اُس کے ایک لفظ نے… اِس پورے نظام کو… اِس پوری کائنات کو… عدم سے وجود بخشا…
اُس وقت کیا منظر تھا…؟ قرآن ہمیں بتاتا ہے…
غور کریں… ’’رَتْقًا‘‘… یعنی ایک بند اکائی… سب کچھ جڑا ہوا تھا… پھر اُس ایک اللہ نے… اُسے ’’فَتَق‘‘ کیا… یعنی پھاڑ دیا… کھول دیا… آج سائنس اِسی کو بگ بینگ کہتی ہے… مگر قرآن نے یہ حقیقت چودہ سو سال پہلے بتا دی… کیوں؟… اِس لیے نہیں کہ ہم سائنس پر فخر کریں… بلکہ اِس لیے کہ ہم اُس ’’ایک‘‘ کو پہچانیں… جس نے یہ کیا…
مگر ہم… ہم آج بھی وظیفوں سے… چلّوں سے… مزاروں سے… وہ مانگ رہے ہیں… جو اللہ کے اختیار میں ہے… ہم نے عہدوں کو خدا سمجھ لیا… ہم نے مال کو کامیابی سمجھ لیا… اور اُس ’’ایک‘‘ کو بھلا دیا… جس کے حکم سے یہ کائنات بنی…
💫 اِسے کون تھامے ہوئے ہے؟
یہ کائنات بننے کے بعد… رُکی نہیں… یہ آج بھی پھیل رہی ہے… ہر ستارہ… ہر کہکشاں… ایک دوسرے سے دور بھاگ رہی ہے… سائنسدان کہتے ہیں ’’کائنات پھیل رہی ہے‘‘ (Expanding Universe)…
سوچیں تو سہی… اِس پھیلتے ہوئے نظام کو کون چلا رہا ہے؟… اِسے کون وسیع کر رہا ہے؟… کیا یہ کسی صدر کا کام ہے؟… کیا یہ کسی وزیراعظم کے اختیار میں ہے؟… وہ بیچارے تو اپنی کرسی نہیں بچا سکتے… وہ کائنات کو کیا تھامیں گے… اُن کی اپنی سانس تو اُن کے اختیار میں نہیں… وہ اِس نظام کو کیا چلائیں گے…
یہاں کسی نجومی کی پیشین گوئی نہیں چلتی… کسی عامل کا مؤکل کام نہیں آتا… یہ صرف اُس ’’ایک‘‘ کا نظام ہے…
وہ فرما رہا ہے… ’’ہم‘‘ اِسے وسیع کر رہے ہیں… مسلسل… ہر پل… ہر لمحہ… یہ اُس کی قدرت ہے… یہ اُس کی طاقت ہے…
اے اہل ایمان… اپنے ایمان کی حفاظت کرو… اُس اللہ سے مانگو… جو اِس کائنات کو پھیلا رہا ہے… اُس سے نہ مانگو… جو خود اللہ کا محتاج ہے… جو خود ایک دن مٹی میں مل جائے گا… کامیابی عہدوں میں نہیں… کامیابی اُس ’’ایک‘‘ کی پہچان میں ہے…
☁️ یہ کمال کا توازن… یہ کامل اطاعت
یہ جو سورج وقت پر نکلتا ہے… چاند وقت پر ڈوبتا ہے… یہ جو ستارے اپنی جگہ پر ہیں… یہ جو زمین اپنی رفتار سے گھوم رہی ہے… ذرہ برابر فرق نہیں آتا… سائنس اِسے ’’فائن ٹیوننگ‘‘ (Fine-Tuning) کہتی ہے… کہتی ہے کہ اگر کششِ ثقل ذرا سی کم یا زیادہ ہوتی… تو سب کچھ تباہ ہو جاتا…
مگر ہم اِسے ’’اطاعت‘‘ کہتے ہیں… یہ کائنات کا توازن نہیں… یہ کائنات کی ’’اطاعت‘‘ ہے… سورج کی مجال نہیں… کہ وہ اللہ کے حکم سے ایک انچ ہٹ جائے… چاند کی ہمت نہیں… کہ وہ اپنی مرضی کر لے…
اور ستارے اور درخت (سب) سجدہ کر رہے ہیں۔" (سورۃ الرحمٰن، آیات 5-6)
سب سجدے میں ہیں… سب اُسی کے حکم کے پابند ہیں… اِس لیے کوئی فساد نہیں… کوئی ٹکراؤ نہیں… کیوں؟… کیونکہ حاکم ’’ایک‘‘ ہے… اگر دو خدا ہوتے… تو یہ نظام کب کا درہم برہم ہو چکا ہوتا…
مگر ہم… ہم انسان… ہم اللہ کو ایک مان کر بھی… سو دروں پر جھکتے ہیں… ہم مخلوق سے ڈرتے ہیں… ہم جادو، ٹونے سے ڈرتے ہیں… ہم نجومیوں کی باتوں پر یقین کر لیتے ہیں… مگر اُس ’’ایک‘‘ اللہ پر توکل نہیں کرتے… جس کے ہاتھ میں اِس کائنات کا سارا نظام ہے…
یاد رکھو… جب کلمہ طیبہ کے سامنے سات آسمان اور زمین روئی کے گالوں کی طرح ہیں… تو اِس کلمے کے سامنے جادو، ٹونہ، یا کسی عامل کی کیا حیثیت ہے؟… کچھ بھی نہیں…
🌿 اِتنا بڑا نظام… اور اِتنا چھوٹا انسان؟
اِتنی بڑی کائنات… اربوں نوری سال پر پھیلی ہوئی… اور اُس میں یہ چھوٹی سی زمین… اور اُس پر یہ کمزور سا انسان…
اللہ نے یہ سب کیوں بنایا؟… کیا یہ کھیل تماشا ہے؟… نہیں… اُس نے یہ سب ’’باطل‘‘ یعنی بے مقصد نہیں بنایا… اُس نے یہ سب ہمارے لیے بنایا… تاکہ ہم دیکھیں… اور اُسے پہچانیں…
اُس نے ہمیں اِس لیے نہیں بنایا کہ… ہم وزیراعظم بننے کے لیے وظیفے کریں… یا مالدار بننے کے لیے تعویذ پہنیں… اُس نے ہمیں… ’’عبد‘‘ بننے کے لیے بنایا… اُس کا بندہ…
اصل کامیابی یہ ہے… بندگی… عبادت… خالص توحید…
فرعون بھی بادشاہ تھا… نمرود بھی بادشاہ تھا… کیا وہ کامیاب ہوئے؟… نہیں… وہ ناکام ہوگئے… کیوں؟… کیونکہ انہوں نے ’’ایک اللہ‘‘ کو نہیں مانا…
آج اگر کوئی عہدہ مل جائے… تو یہ کمال نہیں… یہ آزمائش ہے… اصل کمال یہ ہے کہ… ہمیں کلمہ طیبہ نصیب ہوجائے… ہمیں ایمان کی حالت میں موت آجائے… ہمیں اللہ تعالیٰ کے راستے کی مقبول شہادت نصیب ہوجائے…
بزرگوں کے پاس جانا ہے تو… وزیراعظم بننے کے لیے نہ جائیں… بلکہ… کلمہ طیبہ سیکھنے کے لیے جائیں… جو کلمہ سکھا دے… وہی ولی ہے… جو توحید سکھا دے… وہی کامل ہے…
لا الہ الا اللّٰہ… لا الہ الا اللّٰہ… لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ…
یہ عہدے… یہ وزارتیں… یہ مال… سب یہیں رہ جائے گا…
باقی رہے گی تو صرف ’’ایک‘‘ کی ذات… اللہ کی ذات…
کامیابی اِس کائنات کو تسخیر کرنے میں نہیں… کامیابی کسی مزار یا وظیفے سے عہدہ پانے میں نہیں…
اصل کامیابی یہ ہے کہ… ہمارا دل مان لے… لا الہ الا اللّٰہ… اُس کے سوا کوئی خالق نہیں… کوئی رازق نہیں… کوئی حاکم نہیں…
🌸 غور کرو، دیکھو، سوچو — تمہارے چاروں طرف اللہ کی قدرت کے جلوے ہیں 🌸
No comments:
Post a Comment