✒️ لمحہ اور ابدیت: تطبیق، ارتقاء اور اللہ کا امر
انسان غافل ہے! وہ کائنات کی نشانیوں کو دیکھتا ہے... مگر ان نشانیوں کے پیچھے "دستِ قدرت" کو نہیں دیکھتا۔ وہ سمجھتا ہے کہ اس نے علم پا لیا۔ اس نے کہا:
"ارتقاء اور تطبیق، فطرت کی دو بہنیں ہیں۔
ایک لمحاتی، دوسری ابدی۔
تطبیق (Adaptation) وہ چھوٹے قدم ہیں جو ایک جاندار اٹھاتا ہے،
جبکہ ارتقاء (Evolution) وہ طویل سفر ہے جو نسلیں طے کرتی ہیں۔"
انسان نے "عمل" (Process) کو دیکھا... اور اس کا نام رکھ دیا۔ اس نے گمان کیا کہ "تطبیق" کوئی طاقت ہے... یا "ارتقاء" کوئی خودکار نظام ہے جو خودبخود تخلیق کر رہا ہے۔ اس نے "فطرت" (Nature) کو خدا بنا لیا... جو "Select" (انتخاب) کرتی ہے۔ استغفراللہ!
یہ سب نام... یہ سب پردے ہیں۔ یہ "تطبیق" اور "ارتقاء" کوئی بہنیں نہیں... یہ اللہ کی "حکمت" اور اس کی "قدرت" کے دو جلوے ہیں۔ یہ اسباب ہیں... اور ان اسباب کا خالق "مسبب الاسباب" ... وہ اللہ الواحد القہار ہے۔
📚 اس بلاگ میں شامل موضوعات
🌵 "لمحاتی قدم" (تطبیق) ... یا اللہ کی حکمت؟
انسان دیکھتا ہے کہ صحرا میں کیکٹس (Cactus) نے کانٹے اگا لیے... اس نے کہا، "دیکھو! اس نے خود کو 'Adapt' کر لیا۔" وہ دیکھتا ہے کہ برفانی ریچھ کی کھال موٹی ہے... اس نے کہا، "یہ 'Adaptation' ہے... تاکہ وہ سردی سے بچ سکے۔"
ارے نادان! کیا اس کیکٹس نے خود بیٹھ کر سوچا تھا کہ "مجھے پانی بچانے کے لیے پتے نہیں، کانٹے اگانے چاہئیں"؟ کیا اس ریچھ نے خود اپنی نسل کو حکم دیا تھا کہ "اپنی کھال موٹی کر لو"؟ نہیں۔ یہ ان کی اپنی قابلیت یا ذہانت نہیں۔
یہ اس "الحکیم" (حکمت والے) کی منصوبہ بندی ہے جس نے اس کیکٹس کو صحرا میں پیدا کرنے سے پہلے ہی اس کے اندر کانٹوں کا نظام لکھ دیا تھا۔ یہ اس "المصوّر" (صورت بنانے والے) کی کاریگری ہے جس نے اس ریچھ کو برف میں بھیجنے سے پہلے ہی اسے موٹی کھال کا لباس پہنا دیا تھا۔ جسے تم "تطبیق" کہتے ہو... وہ دراصل اللہ کی "پیشگی حکمت" ہے۔
اسی طرح، سمندر کی گہرائیوں میں جو مخلوقات رہتی ہیں، ہر ایک نے اپنے ماحول سے منفرد انداز میں 'تطبیق' کی ہے۔ یہ رنگ برنگی مچھلیاں، چھپنے والے کیڑے، اور مرجان کی خوبصورت ساختیں... یہ سب اللہ کی تخلیقی وسعت اور ہر جاندار کو اس کے ماحول کے مطابق ڈھالنے کی حکمت کے مظہر ہیں۔
⏳ "ابدی سفر" (ارتقاء) ... یا اللہ کی کاریگری؟
پھر انسان زمین کھودتا ہے... پرانی ہڈیاں (Fossils) دیکھتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ مخلوق کی شکلیں وقت کے ساتھ بدلی ہیں۔ اس نے اس لمبے سفر کا نام "ارتقاء" (Evolution) رکھ دیا۔ اس نے گمان کیا کہ یہ ایک "اندھا" سفر ہے... "حادثاتی" (Random) ہے... "فطرت" انتخاب کر رہی ہے... اور کمزور مر رہا ہے، طاقتور بچ رہا ہے۔
یہ کیسا ایمان ہے؟ کیا تمہارا رب (نعوذ باللہ) اتنا کمزور ہے کہ وہ "حادثے" (Chance) کا محتاج ہو؟ کیا اس نے پہلی مخلوق بنا کر اسے چھوڑ دیا کہ "جاؤ! خود ہی اپنی شکلیں بدلتے رہو... میں لاکھوں سال بعد دیکھوں گا تم کیا بن گئے"؟
نہیں! یہ "حادثاتی" سفر نہیں... یہ اللہ کی "مرضی" کا سفر ہے۔ جسے تم "ارتقاء" کہتے ہو... وہ اللہ کی "تخلیق کا تسلسل" ہے۔ وہ "المصوّر" (The Shaper) ہے... وہ جب چاہتا ہے، جیسے چاہتا ہے، مخلوق کی صورت گری کرتا ہے۔
هُوَ الَّذِي يُصَوِّرُكُمْ فِي الْأَرْحَامِ كَيْفَ يَشَاءُ ۚ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
"وہی ہے جو (ماں کے) رحم میں تمہاری صورتیں جیسی چاہتا ہے بناتا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ غالب ہے، حکمت والا ہے۔"
(سورۃ آل عمران، 6)
جو رب رحمِ مادر کی تاریکیوں میں ایک قطرے کو نو ماہ میں ایک مکمل انسان بنا سکتا ہے... کیا وہ لاکھوں سالوں میں ایک مخلوق کو دوسری شکل دینے پر قادر نہیں؟ یہ "ارتقاء" نہیں... یہ اس کی "صنعت گری" (Craftsmanship) ہے۔
🌪️ فطرت کا پردہ: کیا فطرت خود کچھ کر سکتی ہے؟
لوگ کہتے ہیں "فطرت نے انتخاب کیا" (Nature selected)۔ یہ سب سے بڑا دھوکا ہے۔ یہ "فطرت" کیا ہے؟ یہ پہاڑ... یہ سمندر... یہ موسم... یہ سب خود "مخلوق" ہیں۔ یہ خود محتاج ہیں۔ کیا سورج خود نکلنے کا فیصلہ کر سکتا ہے؟ کیا ہوا خود چلنے کا ارادہ کر سکتی ہے؟ نہیں!
یہ "فطرت" اللہ کے حکم کی پابند ہے۔ یہ "انتخاب" (Select) نہیں کرتی... یہ "اطاعت" (Obey) کرتی ہے۔
جب اللہ حکم دیتا ہے... تو ماحول بدل جاتا ہے۔ اور جب ماحول بدلتا ہے... تو اللہ اسی ماحول کے مطابق اپنی مخلوق کے اندر وہ تبدیلیاں ظاہر کر دیتا ہے جو اس نے "کتابِ مبین" (Clear Book) میں پہلے سے لکھ رکھی تھیں۔
...وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُم ۚ مَّا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِن شَيْءٍ...
"...اور زمین پر کوئی چلنے والا (جاندار) نہیں اور نہ کوئی پرندہ ہے جو اپنے دو بازوؤں سے اڑتا ہو مگر یہ کہ وہ تمہاری ہی طرح کی جماعتیں ہیں۔ ہم نے کتاب (لوحِ محفوظ) میں کوئی چیز نہیں چھوڑی..."
(سورۃ الأنعام، 38)
جسے تم "Natural Selection" کہتے ہو... وہ دراصل "Divine Selection" (اللہ کا انتخاب) ہے... مگر انسان کی آنکھ پردوں سے آگے نہیں دیکھ سکتی۔
✨ ایک ہی امر: ”کُن!“ ... لمحہ بھی، ابدیت بھی
اے اہل ایمان! اپنے ایمان کی حفاظت کرو۔ اللہ کے نزدیک نہ کوئی "لمحہ" ہے نہ "ابدیت"۔ اس کے لیے وقت کوئی معنی نہیں رکھتا۔
جب اس نے کیکٹس کو حکم دیا "کانٹے اگا!"... یہ "تطبیق" (Adaptation) ہو گئی۔
جب اس نے مخلوق کی نسلوں کو حکم دیا "شکل بدل لو!"... یہ "ارتقاء" (Evolution) ہو گیا۔
یہ دونوں ایک ہی چیز ہیں: **"اللہ کا امر"**۔ ایک حکم فوری ظاہر ہوا... دوسرا حکم ایک طویل مدت میں ظاہر ہوا۔ یہ سب اس کے منصوبے کا حصہ ہے۔
اصل کمال یہ نہیں کہ تم "تطبیق" اور "ارتقاء" کے فرق کو سمجھ جاؤ۔ یہ تو سائنسدان بھی سمجھتا ہے... مگر پھر بھی کافر مر جاتا ہے۔
اصل کمال یہ ہے کہ تم "تطبیق" کو دیکھ کر... اس کے پیچھے "الحکیم" کو پہچان لو۔
اصل کمال یہ ہے کہ تم "ارتقاء" کو دیکھ کر... اس کے پیچھے "المصوّر" اور "الخالق" پر سجدے میں گر جاؤ۔
انسان کو ان نشانیوں میں الجھنا نہیں... ان نشانیوں سے "صاحبِ نشانی" (اللہ) تک پہنچنا ہے۔
🌟 روحانی نتیجہ 🌟
عمل (Process) کی پوجا چھوڑ دو... خالقِ عمل کی عبادت کرو۔
"فطرت" کی طاقت سے مرعوب نہ ہو... "فاطر" (پیدا کرنے والے) کی قدرت پر ایمان لاؤ۔
کیکٹس کا کانٹا... اور مچھلی کا پر (Fin)... اور پرندے کا بازو... یہ "ارتقاء" یا "تطبیق" کا کمال نہیں... یہ سب اس "ایک" اللہ کی کاریگری کے نمونے ہیں، جو ہر لمحہ تخلیق فرما رہا ہے۔
اللہ احد، اللہ الصمد۔
🌸 غور کرو، دیکھو، سوچو — تمہارے چاروں طرف اللہ کی قدرت کے جلوے ہیں 🌸
No comments:
Post a Comment