اللہ کی نشانیاں

🌟 آج کی آیت

لوڈ ہو رہا ہے...

Saturday, November 1, 2025

انسانی جسم کا مائیکرو بائیوم: اللہ کی ایک پوشیدہ کائنات

انسانی جسم کا مائیکرو بائیوم: اللہ کی ایک پوشیدہ کائنات

انسانی جسم کا مائیکرو بائیوم: اللہ کی ایک پوشیدہ کائنات جو آپ کے اندر ہے 🌿

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ جب ہم اللہ کی نشانیوں پر غور کرتے ہیں تو ہمارا دھیان اکثر بلند و بالا پہاڑوں، وسیع آسمانوں، چمکتے ستاروں یا گہرے سمندروں کی طرف جاتا ہے۔۔۔ لیکن اللہ کی حکمت کی سب سے بڑی نشانیاں تو خود ہمارے اپنے وجود کے اندر پوشیدہ ہیں، اتنی قریب کہ ہم انہیں دیکھ نہیں پاتے، اور اتنی پیچیدہ کہ سائنس آج بھی ان کی گتھیاں سلجھانے میں مصروف ہے۔۔۔ آج ہم ایک ایسی ہی پوشیدہ کائنات کا ذکر کریں گے جو آپ کے اور میرے، ہر انسان کے اندر بستی ہے: **انسانی مائیکرو بائیوم (Human Microbiome)**۔ یہ اربوں کھربوں ننھے جانداروں کی ایک دنیا ہے جو ہمارے جسم میں رہتی ہے، اور جس کے بغیر ہمارا زندہ رہنا تقریباً ناممکن ہے۔۔۔

وَفِي أَنفُسِكُمْ ۚ أَفَلَا تُبْصِرُونَ "اور خود تمہارے اپنے وجود میں (نشانیاں ہیں)، کیا تم دیکھتے نہیں؟" (سورۃ الذاریات: 21)

مائیکرو بائیوم کیا ہے؟: ایک سائنسی تعارف 🔬

سائنسی اصطلاح میں، "مائیکرو بائیوم" ان تمام خردبینی جانداروں (Microorganisms) کے مجموعے کو کہتے ہیں جو ہمارے جسم پر اور اس کے اندر رہتے ہیں۔۔۔ ان میں بیکٹیریا، وائرس، فنگی اور دیگر ننھی مخلوقات شامل ہیں۔۔۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق، ایک انسانی جسم میں خلیوں (Cells) کی کل تعداد سے زیادہ ان جانداروں کی تعداد ہے! ۔۔۔ یہ اتنی بڑی تعداد ہے کہ گویا ہم صرف "انسان" نہیں، بلکہ ایک چلتی پھرتی "کائنات" ہیں جس میں اربوں مخلوقات آباد ہیں۔۔۔ یہ سب مل کر ایک پیچیدہ ماحولیاتی نظام (Ecosystem) بناتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے زمین پر جنگلات یا سمندروں کا اپنا ایک نظام ہے۔۔۔

صحت کے محافظ: یہ ننھی مخلوق کیا کرتی ہے؟ 🛡️

قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ نے کوئی چیز بے مقصد پیدا نہیں کی۔ یہ ننھے جاندار، جنہیں ہم اکثر بیماری کا سبب سمجھتے ہیں (جیسے جراثیم)، ان کی اکثریت درحقیقت ہماری زندگی اور صحت کے لیے ناگزیر ہے۔۔۔ اللہ نے انہیں ہمارے جسم کا ایک اٹوٹ انگ بنایا ہے جو خاموشی سے ہمارے لیے ایسے کام سرانجام دیتے ہیں جو ہمارے اپنے خلیے بھی نہیں کر سکتے۔۔۔

نظامِ انہضام اور اللہ کی نعمتیں 🌿

ہم جو خوراک کھاتے ہیں، اسے مکمل طور پر ہضم کرنے کی صلاحیت ہمارے جسم میں نہیں ہوتی۔۔۔ اللہ کی یہ ننھی مخلوق (خاص طور پر جو ہماری آنتوں میں رہتی ہے) اس خوراک کو توڑنے، اس میں سے توانائی اور ضروری وٹامنز (جیسے وٹامن K اور B12) پیدا کرنے میں مدد دیتی ہے۔۔۔ یہ نہ صرف ہمیں غذائیت فراہم کرتی ہے بلکہ ہمیں ان نعمتوں سے مستفید ہونے کے قابل بناتی ہے جو اللہ نے ہمارے لیے پیدا کی ہیں۔۔۔ غور کریں، اگر یہ ننھی مخلوق نہ ہوتی تو شاید ہم بہترین غذا کھا کر بھی غذائیت کی کمی کا شکار رہتے۔۔۔

قوتِ مدافعت کا مرکز 🛡️

اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ہماری قوتِ مدافعت (Immune System) کا تقریباً 70 سے 80 فیصد حصہ ہماری آنتوں میں موجود اسی مائیکرو بائیوم سے جڑا ہوتا ہے۔۔۔ یہ جاندار ہمارے مدافعتی نظام کو "تربیت" دیتے ہیں، اسے سکھاتے ہیں کہ کون سے جراثیم نقصان دہ ہیں اور کن کو نظرانداز کرنا ہے۔۔۔ یہ ایک ایسا دفاعی نظام ہے جو اللہ نے ہمارے اندر ہی نصب کر دیا ہے، جو ہمیں ان گنت بیماریوں سے بچاتا ہے جن کا ہمیں شاید علم بھی نہیں ہوتا۔۔۔

قَالَ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطَىٰ كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَىٰ "(موسیٰ نے) کہا: ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی (مناسب) ساخت عطا کی، پھر (اسے اس کے کام کے لیے) ہدایت دی۔" (سورۃ طہٰ: 50)

دماغ اور ایمان کا تعلق: مائیکرو بائیوم کا حیرت انگیز کردار 🧠

جدید سائنس آج "گٹ-برین ایکسس" (Gut-Brain Axis) پر تحقیق کر رہی ہے، یعنی ہماری آنتوں اور دماغ کے درمیان ایک براہِ راست تعلق۔۔۔ سائنسدان حیران ہیں کہ ہماری آنتوں میں موجود بیکٹیریا ایسے کیمیکل پیدا کرتے ہیں جو ہمارے موڈ، ذہنی تناؤ، اور یہاں تک کہ ہماری سوچ پر بھی اثرانداز ہوتے ہیں۔۔۔ اس تحقیق سے یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ ذہنی بے چینی (Anxiety) اور ڈپریشن کا بھی گہرا تعلق آنتوں کی صحت سے ہو سکتا ہے۔۔۔

ایک مومن کے لیے اس میں گہرا سبق ہے۔۔۔ روحانی پاکیزگی اور ذہنی سکون کے لیے جسمانی پاکیزگی اور صحت مند غذا (حلال اور طیب) پر کیوں زور دیا گیا؟ ۔۔۔ جب ہمارا باطن (آنتیں) صحت مند ہوگا، تو ہمارا دماغ بھی بہتر کام کرے گا۔۔۔ اور ایک پرسکون اور صحت مند دماغ ہی اللہ کی نشانیوں پر گہرائی سے غور و فکر کر سکتا ہے، عبادت میں خشوع حاصل کر سکتا ہے اور ایمان کی حقیقی لذت کو محسوس کر سکتا ہے۔۔۔

توازن میں ہی حکمت ہے: جب یہ نظام بگڑتا ہے ⚖️

اللہ نے پوری کائنات ایک "میزان" (توازن) پر قائم کی ہے۔۔۔ ہمارا اندرونی مائیکرو بائیوم بھی اسی الٰہی توازن کا ایک مظہر ہے۔۔۔ جب تک یہ توازن قائم رہتا ہے، ہم صحت مند رہتے ہیں۔۔۔ لیکن آج کی جدید زندگی، غیر فطری غذائیں (Processed Foods)، بلا ضرورت اینٹی بائیوٹکس کا استعمال، اور ذہنی دباؤ... یہ سب اس نازک توازن کو بگاڑ دیتے ہیں۔۔۔

نتیجتاً، آج ہم ایسی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں جو پہلے اتنی عام نہ تھیں، جیسے الرجی، آٹو امیون بیماریاں، اور موٹاپا۔۔۔ یہ سب اس بات کی نشانی ہے کہ ہم نے اللہ کے بنائے ہوئے فطری توازن سے منہ موڑا ہے۔۔۔ اسلام ہمیں کھانے پینے میں اعتدال (میانہ روی) کا درس دیتا ہے، جو دراصل اسی اندرونی توازن کو برقرار رکھنے کی کلید ہے۔۔۔

💭 روحانی نتیجہ: اپنے اندر کی کائنات پر غور و فکر 💭

ہمارے جسم میں موجود یہ اربوں خاموش کارکن، یہ مائیکرو بائیوم، اللہ کی عظمت، اس کی حکمت اور اس کی ربوبیت کی ایک جیتی جاگتی نشانی ہیں۔۔۔ یہ ہمیں سکھاتے ہیں کہ ہم تنہا نہیں ہیں۔۔۔ ہمارا وجود ایک پیچیدہ اور مربوط نظام کا حصہ ہے۔۔۔

جس طرح یہ ننھی مخلوق اللہ کے حکم سے ہماری خدمت میں لگی ہے، اسی طرح ہمیں بھی اللہ کی بندگی میں اپنی زندگی گزارنی چاہیے۔۔۔ جب ہم اگلی بار کھانا کھائیں، تو صرف بھوک مٹانے کے لیے نہیں، بلکہ اس نیت سے کھائیں کہ ہم اپنے جسم، اور اس میں موجود اللہ کی اس ننھی مخلوق کو بھی رزق فراہم کر رہے ہیں، تاکہ یہ سب مل کر ہمیں اللہ کی عبادت کے قابل بنا سکیں۔۔۔

یقیناً، اللہ کی نشانیاں آفاق میں بھی ہیں اور خود ہمارے اپنے وجود میں بھی، ان لوگوں کے لیے جو عقل اور ایمان سے دیکھتے ہیں۔۔۔
(مزید تحقیق کے لیے آپ [معروف سائنسی جرائد] یا [معتبر اسلامی تحقیقی اداروں] کی ویب سائٹس دیکھ سکتے ہیں۔)

اللہ ہمیں اپنے وجود میں چھپی نشانیوں پر غور کرنے اور اس کا شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

No comments:

Post a Comment

Post Top Ad