اللہ کی نشانیاں

🌟 آج کی آیت

لوڈ ہو رہا ہے...

Thursday, October 30, 2025

کشش ثقل: اللہ کی قدرت کی ایک خاموش نشانی

کشش ثقل: اللہ کی قدرت کی ایک خاموش نشانی - اسلامی بلاگ

کشش ثقل: اللہ کی قدرت کی ایک خاموش نشانی

🌿 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ آج ہم کائنات کی ایک ایسی بنیادی قوت پر غور کریں گے جو ہر لمحہ ہم پر، ہمارے اطراف کی ہر شے پر، اور پوری کائنات کے نظام پر اثر انداز ہو رہی ہے... لیکن ہم اسے محسوس نہیں کرتے۔ یہ **کشش ثقل (Gravity)** ہے۔ یہ وہ خاموش طاقت ہے جو ہمیں زمین سے باندھے رکھتی ہے، چاند کو زمین کے گرد گھماتی ہے، اور سیاروں کو سورج کے گرد اپنے مدار میں قائم رکھتی ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ بظاہر عام سی قوت، اللہ رب العزت کی حکمت، علم اور قدرت کی کتنی بڑی نشانی ہے۔

کشش ثقل کیا ہے؟ 🌌

سادہ الفاظ میں، کشش ثقل وہ قوت ہے جس سے مادّہ (matter) ایک دوسرے کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ جس شے میں جتنا زیادہ مادہ (یعنی کمیت یا mass) ہوگا، اس کی کشش اتنی ہی زیادہ ہوگی۔ اسی لیے زمین، جو بہت بڑی کمیت رکھتی ہے، ہمیں، ہوا کو، اور پانی کو اپنی طرف کھینچ کر رکھتی ہے۔۔۔ سر آئزک نیوٹن نے اسے سیب کے گرنے سے دریافت کیا، اور بعد میں البرٹ آئن سٹائن نے اسے مزید گہرائی میں بیان کیا کہ یہ دراصل زمان و مکان (space-time) میں پیدا ہونے والا خم (curve) ہے۔۔۔ لیکن سائنسی وضاحت کچھ بھی ہو، یہ ایک ایسا قانون ہے جسے اللہ تعالیٰ نے کائنات کو چلانے کے لیے تخلیق کیا ہے۔
کائنات میں زمین، چاند اور سیاروں کا ایک منظر جو کشش ثقل کے ذریعے مدار میں قائم ہیں، اللہ کی قدرت کو ظاہر کرتے ہوئے۔
اللَّهُ الَّذِي رَفَعَ السَّمَاوَاتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ۖ ثُمَّ اسْتَوَىٰ عَلَى الْعَرْشِ ۖ "اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں کو بغیر ستونوں کے بلند کیا جیسا کہ تم دیکھتے ہو، پھر وہ عرش پر متمکن ہوا۔" (سورۃ الرعد: 2)

کائناتی توازن: ایک ناقابلِ تسخیر نظام 🪐

ذرا کائنات کی وسعتوں پر نظر دوڑائیں۔۔۔ اربوں ستارے، سیارے اور کہکشائیں خلا میں تیر رہی ہیں، لیکن ٹکرا نہیں رہیں۔۔۔ یہ سب ایک دوسرے کے ساتھ ایک مکمل توازن میں ہیں۔۔۔ اس توازن کی بنیاد یہی کشش ثقل ہے۔ یہ قوت ہی ہے جو سیاروں کو اپنے ستاروں کے گرد، اور چاند کو سیاروں کے گرد ایک مخصوص مدار (orbit) میں گھومنے پر مجبور کرتی ہے۔۔۔ اگر یہ کشش ذرا سی کم ہوتی تو تمام سیارے خلا میں بھٹک جاتے، اور اگر ذرا سی زیادہ ہوتی تو سب کچھ آپس میں ٹکرا کر تباہ ہو جاتا۔ یہ کامل توازن ایک ذہین خالق (Intelligent Designer) کے وجود کا ثبوت ہے۔
(مزید تفصیلات کے لیے آپ معتبر اسلامی سائنسی ویب سائٹس سے رجوع کر سکتے ہیں)۔
نظام شمسی کا ایک خوبصورت منظر جس میں سورج مرکز میں ہے اور سیارے کشش ثقل کے توازن کی وجہ سے اپنے اپنے مدار میں گردش کر رہے ہیں۔

توازن کی باریک بینی (The Fine-Tuning) ☁️

سائنسدان اس بات پر حیران ہیں کہ کشش ثقل کی قوت بالکل "درست" مقدار میں ہے۔۔۔ اسے "Gravitational Constant" کہا جاتا ہے۔۔۔ اگر یہ قوت موجودہ مقدار سے کھربوں گنا کمزور یا طاقتور ہوتی، تو کائنات میں ستارے، سیارے اور زندگی کا وجود ہی ممکن نہ ہوتا۔۔۔ یہ عین اسی طرح ہے جیسے کسی مشین کے پرزوں کو ملی میٹر کے ہزارویں حصے تک درست بنایا جائے تاکہ وہ کام کر سکے۔۔۔ کیا یہ سب کچھ خود بخود ہو گیا؟ ہرگز نہیں!

زمین پر زندگی: گریویٹی کی نعمتیں 🌍

ہم اکثر اس قوت کو نظر انداز کر دیتے ہیں کیونکہ ہم اس کے عادی ہو چکے ہیں۔۔۔ لیکن ذرا سوچیں:
  • 💧 اگر کشش ثقل نہ ہوتی، تو بارش کے قطرے بادلوں سے نیچے نہ گرتے۔
  • 🌬️ ہمارا کرہ ہوائی (atmosphere)، جو ہمیں سانس لینے کے لیے آکسیجن فراہم کرتا ہے اور سورج کی مضر شعاعوں سے بچاتا ہے، خلا میں بکھر جاتا۔
  • 🌊 سمندروں اور دریاؤں کا پانی اپنی جگہ پر نہ رہتا۔
  • 🚶‍♂️ ہم خود زمین پر قدم جما کر نہ چل سکتے، بلکہ ہوا میں بے مقصد تیر رہے ہوتے۔
یہ اللہ کا احسان ہے کہ اس نے اس قوت کے ذریعے زمین کو ہمارے لیے ایک پرسکون گہوارہ بنا دیا۔
بارش کے قطروں کا ایک کلوز اپ شاٹ جو کشش ثقل کی وجہ سے زمین کی طرف گر رہے ہیں، پس منظر میں سرسبز وادی اور آسمان ہے۔
"کائنات میں غور و فکر کرنا بھی عبادت ہے۔۔۔ ہر شے پکار پکار کر اپنے خالق کی گواہی دے رہی ہے۔" (ایک صوفیانہ قول)

روحانی نتیجہ: غور و فکر کا مقام ✨

غور و فکر کا نکتہ کشش ثقل، جو نظر نہیں آتی مگر ہر شے کو تھامے ہوئے ہے، بالکل اللہ کے حکم کی طرح ہے۔۔۔
جس طرح اللہ کا حکم اس کائنات کو تھامے ہوئے ہے، اسی طرح اس کی بنائی ہوئی یہ قوت اس نظام کو چلا رہی ہے۔۔۔
اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو غور کرتے ہیں۔
ہر گرتا ہوا پتّہ اور مدار میں گھومتا سیارہ صرف ایک ہی ذات کی تسبیح بیان کر رہا ہے۔

No comments:

Post a Comment

Post Top Ad