اللہ کی نشانیاں

🌟 آج کی آیت

لوڈ ہو رہا ہے...

Monday, October 13, 2025

کائنات کی ابتداء: قرآن کا عظیم انکشاف اور بگ بینگ تھیوری

بسم اللہ الرحمن الرحیم

انسان، جب سے اس نے ہوش سنبھالا ہے، رات کے تاریک آسمان پر چمکتے ستاروں کو دیکھ کر ہمیشہ ایک گہری سوچ میں ڈوب جاتا ہے۔ میں کون ہوں؟ یہ جہان کیا ہے؟ اس کی ابتدا کیسے ہوئی اور اس کا انجام کیا ہوگا؟ یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جنہوں نے انسانی فکر کے دھارے کو ہمیشہ متحرک رکھا ہے اور اسے فلسفے، سائنس اور مذہب کی گہرائیوں میں غوطہ زنی پر مجبور کیا ہے۔ صدیوں تک کائنات کی تخلیق کا معمہ محض داستانوں، دیومالائی کہانیوں اور فلسفیانہ قیاس آرائیوں کا موضوع بنا رہا۔ لیکن بیسویں اور اکیسویں صدی میں، انسانی علم نے ایک ایسی چھلانگ لگائی کہ ہم کائنات کی پیدائش کے عظیم لمحے، یعنی "بگ بینگ" (Big Bang) کی دہلیز تک پہنچ گئے۔



جدید سائنس آج ہمیں بتاتی ہے کہ ہماری کائنات تقریباً 13.8 ارب سال پہلے ایک ناقابلِ تصور حد تک گرم، کثیف اور چھوٹے سے نقطے سے وجود میں آئی۔ یہ نظریہ، جو مشاہدات اور ریاضیاتی ثبوتوں کی ٹھوس بنیادوں پر کھڑا ہے، انسانی تاریخ کی سب سے بڑی عقلی کامیابیوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ لیکن یہاں ایک حیرت انگیز، ایمان افروز اور عقل کو دنگ کر دینے والا سوال پیدا ہوتا ہے: کیا یہ ممکن ہے کہ اس عظیم کائناتی حقیقت، جس تک پہنچنے کے لیے انسان کو ہزاروں سال کی فکری ریاضت اور جدید ترین ٹیکنالوجی کا سہارا لینا پڑا، کا اشارہ آج سے 1400 سال پہلے صحرائے عرب میں نازل ہونے والی ایک کتاب میں دے دیا گیا ہو؟

یہ بلاگ پوسٹ محض ایک معلوماتی مضمون نہیں، بلکہ ایک فکری اور روحانی سفر ہے۔ ہم قرآنِ کریم کی آیات اور جدید کاسمولوجی (Cosmology) کے ٹھوس حقائق کو ساتھ ساتھ رکھ کر دیکھیں گے کہ کس طرح اللہ رب العزت نے اپنی کتاب میں ایسی نشانیاں بیان کی ہیں جو آج کے انسان کے لیے علم اور ایمان، دونوں کے دروازے کھولتی ہیں۔ آئیے، اس سفر کا آغاز کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کس طرح وحیِ الٰہی اور سائنسی تحقیق ایک ہی عظیم حقیقت پر گواہی دے رہی ہیں۔



قرآن کا معجزاتی بیان: جب آسمان اور زمین جڑے ہوئے تھے

قرآنِ کریم کوئی سائنس کی کتاب نہیں، بلکہ یہ ہدایت کی کتاب ہے۔ لیکن اس کی عظمت یہ ہے کہ یہ انسان کو کائنات میں پھیلی نشانیوں پر غور و فکر (تدبر) کی دعوت دیتی ہے۔ کائنات کی تخلیق کے ضمن میں، سورۃ الانبیاء کی ایک آیت ایک ایسے انقلابی تصور کو پیش کرتی ہے جو ساتویں صدی کے انسان کے لیے سمجھنا تو درکنار، تصور کرنا بھی ناممکن تھا۔

أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا

ترجمہ: "کیا ان کافروں نے یہ نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں باہم جڑے ہوئے تھے (ایک اکائی تھے)، پھر ہم نے ان دونوں کو جدا کر دیا۔"

(سورۃ الانبیاء، آیت 30)

یہ آیت اپنے اندر معانی کا ایک سمندر رکھتی ہے۔ اس کی گہرائی کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس کے کلیدی عربی الفاظ کا تجزیہ کرنا ہوگا:

  • رَتْقًا (Ratqan): عربی زبان میں 'رتق' کا مطلب ہے کسی چیز کو مکمل طور پر بند کرنا، سینا، یا دو الگ چیزوں کو ملا کر ایک واحد، یکجان شے بنا دینا جس میں کوئی دراڑ یا جوڑ نظر نہ آئے۔ یہ ایک ایسی اکائی کا تصور ہے جو مکمل طور پر مربوط اور جڑی ہوئی ہو۔ یہ لفظ کائنات کی اس ابتدائی حالت کی طرف اشارہ کر رہا ہے جب تمام مادہ اور توانائی ایک ہی نقطے میں سموئے ہوئے تھے۔
  • فَفَتَقْنَاهُمَا (Fafataqnahuma): 'فتق' کا مطلب 'رتق' کا بالکل الٹ ہے۔ اس کا مطلب ہے کسی جڑی ہوئی چیز کو پھاڑنا، چیرنا، یا دھماکے سے الگ الگ کر دینا۔ یہ ایک ایسے شدید عمل کی طرف اشارہ ہے جس نے اس واحد اکائی کو توڑا اور اس سے کائنات کے مختلف حصوں کو وجود بخشا۔

غور کیجیے، قرآن کتنی وضاحت اور جامعیت کے ساتھ بیان کر رہا ہے کہ کائنات کی تمام چیزیں—جنہیں "آسمانوں اور زمین" سے تعبیر کیا گیا ہے—ابتدا میں ایک واحد، بند اکائی کی شکل میں تھیں، اور پھر ایک عظیم علیحدگی کے عمل سے انہیں جدا کیا گیا۔ یہ تصور ساتویں صدی کے علم کے بالکل برعکس تھا، جہاں زمین کو کائنات کا مرکز اور آسمانوں کو اس کے گرد گھومنے والے الگ الگ طبق مانا جاتا تھا۔ اس آیت نے ایک ایسا انقلابی خیال پیش کیا جس کی تصدیق کے لیے انسانیت کو مزید 1300 سال انتظار کرنا پڑا۔




جدید کاسمولوجی اور بگ بینگ کا نظریہ

اب ہم اپنے سفر کا رخ جدید سائنس کی طرف موڑتے ہیں۔ بیسویں صدی کے اوائل تک، سائنسدانوں کا عمومی خیال یہ تھا کہ کائنات ہمیشہ سے ایسی ہی ہے اور ہمیشہ ایسی ہی رہے گی—یعنی یہ جامد (Static) ہے۔ لیکن پھر پے در پے ایسی دریافتیں ہوئیں جنہوں نے اس تصور کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔

1. سنگولیرٹی (The Singularity) - کائناتی نقطۂ آغاز

بگ بینگ تھیوری کے مطابق، تقریباً 13.8 ارب سال پہلے، کائنات کا تمام مادہ، توانائی، وقت اور مکان (Spacetime) ایک لامحدود کثیف (infinitely dense) اور ناقابلِ تصور حد تک گرم نقطے میں مرکوز تھا۔ سائنسدان اس حالت کو "سنگولیرٹی" (Singularity) کہتے ہیں۔ یہ ایک ایسی حالت تھی جہاں طبیعیات کے تمام مروجہ قوانین جواب دے جاتے ہیں۔ یہ کائنات کا نقطۂ آغاز تھا، ایک ایسی حالت جہاں ہر شے ایک مکمل اور یکجان اکائی تھی۔ کیا یہ قرآن کے بیان کردہ لفظ "رَتْقًا" (ایک جڑی ہوئی اکائی) کی حیرت انگیز سائنسی تصویر نہیں ہے؟

2. عظیم دھماکہ اور کائناتی پھیلاؤ

پھر، ایک نامعلوم محرک کے تحت، یہ سنگولیرٹی ایک سیکنڈ کے کھربویں حصے سے بھی کم وقت میں تیزی سے پھیلنا شروع ہوگئی۔ یہ کوئی عام دھماکہ نہیں تھا جو کسی خالی جگہ میں ہوا ہو، بلکہ یہ خود مکان (Space) کا پھیلاؤ تھا۔ اسی لمحے سے وقت کا آغاز ہوا۔ یہ عظیم واقعہ، جسے ہم بگ بینگ کہتے ہیں، درحقیقت کائنات کا "پھٹنا" یا "جدا ہونا" تھا۔ یہ قرآن کے لفظ "فَفَتَقْنَاهُمَا" (پھر ہم نے اسے پھاڑ دیا) کی بہترین سائنسی تشریح ہے۔ اس پھیلاؤ کے دوران، کائنات ٹھنڈی ہونا شروع ہوئی، جس سے پہلے بنیادی ذرات (Protons, Neutrons, Electrons) بنے، اور پھر لاکھوں سال بعد پہلے ایٹم، ستارے اور کہکشائیں وجود میں آئیں۔

3. پھیلتی ہوئی کائنات کا ثبوت

یہ نظریہ صرف قیاس آرائی نہیں ہے۔ اس کے پیچھے ٹھوس مشاہداتی ثبوت موجود ہیں۔ 1929 میں، ماہرِ فلکیات ایڈون ہبل (Edwin Hubble) نے دریافت کیا کہ کہکشائیں ہم سے دور بھاگ رہی ہیں، اور جو کہکشاں جتنی دور ہے، وہ اتنی ہی تیزی سے دور جا رہی ہے۔ یہ مشاہدہ اس بات کا ثبوت تھا کہ کائنات جامد نہیں بلکہ مسلسل پھیل رہی ہے۔ اگر کائنات آج پھیل رہی ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ ماضی میں یہ چھوٹی اور زیادہ کثیف ہوگی، اور اگر ہم وقت میں مزید پیچھے جائیں تو ایک ایسا وقت آئے گا جب سب کچھ ایک ہی نقطے پر مرکوز ہوگا۔

یہاں ایک بار پھر قرآن کی ایک اور آیت ذہن میں آتی ہے، جو اس پھیلتی ہوئی کائنات کے تصور کو اور بھی مضبوط کرتی ہے:

وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ

ترجمہ: "اور آسمان (کائنات) کو ہم نے اپنے زور سے بنایا اور یقیناً ہم اسے وسعت دے رہے ہیں۔"

(سورۃ الذاریات، آیت 47)

یہاں لفظ "لَمُوسِعُونَ" عربی گرامر کے لحاظ سے حال اور مستقبل میں جاری رہنے والے عمل (continuous action) کو ظاہر کرتا ہے۔ یعنی اللہ فرما رہا ہے کہ ہم کائنات کو مسلسل پھیلا رہے ہیں۔ یہ آیت ایڈون ہبل کی دریافت سے 1350 سال پہلے نازل ہوئی، اور یہ بگ بینگ تھیوری کے بنیادی ستونوں میں سے ایک کی براہِ راست تصدیق کرتی ہے۔


غور و فکر کے نکات: ایمان اور عقل کا سنگم

جب ہم قرآن کی ان آیات کو جدید سائنس کی روشنی میں دیکھتے ہیں، تو چند ناگزیر سوالات پیدا ہوتے ہیں جو ہمیں گہری سوچ پر مجبور کرتے ہیں:

  • علم کا ذریعہ کیا تھا؟ ساتویں صدی کے عرب میں، جہاں نہ کوئی جدید رصد گاہ تھی اور نہ ہی کاسمولوجی کا کوئی علم، یہ کیسے ممکن تھا کہ پیغمبرِ اسلام حضرت محمد (ﷺ) کائنات کی تخلیق کے بارے میں اتنی درست اور گہری سائنسی حقیقت بیان کر سکتے؟ ایک ایسا نظریہ جو اس وقت کے تمام انسانی علم اور مشاہدات کے خلاف تھا۔ اس علم کا واحد ممکنہ ذریعہ صرف اور صرف وہی ذات ہو سکتی ہے جس نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے—یعنی اللہ رب العزت۔
  • سائنس اور مذہب میں ہم آہنگی: اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ سائنس اور مذہب دو متضاد چیزیں ہیں۔ لیکن قرآن کا یہ معجزہ ہمیں بتاتا ہے کہ حقیقی علم اور سچا ایمان ایک دوسرے سے ٹکراتے نہیں، بلکہ ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہیں۔ سائنس ہمیں "کیسے" (How) کا جواب دیتی ہے، جبکہ قرآن ہمیں "کیوں" (Why) اور "کس نے" (Who) کا جواب فراہم کرتا ہے۔ یہ دونوں مل کر ہمیں کائنات کی ایک مکمل تصویر دکھاتے ہیں۔
  • اللہ کی قدرت اور حکمت: کائنات کی تخلیق کا یہ عظیم الشان عمل ہمیں اللہ کی لامحدود قدرت، علم اور حکمت کا احساس دلاتا ہے۔ ایک نقطے سے اتنی وسیع اور منظم کائنات کا وجود میں آنا، جس میں اربوں کہکشائیں ہوں اور ہر کہکشاں میں اربوں ستارے، اور ان میں سے ایک چھوٹے سے سیارے پر زندگی کا پنپنا—یہ سب کسی اندھے اتفاق کا نتیجہ نہیں ہو سکتا۔ یہ ایک عظیم منصوبہ ساز کے وجود کی گواہی دیتا ہے۔

یہ آیات ہمیں صرف کائنات کی تاریخ نہیں بتا رہیں، بلکہ ہمیں ہماری اپنی حقیقت یاد دلا رہی ہیں۔ ہم اس عظیم کائناتی منصوبے کا ایک حصہ ہیں۔ ہماری تخلیق بے مقصد نہیں۔ جس رب نے اتنی بڑی کائنات کو ایک منصوبے کے تحت بنایا، اس نے انسان کو بھی ایک خاص مقصد کے لیے پیدا کیا ہے۔


نتیجہ: ایک دعوتِ فکر

کائنات کی ابتدا کا سفر ایک حیرت انگیز سفر ہے۔ یہ ہمیں ہماری حقیر حیثیت اور ہمارے خالق کی لامتناہی عظمت کا احساس دلاتا ہے۔ قرآن اور سائنس کا یہ سنگم ہمیں یہ بتاتا ہے کہ ایمان اور عقل ایک ہی منزل کے دو راستے ہیں۔ بگ بینگ کا نظریہ اللہ کی خلاقی قوت کا انکار نہیں، بلکہ اس کی شان "الخالق" اور "البدیع" (بغیر نمونے کے پیدا کرنے والا) کا سائنسی ثبوت ہے۔

جب ایک مسلمان رات کو آسمان کی طرف دیکھتا ہے، تو اسے نہ صرف ستارے نظر آتے ہیں، بلکہ اسے اپنے رب کی وہ نشانیاں نظر آتی ہیں جن کا ذکر اس کی کتاب میں کیا گیا ہے۔ یہ مشاہدہ اس کے علم میں بھی اضافہ کرتا ہے اور ایمان میں بھی۔

اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل اور سمجھ اس لیے عطا کی ہے کہ ہم اس کی تخلیق میں غور و فکر کریں اور اس کی معرفت حاصل کریں۔ کائنات کی یہ نشانی ہمیں یہی دعوت دے رہی ہے۔


"یقیناً آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں، اور رات اور دن کے آنے جانے میں، عقل والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔"

(سورۃ آل عمران، آیت 190)





No comments:

Post a Comment

Post Top Ad