اللہ کی نشانیاں

🌟 آج کی آیت

لوڈ ہو رہا ہے...

Saturday, October 25, 2025

اصحاب کہف: ایمان، استقامت اور وقت کا معجزہ | اللہ کی نشانیاں

اصحاب کہف: ایمان، استقامت اور وقت کا معجزہ | اللہ کی نشانیاں

🌿 اصحاب کہف: وقت کے پردوں میں چھپا ایمان کا نور 🌿

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ہر جمعہ کو سورۃ الکہف کی تلاوت کا حکم ہمیں یوں ہی نہیں دیا گیا۔ یہ سورت فتنوں کے دور میں ایک ڈھال ہے، ایک نور ہے جو ہمیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے۔۔۔ اور اسی سورت کے سینے میں ایک ایسا حیرت انگیز واقعہ پوشیدہ ہے جو عقل کو دنگ اور ایمان کو تازہ کر دیتا ہے۔ یہ قصہ ہے "اصحاب کہف" کا۔۔۔ ان چند نوجوانوں کا جنہوں نے اپنے ایمان کو بچانے کے لیے وقت کی پناہ گاہ کو نہیں، بلکہ وقت کے خالق کی پناہ کو چنا۔

آئیے، آج ہم اس قرآنی معجزے کے روحانی اور فکری پہلوؤں پر غور کرتے ہیں، کہ کس طرح اللہ رب العزت نے اپنے چند مخلص بندوں کو زمانے کی گردش سے محفوظ رکھا اور انہیں رہتی دنیا تک اپنی قدرت کی ایک عظیم نشانی بنا دیا۔

💭 پس منظر: جب ایمان کی قیمت جان تھی

یہ اس دور کی بات ہے جب زمین پر شرک اور بت پرستی کا راج تھا۔۔۔ بادشاہ (روایات کے مطابق دقیانوس) خود کو خدا کہلاتا تھا اور رعایا کو مجبور کرتا تھا کہ وہ اس کے آگے سجدہ ریز ہوں۔ ایسے گھٹن زدہ ماحول میں، جہاں توحید کا نام لینا بھی جرم تھا، چند نوجوانوں کے دلوں میں اللہ نے ایمان کی شمع روشن کر دی۔

وہ جانتے تھے کہ اس ظالم معاشرے میں رہ کر وہ اپنے ایمان کی حفاظت نہیں کر سکتے۔ انہوں نے باطل کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا اور ایک فیصلہ کن قدم اٹھایا۔ اللہ تعالیٰ ان کے اس عزم کو یوں بیان فرماتا ہے:

إِذْ قَامُوا فَقَالُوا رَبُّنَا رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَن نَّدْعُوَ مِن دُونِهِ إِلَٰهًا ۖ لَّقَدْ قُلْنَا إِذًا شَطَطًا "جب وہ (اٹھ) کھڑے ہوئے تو کہنے لگے کہ ہمارا پروردگار آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے، ہم اس کے سوا کسی کو معبود سمجھ کر نہ پکاریں گے، (اگر ایسا کیا) تو اس وقت ہم نے بہت غلط بات کہی۔"
(سورۃ الکہف، آیت: 14)

🛡️ ایمان کا فیصلہ اور ہجرت

ان نوجوانوں نے معاشرتی دباؤ، شاہی عتاب اور دنیاوی آسائشوں کو ٹھکرا کر صرف اپنے رب کو چنا۔ انہوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ جب ہم نے ان باطل معبودوں سے کنارہ کشی اختیار کر ہی لی ہے، تو آؤ اب کسی غار میں پناہ لے لیں۔۔۔ ان کا یہ عمل توکل کی معراج تھا۔ انہوں نے اسباب کی دنیا سے نکل کر مسبب الاسباب پر بھروسہ کیا۔

⛰️ غار کی پناہ: رحمت کی آغوش

وہ نوجوان اپنی بستی سے نکلے اور ایک وسیع غار میں پناہ گزین ہوئے۔ ان کے ساتھ ان کا وفادار کتا بھی تھا۔۔۔ جب وہ تھک کر اس غار میں لیٹے، تو اللہ نے ان پر اپنی رحمت کی چادر ڈال دی اور ان پر ایک گہری نیند طاری کر دی۔ یہ کوئی عام نیند نہ تھی، یہ ایک معجزہ تھا جو صدیوں پر محیط ہونے والا تھا۔

اللہ نے صرف انہیں سلایا ہی نہیں، بلکہ ان کی حفاظت کا بھی کتنا خوبصورت انتظام فرمایا۔ یہ غار ایسی جگہ پر واقع تھا کہ سورج کی تپش براہِ راست ان پر نہیں پڑتی تھی، مگر روشنی اور ہوا کا گزر ہوتا رہتا تھا۔

وَتَرَى الشَّمْسَ إِذَا طَلَعَت تَّزَاوَرُ عَن كَهْفِهِمْ ذَاتَ الْيَمِينِ وَإِذَا غَرَبَت تَّقْرِضُهُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ... "اور تم سورج کو دیکھتے کہ جب نکلتا تو ان کے غار سے دائیں طرف ہٹ جاتا اور جب غروب ہوتا تو ان سے بائیں طرف کترا جاتا تھا۔۔۔"
(سورۃ الکہف، آیت: 17)

☀️ فطرت کا قانون، ایمان کی خاطر

ذرا سوچیے! اللہ نے اپنے بندوں کے لیے سورج کا راستہ بدل دیا۔۔۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جب انسان اللہ کے لیے ہجرت کرتا ہے، تو اللہ کائنات کے قوانین کو بھی اس کا تابع بنا دیتا ہے۔ وہ نوجوان سوتے رہے اور اللہ انہیں دائیں بائیں کروٹیں دلاتا رہا، تاکہ ان کے جسم محفوظ رہیں۔۔۔ یہ ہے وہ حفاظت جو صرف رب کی پناہ میں ملتی ہے۔

⏳ وقت کا سفر: تین سو نو سال بعد

ایک طویل مدت گزر گئی۔۔۔ روایات کے مطابق 309 سال۔ بستیوں کے نقشے بدل گئے، سلطنتیں الٹ گئیں، ظالم بادشاہ مٹی تلے دب گئے اور ان کی جگہ نئی نسلیں آباد ہو گئیں جو توحید پر ایمان رکھتی تھیں۔

پھر اللہ نے انہیں اٹھایا۔ وہ بیدار ہوئے تو ایک دوسرے سے پوچھنے لگے، "ہم یہاں کتنی دیر ٹھہرے ہوں گے؟" کسی نے کہا، "ایک دن یا اس سے بھی کم۔" انہیں گمان بھی نہ تھا کہ وہ وقت کی ایک طویل مسافت طے کر چکے ہیں۔۔۔

🪙 چاندی کا سکہ جس نے راز کھولا

انہیں بھوک لگی تو انہوں نے اپنے میں سے ایک کو چاندی کے چند سکے دے کر شہر بھیجا کہ پاکیزہ کھانا لے آئے۔ جب وہ شخص شہر پہنچا تو سب کچھ بدلا ہوا پایا۔ دکاندار کو جب اس نے صدیوں پرانا سکہ دیا تو وہ حیران رہ گیا۔ بات بادشاہ تک پہنچی۔

جب تحقیق ہوئی تو معلوم ہوا کہ یہ وہی نوجوان ہیں جن کا ذکر ان کی تاریخ کی کتابوں میں لکھا تھا، جو اپنے ایمان کو بچانے کے لیے غائب ہو گئے تھے۔ یوں اللہ نے اپنی نشانی کو ظاہر کر دیا۔

🌟 اس قصے میں ہمارے لیے نشانیاں

اصحاب کہف کا یہ واقعہ صرف ایک تاریخی داستان نہیں، بلکہ یہ ایمان، توکل اور آخرت پر یقین کا ایک زندہ ثبوت ہے۔ اس میں ہمارے لیے کئی گہرے سبق پوشیدہ ہیں:

1. ایمان پر استقامت کا انعام

ان نوجوانوں نے باطل کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ اللہ نے انہیں نہ صرف محفوظ رکھا بلکہ انہیں قیامت تک کے لیے ایمان والوں کے لیے ایک مثال بنا دیا۔ یہ سبق ہے کہ جو اللہ کے لیے کھڑا ہوتا ہے، اللہ اسے کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔

2. اللہ کی پناہ سب سے محفوظ قلعہ ہے

دنیا کی کوئی طاقت، کوئی بادشاہ، کوئی فوج آپ کو وہ تحفظ نہیں دے سکتی جو اللہ کی پناہ میں ہے۔ وہ غار، جو بظاہر ایک غیر محفوظ جگہ تھی، اللہ کے حکم سے صدیوں تک ان کے لیے محفوظ ترین پناہ گاہ بن گئی۔

3. بعث بعد الموت (مرنے کے بعد جی اٹھنے) کی دلیل

اس وقت کے لوگ مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے پر شک کرنے لگے تھے۔ اللہ نے اصحاب کہف کو 309 سال بعد دوبارہ اٹھا کر، اسی دنیا میں، یہ دکھا دیا کہ جو ذات اتنی طویل نیند کے بعد اٹھا سکتی ہے، وہ موت کے بعد دوبارہ زندگی دینے پر بھی قادر ہے۔

☁️ روحانی نتیجہ: دل کی آنکھ سے دیکھو ☁️
اصحاب کہف کا معجزہ ہمیں سکھاتا ہے کہ وقت اور زمانے اللہ کے اختیار میں ہیں۔۔۔ ہو سکتا ہے آج آپ بھی اپنے ایمان کی وجہ سے کسی "غار" میں پناہ گزین ہوں، مشکلات میں گھرے ہوں، تنہا محسوس کرتے ہوں۔۔۔ لیکن یقین رکھیے، آپ کا رب آپ کو دیکھ رہا ہے۔ وہ آپ کے لیے بھی کائنات کے نظام کو بدل سکتا ہے۔۔۔ بس توکل کی ڈور کو مضبوطی سے تھامے رہیں، کیونکہ ایمان کی نیند کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، اس کی صبح ہمیشہ روشن ہوتی ہے۔

🌸 غور کرو، دیکھو، سوچو — تمہارے چاروں طرف اللہ کی قدرت کے جلوے ہیں 🌸

No comments:

Post a Comment

Post Top Ad