اللہ کی نشانیاں

🌟 آج کی آیت

لوڈ ہو رہا ہے...

Saturday, October 25, 2025

نظامِ شمسی: اللہ کی قدرت کا ایک عظیم الشان مظہر

نظامِ شمسی: اللہ کی قدرت کا ایک عظیم الشان مظہر

🌌 نظامِ شمسی: اللہ کی قدرت کا ایک عظیم الشان مظہر 🌌

کائنات کی وسعتوں میں پھیلا ایک ایسا نظام جو خالق کی عظمت، حکمت اور بے مثال منصوبہ بندی کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔

جب ہم رات کے مخملی آسمان پر نظر ڈالتے ہیں، تو ان گنت ٹمٹماتے ستارے اور سیارے ہمیں اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔۔۔ لیکن ہمارے اپنے گھر، نظامِ شمسی سے بڑھ کر کوئی چیز ہمیں اللہ کی کاریگری پر غور کرنے کی دعوت نہیں دیتی۔ یہ صرف آگ کے گولوں اور چٹانوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک نہایت باریک بینی سے ترتیب دیا گیا، متوازن اور مربوط نظام ہے جس میں ہر چیز ایک الٰہی حکم کے تابع ہے۔ قرآنِ مجید ہمیں بار بار کائنات پر غور و فکر (تفکر) کی دعوت دیتا ہے، اور ہمارا نظامِ شمسی اس تفکر کے لیے ایک بہترین نقطہ آغاز ہے۔

☀️ سورج: ایک دہکتا چراغ اور زندگی کی ضمانت

ہمارے نظامِ شمسی کا مرکز، سورج۔۔۔ یہ محض ایک ستارہ نہیں، بلکہ زمین پر زندگی کی بقا کا ضامن ہے۔ اس کی روشنی اور حرارت ایک ایسے متوازن انداز میں ہم تک پہنچتی ہے جو زندگی کے پھلنے پھولنے کے لیے بالکل موزوں ہے۔ اگر یہ تھوڑا قریب ہوتا تو سب کچھ جل کر راکھ ہو جاتا، اور اگر تھوڑا دور ہوتا تو سب کچھ جم کر برف بن جاتا۔ یہ محض ایک اتفاق نہیں ہو سکتا۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں سورج کو ایک "روشن چراغ" (سِرَاجًا وَهَّاجًا) قرار دیا ہے، جو اس کی توانائی بخشنے والی فطرت کی بہترین عکاسی ہے۔ ذرا سوچیے، اربوں سال سے جلنے والا یہ چراغ بغیر کسی خلل کے اپنی روشنی اور توانائی بکھیر رہا ہے، اور اس کا ہر ایک عمل ایک مقررہ حساب کے تحت ہے۔

وَجَعَلْنَا سِرَاجًا وَهَّاجًا "اور ہم نے (سورج کو) ایک نہایت روشن چراغ بنایا۔" (سورۃ النبأ: 13)

🌙 چاند: وقت کا پیمانہ اور رات کا نور

سورج اگر دن کا بادشاہ ہے تو چاند رات کا سکون ہے۔۔۔ اللہ نے اسے محض روشنی کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ اسے "منازل" (گھٹنے بڑھنے کے مراحل) کے ساتھ منسلک کر دیا تاکہ انسان اس سے مہینوں اور برسوں کا حساب لگا سکے۔ یہ ایک قدرتی کیلنڈر ہے جو آسمان پر ہر رات واضح طور پر آویزاں ہوتا ہے۔

چاند کا زمین کے گرد ایک مخصوص مدار میں گھومنا، اور اس کے نتیجے میں سمندروں میں مدوجزر (tides) پیدا ہونا، زمین کے موسموں پر اثر انداز ہونا۔۔۔ یہ سب ایک ایسی حکمت کی نشانیاں ہیں جسے دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ یہ چاند، جو کبھی باریک ہلال کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور کبھی چودھویں کا مکمل بدر بن کر چمکتا ہے، ہمیں وقت کے گزرنے کا احساس دلاتا ہے۔

هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاءً وَالْقَمَرَ نُورًا وَقَدَّرَهُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ "وہی ہے جس نے سورج کو روشن (ضیاء) اور چاند کو چمکدار (نور) بنایا اور اس کے لیے منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کی گنتی اور حساب جان سکو۔" (سورۃ یونس: 5)

🪐 سیاروں کی گردش: ایک الٰہی رقص

ہمارے نظامِ شمسی میں صرف زمین ہی نہیں، بلکہ عطارد، زہرہ، مریخ، مشتری اور دیگر سیارے بھی سورج کے گرد اپنے اپنے مدار میں محوِ گردش ہیں۔۔۔ اربوں سال سے جاری اس سفر میں کوئی سیارہ اپنے راستے سے نہیں بھٹکتا، کوئی دوسرے سے نہیں ٹکراتا۔ یہ ایک ایسا محیّر العقول رقص ہے جو ایک عظیم ترین ڈائریکٹر کے حکم پر ہو رہا ہے۔

قرآن اس کیفیت کو "کُلٌّ فِی فَلَکٍ یَسْبَحُونَ" (سب ایک ایک فلک میں تیر رہے ہیں) کے الفاظ سے بیان کرتا ہے۔ یہ "تیرنا" (swimming) کا لفظ کتنا خوبصورت ہے! یہ خلا کی وسعت میں ان اجرامِ فلکی کی پرسکون، ہموار اور مسلسل حرکت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ کششِ ثقل (Gravity) کا قانون، جسے سائنس نے دریافت کیا، دراصل اسی الٰہی حکم کی تعمیل ہے جس نے ہر چیز کو اس کے مقام پر باندھ رکھا ہے۔

لَا الشَّمْسُ يَنB3َغِي لَهَا أَن تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ ۚ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ "نہ سورج کی مجال ہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات دن پر سبقت لے جا سکتی ہے۔ سب ایک ایک فلک میں تیر رہے ہیں۔" (سورۃ یٰس: 40)

🌍 زمین: زندگی کا معجزاتی گہوارہ

اس وسیع و عریض، اور اکثر مقامات پر انتہائی شدید (hostile) نظامِ شمسی میں، ہماری زمین ایک نخلستان کی حیثیت رکھتی ہے۔۔۔ یہ واحد معلوم سیارہ ہے جہاں زندگی اپنے پورے جوبن پر ہے۔ کیوں؟ کیونکہ اللہ نے اسے زندگی کے لیے ایک "محفوظ چھت" اور "گہوارہ" بنایا ہے۔

غور کیجئے۔۔۔ زمین کا اپنی محور پر 23.5 ڈگری جھکاؤ، جو موسموں کو جنم دیتا ہے۔۔۔ اس کے گرد موجود مقناطیسی میدان (Magnetic Field) جو ہمیں سورج کی مہلک شعاعوں سے بچاتا ہے۔۔۔ اس کا کرۂ ہوائی (Atmosphere) جو نہ صرف ہمیں آکسیجن فراہم کرتا ہے بلکہ شہابِ ثاقب کو جلا کر راکھ کر دیتا ہے۔۔۔ اور سب سے بڑھ کر، پانی کی موجودگی! یہ سب باریکیاں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ اس زمین کو خاص طور پر زندگی کے لیے "ڈیزائن" کیا گیا ہے۔

وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَّحْفُوظًا ۖ وَهُمْ عَنْ آيَاتِهَا مُعْرِضُونَ "اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنا دیا، اور وہ اس کی نشانیوں سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔" (سورۃ الانبیاء: 32)

💭 روحانی نتیجہ: اس نظام میں ہمارے لیے کیا سبق ہے؟

نظامِ شمسی کا مطالعہ محض سائنسی علم کا حصول نہیں ہے، بلکہ یہ ایک روحانی سفر ہے۔۔۔ یہ ہمیں ہماری حیثیت یاد دلاتا ہے۔ اس عظیم کائناتی نظام میں ہماری زمین ایک ذرّے سے زیادہ نہیں، اور اس ذرّے پر ہماری حیثیت کیا ہے؟ یہ سوچ انسان کے اندر عاجزی اور انکساری پیدا کرتی ہے۔

جب ہم دیکھتے ہیں کہ اربوں سیارے اور ستارے ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے کے لیے بھی اپنے خالق کے حکم سے سرتابی نہیں کرتے، تو ہمیں بحیثیتِ انسان اپنی زندگی پر غور کرنا چاہیے۔۔۔ کیا ہم اس رب کے حکم کے تابع ہیں جس نے ہمارے لیے یہ پوری کائنات مسخر کر دی؟

یہ نظامِ شمسی۔۔۔ یہ سورج کی تپش، چاند کی ٹھنڈک، اور سیاروں کی منظم گردش۔۔۔ یہ سب ایک ہی سچائی کا اعلان کر رہے ہیں: کہ اس کائنات کا کوئی خالق ہے، وہ ایک ہے، وہ حکیم ہے، اور وہ قادرِ مطلق ہے۔ یہ نظام توازن (میزان) کی علامت ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ جس طرح کائنات ایک توازن پر قائم ہے، اسی طرح ہمیں بھی اپنی زندگی میں اعتدال اور توازن قائم کرنا چاہیے۔

🌸 غور کرو، دیکھو، سوچو — تمہارے چاروں طرف اللہ کی قدرت کے جلوے ہیں 🌸

No comments:

Post a Comment

Post Top Ad