اللہ کی نشانیاں

🌟 آج کی آیت

لوڈ ہو رہا ہے...

Sunday, October 26, 2025

انسان کی دم کیوں نہیں؟ دمچی کی ہڈی کا سائنسی اور اسلامی راز

انسان کی دم کیوں نہیں؟ دمچی کی ہڈی کا سائنسی اور اسلامی راز

انسان کی دمچی (Tailbone): ایک پوشیدہ حکمت اور احسنِ تقویم کا ثبوت

کیا آپ نے کبھی اپنی ریڑھ کی ہڈی کے آخری سرے کو چھو کر سوچا ہے کہ یہاں ایک ہڈی تو ہے، مگر ہماری دم کہاں ہے؟ ۔۔۔ یہ سوال بظاہر بچگانہ لگ سکتا ہے، لیکن یہ حیاتیات اور تخلیق کے گہرے رازوں میں سے ایک ہے۔۔۔۔ جانوروں کی دنیا میں دمیں توازن، ابلاغ اور دفاع کے لیے استعمال ہوتی ہیں، لیکن انسان، جو اشرف المخلوقات ہے، اس سے مستثنیٰ کیوں ہے؟ ۔۔۔۔ آئیے، ہم اس چھوٹی سی ہڈی، جسے 'دمچی' یا 'Coccyx' کہتے ہیں، کے پیچھے چھپی سائنسی دریافتوں اور لازوال اسلامی حکمت کو تلاش کرتے ہیں۔۔۔۔
انسانی ریڑھ کی ہڈی کا ماڈل دمچی کی ہڈی یا عجب الذنب کو دکھا رہا ہے

💭 سائنسی توجیہہ: ایک جینیاتی تبدیلی کا انکشاف

جدید سائنس، جو ہمیشہ 'کیسے' کی تلاش میں رہتی ہے، نے حال ہی میں اس کا ایک ممکنہ جواب جینز میں پایا ہے۔۔۔۔ سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ تقریباً ڈھائی کروڑ سال قبل، انسانوں اور بن مانسوں (Apes) کے مشترکہ جدِ امجد میں ایک جینیاتی تبدیلی (Mutation) واقع ہوئی۔۔۔ یہ تبدیلی 'TBXT' نامی ایک جین میں رونما ہوئی، جو دم کی نشوونما میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔۔۔۔ اس ایک تبدیلی نے دم بننے کے عمل کو مؤثر طریقے سے روک دیا۔۔۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ یہ تبدیلی شاید اس وقت ہوئی جب ہمارے اجداد نے دو ٹانگوں پر چلنا (Bipedalism) شروع کیا، جس سے توازن کے لیے دم کی ضرورت باقی نہ رہی۔
اس نظریے کو پرکھنے کے لیے، جب محققین نے چوہوں میں یہی جینیاتی تبدیلی پیدا کی، تو ان چوہوں میں بھی یا تو دمیں پیدا ہی نہیں ہوئیں، یا پھر بہت چھوٹی اور بے ترتیب شکل کی پیدا ہوئیں۔۔۔۔ چارلس ڈارون نے بھی اپنے نظریۂ ارتقاء میں اس بات کا ذکر کیا تھا کہ انسانوں میں دمچی کی ہڈی (Coccyx) اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ہمارے اجداد دم رکھتے تھے۔۔۔۔ تاہم، سائنس یہ تو بتاتی ہے کہ یہ 'کیسے' ہوا، لیکن یہ نہیں بتاتی کہ یہ 'کیوں' ہوا اور اس کا حتمی مقصد کیا تھا۔

🌿 احسنِ تقوِيم: قرآن کا ابدی فیصلہ

جہاں سائنس کا 'کیسے' ختم ہوتا ہے، وہاں سے ایمان کا 'کیوں' شروع ہوتا ہے۔۔۔۔ اسلام ہمیں بتاتا ہے کہ انسان کی تخلیق کوئی حادثہ نہیں، بلکہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے، جسے کائنات کے سب سے بڑے مصور، اللہ رب العزت نے خود تشکیل دیا۔۔۔ انسان کی موجودہ شکل، بغیر دم کے، اس کی حتمی اور بہترین شکل ہے۔۔۔
لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ "یقیناً ہم نے انسان کو بہترین ساخت (اور سب سے اچھے انداز) پر پیدا کیا ہے۔" (سورۃ التین: 4)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ ہمارا سیدھا قد، دو ٹانگوں پر چلنا، اور ہمارے ہاتھ، جو چیزوں کو پکڑنے اور کام کرنے کے لیے آزاد ہیں، یہ سب 'احسنِ تقویم' کا حصہ ہیں۔۔۔ اس بہترین ڈیزائن میں دم کی کوئی گنجائش یا ضرورت نہیں تھی۔ اللہ کی حکمت نے یہ فیصلہ کیا کہ انسان کو توازن کے لیے دم کی نہیں، بلکہ ایک پیچیدہ اندرونی کان اور دماغی نظام کی ضرورت ہوگی۔۔۔ لہٰذا، دم کا نہ ہونا کوئی کمی نہیں، بلکہ یہ ہماری تخلیق کا کمال ہے۔

💡 دمچی کی ہڈی (عجب الذنب) کی روحانی اہمیت

دلچسپ بات یہ ہے کہ جس ہڈی کو سائنس آج ایک 'بے کار' ارتقائی باقیات (Vestigial structure) سمجھتی رہی ہے، اسلام نے 1400 سال پہلے ہی اس کی ایک گہری روحانی اہمیت بیان کر دی تھی۔۔۔ احادیثِ مبارکہ میں اس ہڈی کو 'عَجْبُ الذَّنَب' (دم کی جڑ یا بنیاد) کہا گیا ہے۔
كُلُّ ابْنِ آدَمَ يَأْكُلُهُ التُّرَابُ، إِلَّا عَجْبَ الذَّنَبِ، مِنْهُ خُلِقَ وَفِيهِ يُرَكَّبُ "ابن آدم کے ہر حصے کو مٹی کھا جائے گی، سوائے 'عجب الذنب' (دمچی کی ہڈی) کے۔ اسی سے اسے (پہلی بار) پیدا کیا گیا اور اسی سے اسے (قیامت کے دن) دوبارہ جوڑا جائے گا۔" (صحیح مسلم)
سبحان اللہ!۔۔۔ یہ حدیث اس چھوٹی سی ہڈی کو ہماری تخلیق کی بنیاد اور ہمارے دوبارہ جی اٹھنے کا بیج قرار دیتی ہے۔۔۔۔ سائنسدانوں نے بھی تجربات سے ثابت کیا ہے کہ یہ ہڈی انتہائی شدید دباؤ، حرارت، یا کیمیائی عمل سے بھی مکمل طور پر فنا نہیں ہوتی۔۔۔ یہ ایک ناقابلِ تلف (Indestructible) حصہ ہے۔۔۔۔ گویا اللہ تعالیٰ نے اپنی نشانی ہمارے جسم میں ہی محفوظ کر دی ہے کہ جس نے پہلی بار پیدا کیا، وہی دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے۔

⚖️ سائنس اور ایمان کا حسین امتزاج

بحیثیت مسلمان، ہم علم کے حصول کو عبادت سمجھتے ہیں۔۔۔۔ سائنس کی یہ دریافت کہ 'TBXT' جین میں تبدیلی سے دم غائب ہوئی، ہمارے ایمان کو کمزور نہیں کرتی، بلکہ مزید پختہ کرتی ہے۔۔۔۔ یہ جینیاتی تبدیلی کوئی 'حادثہ' نہیں تھی، بلکہ یہ اللہ کا 'کُن' کہنے کا ایک طریقہ تھا۔۔۔۔ یہ وہ تخلیقی عمل تھا جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اپنے ارادے یعنی 'احسنِ تقویم' کو نافذ فرمایا۔
سائنسدان یہ بھی بتاتے ہیں کہ اس جینیاتی تبدیلی کا ایک منفی اثر 'نیورل ٹیوب' کی خرابیوں (جیسے Spina Bifida) کی صورت میں ظاہر ہو سکتا ہے۔۔۔۔ یہ ہمیں اللہ کی تخلیق کے نازک توازن کی یاد دلاتا ہے۔۔۔۔ اس نے ہمیں بہترین شکل میں بنایا، اور اس عمل میں چھپی حکمتیں اور آزمائشیں بھی اسی کے علم میں ہیں۔۔۔۔
☁️ روحانی نتیجہ انسان کے پاس دم کا نہ ہونا کوئی ارتقائی کمی یا حادثہ نہیں، بلکہ یہ اللہ رب العزت کا ایک سوچا سمجھا فیصلہ اور 'احسنِ تقویم' کا عملی ثبوت ہے۔۔۔۔ اور دمچی کی ہڈی کا باقی رہنا۔۔۔ یہ نہ صرف ہمارے ماضی کی، بلکہ ہمارے مستقبل یعنی 'آخرت میں دوبارہ جی اٹھنے' کی بھی ایک روشن نشانی ہے۔۔۔۔
پس، ہر تخلیق میں اس کے خالق کی حکمت پوشیدہ ہے۔ غور و فکر کرنے والوں کے لیے اس میں نشانیاں ہیں۔

No comments:

Post a Comment

Post Top Ad