بلوچستان کے افق پر 'آتشی قوس قزح': اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی
کل بلوچستان کی وسیع و عریض فضاؤں نے ایک ایسا منظر پیش کیا کہ گویا آسمان نے اپنے سینے میں چھپے خزانوں میں سے ایک رنگین جھلک اہل زمین کو دکھا دی ہو۔۔۔ کوئٹہ، دالبندین اور ضلع چاغی کے باشندوں نے آسمان پر بادلوں کے درمیان رنگ و نور کی ایک ایسی لہر دیکھی جو کسی انسانی مصور کے بس کی بات نہیں۔۔۔ یہ منظر اتنا اچانک، اتنا حسین اور اتنا غیر معمولی تھا کہ دیکھنے والے دنگ رہ گئے اور دلوں میں ایک ہی سوال نے جنم لیا: آخر یہ کیا ہے؟ ... یہ رنگین دھواں کیسا ہے؟ ... کیا یہ کوئی میزائل تجربہ ہے یا آسمان پر کوئی عجوبہ رونما ہوا ہے؟
یقیناً یہ ایک عجوبہ تھا، مگر کسی انسانی ہاتھ کا نہیں، بلکہ اس خالقِ کائنات کا، جو ہر لمحہ ہمیں اپنی نشانیاں دکھاتا رہتا ہے۔۔۔ آئیے، آج ہم اسی آسمانی نشانی کے پردے میں چھپی حکمت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
📖 افق کے پار: قرآن کا وعدہ
اس سے پہلے کہ ہم اس منظر کی سائنسی گہرائی میں اتریں، آئیے اپنے رب کا وہ وعدہ یاد کریں جو اس نے اپنی کتابِ مبین میں کیا ہے۔۔۔ اللہ رب العزت فرماتا ہے کہ وہ ہمیں اس کائنات میں اور خود ہماری ذات میں اپنی نشانیاں (آیات) دکھاتا رہے گا، یہاں تک کہ حق ہم پر واضح ہو جائے۔
بلوچستان کے آسمان پر نظر آنے والا یہ رنگین شاہکار، اسی قرآنی وعدے کی ایک جھلک ہے۔۔۔ یہ "آفاق" میں اللہ کی ایک ایسی نشانی ہے جو اہل نظر کو دعوتِ فکر دیتی ہے۔
☁️ آسمانی قندیل: یہ 'آتشی قوس قزح' کیا تھی؟
اس نایاب اور مسحور کن منظر کو، جسے بعض لوگ "فائر رینبو" (Fire Rainbow) یعنی 'آتشی قوس قزح' کہتے ہیں، سائنسی اصطلاح میں "سرکم ہوریزونٹل آرک" (Circumhorizontal Arc) یا عرف عام میں "رینبو برج" (Rainbow Bridge) کہا جاتا ہے۔۔۔۔
یہ نام سُن کر ذہن فوراً عام قوس قزح کی طرف جاتا ہے، لیکن یہ اس سے بالکل مختلف ہے۔۔۔ عام قوس قزح بارش کے بعد سورج کے مخالف سمت میں بنتی ہے، مگر یہ "رینبو برج" اس وقت بنتا ہے جب سورج آسمان پر تقریباً اپنے عروج پر ہوتا ہے (یعنی 58 ڈگری یا اس سے بھی زیادہ کے زاویے پر)۔
🌿 حکمتِ خداوندی اور سائنسی توجیہہ
اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو جن قوانین پر بنایا ہے، یہ منظر ان قوانین کا ایک حسین امتزاج ہے۔۔۔ یہ رنگین کھیل آسمان کی انتہائی بلندیوں پر، تقریباً 20,000 فٹ (چھ کلومیٹر) سے بھی زیادہ اونچائی پر موجود پتلے اور ریشمی 'سائرس' بادلوں (Cirrus Clouds) میں وقوع پذیر ہوتا ہے۔۔۔ اتنی بلندی پر درجہ حرارت نقطہ انجماد سے بہت نیچے ہوتا ہے، اس لیے یہ بادل پانی کے قطروں کے بجائے لاکھوں کروڑوں ننھے منے مسدس (Hexagonal) یعنی چھ کونوں والے برف کے ذرات (Ice Crystals) پر مشتمل ہوتے ہیں۔
🔬 پرزم کا کھیل: یہ رنگ کیسے بنے؟
جب سورج کی روشنی ایک خاص بلند زاویے سے ان برف کے ذرات پر پڑتی ہے، تو یہ ننھے ذرات ایک 'پرزم' (Prism) کا کام انجام دیتے ہیں۔۔۔۔ ہر برف کا ذرہ، جو ایک شفاف مسدس شیشے کی مانند ہوتا ہے، سورج کی سفید روشنی کو اپنے اندر داخل کرتا ہے اور پھر اسے باہر خارج کرتے ہوئے اپنے سات بنیادی رنگوں میں توڑ (Refract) دیتا ہے۔۔۔۔
یہ لاکھوں کروڑوں ذرات جب مل کر یہ عمل کرتے ہیں، تو بادلوں کے نیچے رنگوں کا ایک وسیع افقی (Horizontal) بینڈ بن جاتا ہے، جو ہمیں اس "آتشی قوس قزح" کی صورت میں نظر آتا ہے۔۔۔ یہ دراصل بادلوں پر پڑنے والا سورج کا عکس ہے جو رنگوں میں بکھر گیا ہے۔
✨ یہ منظر اتنا نایاب کیوں ہے؟
یہ واقعہ انتہائی نایاب اس لیے ہے کیونکہ اس کے بننے کے لیے تمام شرائط کا بیک وقت، ایک لمحے کے لیے، کامل توازن میں ہونا ضروری ہے:
- سورج کا زاویہ: سورج کا افق سے 58 ڈگری سے زیادہ بلند ہونا لازمی ہے، جو دنیا کے ہر حصے میں اور ہر وقت ممکن نہیں۔
- بادلوں کی قسم: آسمان پر صرف اور صرف بلند سطح والے 'سائرس' بادلوں کا ہونا ضروری ہے۔
- برف کے ذرات کی سمت: ان بادلوں میں موجود مسدس برف کے ذرات کی سمت (Orientation) بالکل درست ہونی چاہیے (یعنی ان کی سطح افقی ہو) تاکہ وہ پرزم کا کام کر سکیں۔
اگر ان میں سے ایک بھی شرط پوری نہ ہو— مثلاً سورج تھوڑا سا بھی نیچے ہو، یا بادل گھنے ہوں، یا برف کے ذرات کا رخ درست نہ ہو— تو یہ رنگ فوراً غائب ہو جاتے ہیں۔۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ یہ منظر عموماً صرف چند منٹوں کے لیے ہی ظاہر ہوتا ہے اور ہر کسی کو نظر نہیں آتا۔
💭 افواہوں کا ازالہ: کیا یہ کوئی میزائل تھا؟
اس منظر کی غیر معمولی نوعیت کی وجہ سے، بعض احباب نے قیاس کیا کہ شاید یہ کسی میزائل تجربے کا دھواں ہے۔۔۔ تاہم، یہ خیال درست نہیں ہے۔۔۔ یہ خالصتاً ایک قدرتی اور موسمیاتی عمل (Atmospheric Phenomenon) ہے، جس کی سائنسی وضاحت موجود ہے۔
جہاں تک اسے "فائر رینبو" (آتشی قوس قزح) کہنے کی بات ہے، تو یہ صرف ایک عرفی نام ہے۔۔۔ اس کا آگ یا دھوئیں سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ یہ نام اسے اس کے شعلوں کی طرح بھڑکتے ہوئے تیز اور چمکدار رنگوں کی وجہ سے دیا گیا ہے۔
✨ حاصلِ کلام: افق کے پار ایک پیغام
بلوچستان کے آسمان پر نظر آنے والا یہ "رینبو برج" محض ایک سائنسی واقعہ نہیں، بلکہ یہ اللہ رب العزت کی قدرتِ کاملہ اور اس کی صفتِ "مصور" (تشکیل دینے والا) کا ایک ادنیٰ سا کرشمہ ہے۔۔۔۔
یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اس کائنات کا ذرہ ذرہ، برف کا ایک ننھا سا کرسٹل بھی، اس کے حکم اور اس کے مقرر کردہ قانون کا پابند ہے۔۔۔ یہ رنگ، یہ روشنی، یہ حسن۔۔۔ سب اسی ایک ذات کا پرتو ہیں، جس کے بارے میں قرآن کہتا ہے:
اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ "اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔" (سورۃ النور: 35)


No comments:
Post a Comment