اللہ کی نشانیاں

🌟 آج کی آیت

لوڈ ہو رہا ہے...

Sunday, October 26, 2025

پیاس کا پیغام: آپ کے جسم میں اللہ کا ایک پوشیدہ انتباہی نظام

پیاس کا پیغام: آپ کے جسم میں اللہ کا ایک پوشیدہ انتباہی نظام

پیاس کا پیغام: آپ کے جسم میں اللہ کا ایک پوشیدہ انتباہی نظام

🌿 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ عام طور پر ہم سمجھتے ہیں کہ پیاس کا مطلب صرف منہ یا حلق کا خشک ہو جانا ہے۔۔۔ لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری اور حکمت سے بھرپور ہے۔ پیاس، دراصل ہمارے جسم کے اندر نصب اللہ تعالیٰ کے ایک انتہائی پیچیدہ اور خودکار حفاظتی نظام کا "خطرے کا الارم" ہے۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جو خاموشی سے ہمارے خون کے توازن اور گردوں کی صحت کی حفاظت کرتا ہے۔۔۔ آئیے آج اِسی نشانی پر غور کرتے ہیں۔
پانی کا ایک گلاس جو اللہ کی نعمت اور زندگی کی علامت ہے۔

💧 پیاس کی اصل حقیقت: منہ کی خشکی سے بڑھ کر

جب ہم مصروف ہوتے ہیں تو اکثر پانی پینا بھول جاتے ہیں۔۔۔ ہمارا جسم، جو تقریباً 60 فیصد پانی پر مشتمل ہے، اس کمی کو فوراً محسوس کرتا ہے۔۔۔ لیکن یہ کمی سب سے پہلے ہمارے خون پر اثر انداز ہوتی ہے۔۔۔ جب جسم میں پانی کم ہوتا ہے، تو خون گاڑھا (Viscous) ہونا شروع ہو جاتا ہے۔۔۔ یعنی اس میں پانی کا تناسب کم اور دیگر اجزاء (جیسے نمکیات اور پروٹین) کا تناسب بڑھ جاتا ہے۔
یہ گاڑھا خون جب ہماری رگوں میں گردش کرتا ہے، تو یہ ایک سنگین خطرے کو جنم دیتا ہے۔۔۔ اور وہ خطرہ ہمارے نازک گردوں پر پڑنے والا دباؤ ہے۔۔۔ گردے، جن کا کام ہی خون کو فلٹر کرنا اور زہریلے مادوں کو چھاننا ہے، اس گاڑھے خون کو صاف کرنے کے لیے جدوجہد کرنے لگتے ہیں۔۔۔ اُن پر دباؤ (Pressure) کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

🔬 سائنسی حکمت: گردوں کا حفاظتی الارم

یہاں اللہ کی حکمت کا کمال شروع ہوتا ہے۔۔۔ جیسے ہی جسم یہ محسوس کرتا ہے کہ خون گاڑھا ہو رہا ہے اور گردوں پر دباؤ ہے، وہ فوراً ایک "ایمرجنسی سگنل" بھیجتا ہے۔۔۔ دماغ میں موجود خصوصی سینسرز (Osmoreceptors) خون کے اس عدم توازن کو پکڑ لیتے ہیں۔۔۔ یہ سگنل سیدھا ہمارے دماغ کے اُس حصے کو جاتا ہے جو پیاس کو کنٹرول کرتا ہے (Hypothalamus)۔

🧠 دماغ کا فوری ردِ عمل

دماغ فوری طور پر "پیاس" کا احساس پیدا کرتا ہے۔۔۔ یہ احساس جو ہمیں منہ کی خشکی کی صورت میں محسوس ہوتا ہے، دراصل دماغ کی طرف سے ایک واضح حکم ہے کہ "فوری طور پر پانی پیو، اندر خطرہ ہے!"۔۔۔ یہ صرف ایک خواہش نہیں، یہ ایک انتباہ (Warning) ہے تاکہ ہم پانی پی کر خون کو واپس اس کے معمول کے توازن پر لائیں اور گردوں کو تباہی سے بچا سکیں۔

📖 قرآنی نکتہ نظر: آبِ حیات کی قَدر

اللہ رب العزت نے پانی کو زندگی کی بنیاد قرار دیا ہے۔۔۔ یہ صرف ایک کیمیائی مرکب نہیں، بلکہ یہ رب کی رحمت کا ایک ذریعہ ہے جو ہمارے وجود کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔۔۔ اس کا ہر گھونٹ اور اس کی طلب، اُس کی ربوبیت کی دلیل ہے۔
﴿وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ ۖ أَفَلَا يُؤْمِنُونَ﴾ "اور ہم نے ہر جاندار چیز پانی سے بنائی، تو کیا وہ ایمان نہیں لاتے؟" (سورۃ الانبیاء: 30)

☁️ حکمتِ خداوندی: توازن کا ایک خودکار نظام

ذرا تصور کریں، اگر یہ خودکار نظام ہم میں نہ ہوتا؟۔۔۔ اگر ہمیں خود یاد رکھنا پڑتا کہ "میرا خون گاڑھا ہو رہا ہے، مجھے پانی پینا چاہیے" تو ہم میں سے اکثر اپنے گردے ناکارہ کر چکے ہوتے۔۔۔ لیکن ہمارے رب نے یہ ذمہ داری ہم پر نہیں چھوڑی۔۔۔ اس نے پیاس کا ایک ناقابلِ برداشت احساس پیدا کر دیا جو ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم اپنی سب سے بڑی ضرورت کو پورا کریں۔
یہ نظام ہمیں سکھاتا ہے کہ توازن (Homeostasis) ہی زندگی ہے۔۔۔ جس طرح جسمانی توازن بگڑنے پر خطرے کا الارم بجتا ہے، اسی طرح روحانی توازن بگڑنے پر بھی ہماری روح بے چین ہوتی ہے۔۔۔

🌙 روحانی نتیجہ: جسمانی پیاس سے روحانی پیاس تک

جسم کی پیاس، روح کی پکار جس طرح جسم پانی کی کمی پر "پیاس" کا سگنل بھیجتا ہے، اسی طرح ہماری روح بھی جب اللہ کے ذکر، عبادت اور قرآن سے دور ہوتی ہے، تو وہ بھی "پیاس" محسوس کرتی ہے۔۔۔ یہ روحانی پیاس ہمیں بے چینی، ڈپریشن اور زندگی میں خالی پن کی صورت میں محسوس ہوتی ہے۔۔۔ جسم کی پیاس پانی سے بجھتی ہے، اور روح کی پیاس۔۔۔ اللہ کی یاد سے بجھتی ہے۔
پس، اگلی بار جب آپ کو پیاس لگے، تو اسے صرف ایک ضرورت نہ سمجھیں... بلکہ اپنے رب کی حکمت اور رحمت کا ایک لمحہ فکریہ جانیں۔

No comments:

Post a Comment

Post Top Ad