اللہ کی نشانیاں

🌟 آج کی آیت

لوڈ ہو رہا ہے...

Saturday, October 25, 2025

رحمِ مادر میں اللہ کی صورت گری کا شاہکار

رحمِ مادر میں اللہ کی صورت گری

"وہی تو ہے جو تمہاری ماؤں کے پیٹ میں تمہاری صورتیں، جیسی چاہتا ہے، بناتا ہے رحمِ مادر میں اللہ کی صورت گری کا شاہکار"

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ کائنات میں اللہ کی نشانیاں بکھری پڑی ہیں۔ ہر ذرے میں اس کی کاریگری، ہر مظہر میں اس کی حکمت، اور ہر تخلیق میں اس کی عظمت جلوہ گر ہے۔ کبھی ہماری نگاہیں فلک بوس پہاڑوں کی ہیبت سے مسحور ہوتی ہیں، کبھی آسمان کی وسعت میں بکھرے ستاروں پر ٹھہر جاتی ہیں، اور کبھی سمندر کی گہرائیوں کے ان دیکھے رازوں پر غور کرنے لگتی ہیں۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک عظیم الشان شاہکار ہمارے اپنے وجود میں پنہاں ہے جسے ہم اکثر فراموش کر دیتے ہیں۔ وہ شاہکار ہماری اپنی تخلیق کا سفر ہے؛ ایک ایسے نقطے سے آغاز جہاں ہم کچھ بھی نہ تھے، تا آنکہ ہم نے اس دنیا میں قدم رکھا۔ یہ پورا سفر اللہ کی قدرتِ کاملہ، اس کی بے مثال حکمت، اور اس کی صفتِ 'المصور' (صورتیں بنانے والا) کا ایسا بین ثبوت ہے جو ہر ذی شعور کو اس کے رب کی طرف متوجہ کرتا ہے۔

آج، ہم قرآن مجید کی اُسی پُر حکمت آیت کے سائے میں فکری اور روحانی سفر کا آغاز کریں گے، جہاں اللہ رب العزت نے اپنی تخلیق کے اس نہایت نازک، گہرے اور پوشیدہ عمل کو اپنی وحدانیت اور توحید کی سب سے بڑی دلیل کے طور پر پیش فرمایا ہے۔

المصور: وہ دستِ قدرت جو صورتیں بناتا ہے

اللہ تعالیٰ نے اپنی صفتِ 'المصور' یعنی صورتیں بنانے والے کی قدرت کا ذکر کرتے ہوئے جو مقام منتخب فرمایا، وہ انسانی عقل کو حیران کر دیتا ہے: "فِي الْأَرْحَامِ" – ماؤں کے پیٹ میں۔ یہ وہ مقام ہے جسے قرآن نے "تین تاریک پردوں" (فِي ظُلُمَاتٍ ثَلَاثٍ) سے تعبیر کیا ہے: شکمِ مادر کا اندھیرا، رحمِ مادر کا اندھیرا، اور وہ جھلیوں کا اندھیرا جو جنین کو لپیٹے ہوئے ہوتا ہے۔

ذرا غور کیجئے! اس گہرے اور تاریک سٹوڈیو میں، جہاں انسانی بصارت یا کوئی آلہ نہیں پہنچ سکتا، وہاں وہ عظیم الشان ہستی ایک بے جان قطرے میں جان ڈالتی ہے اور اس پر ایسی منفرد نقاشی کرتی ہے کہ کائنات میں موجود اربوں انسانوں میں سے ہر ایک کو دوسرے سے ممتاز کر دیتی ہے۔ یہ محض تخلیق نہیں، یہ 'تخلیقِ بے مثل' کا ایسا شاہکار ہے جس کی مثال اور کہیں نہیں ملتی۔

عصری سائنس، ایمبریولوجی (Embryology) کے ذریعے ہمیں یہ بتاتی ہے کہ کیسے خلیے (Cells) تقسیم در تقسیم ہوتے ہیں، کیسے جسم کے اعضاء مرحلہ وار بنتے ہیں، اور کیسے ایک ننھے سے دل کی دھڑکنیں زندگی کا اعلان کرتی ہیں۔ مگر سائنس آج بھی اس بنیادی سوال پر خاموش ہے کہ وہ کون سی طاقت ہے جو یہ فیصلہ کرتی ہے کہ اس آنے والے وجود کی آنکھوں کا رنگ کیا ہوگا؟ اس کی جلد کا رنگ کیسا ہوگا؟ اس کی انگلیوں کے نشانات کیسے ہوں گے؟ اس کے نقش و نگار کس سے مشابہ ہوں گے؟

اس حتمی اور بنیادی سوال کا جواب قرآن حکیم دیتا ہے، جس کی صداقت ہر دور میں روشن رہی ہے:

هُوَ الَّذِي يُصَوِّرُكُمْ فِي الْأَرْحَامِ كَيْفَ يَشَاءُ ۚ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ

"وہی تو ہے جو تمہاری ماؤں کے پیٹ میں تمہاری صورتیں، جیسی چاہتا ہے، بناتا ہے۔ اُس زبردست حکمت والے کے سوا کوئی اور خدا نہیں ہے۔"

(سورۃ آل عمران، آیت 6)

"کَیْفَ یَشَاءُ": مرضیٔ رب کا کمال

اس آیت مبارکہ کا سب سے زیادہ قابلِ غور اور دل پر اثر کرنے والا حصہ "کَیْفَ یَشَاءُ" (جیسی چاہتا ہے) کا جملہ ہے۔ یہ دو الفاظ انسانیت کے تمام خود ساختہ نظریاتِ تخلیق کو ایک ہی ضرب سے باطل کر دیتے ہیں۔

اگر یہ پورا عمل محض ایک حیاتیاتی حادثہ ہوتا، یا ایک خودکار (Automatic) اور بے شعور نظام کے تحت ہوتا، تو پھر تمام انسانوں کی شکل و صورت اور ان کے نقوشِ تخلیق میں ایک حیران کن یکسانیت پائی جاتی۔ مگر ایسا ہرگز نہیں ہے۔ ایک ہی ماں باپ کی اولاد میں بھی زمین آسمان کا فرق نظر آتا ہے۔ کوئی خوبصورت ہے، کوئی وجیہہ۔۔۔ کوئی تندرست ہے، کوئی نحیف۔۔۔ کسی کی آنکھیں نیلی ہیں تو کسی کی سیاہ۔۔۔ کسی کا مزاج نرم ہے تو کسی کا تند۔

ہر نقش، ہر خلیہ، منفرد!

اللہ تعالیٰ کی قدرتِ صورت گری کا یہ کمال ہی تو ہے کہ آج زمین پر موجود آٹھ ارب سے زائد انسانوں میں سے ہر ایک کے انگلیوں کے نشان (Fingerprints)، ہر ایک کی آنکھ کا ریٹینا (Retina)، اور ہر ایک کا جینیاتی نقشہ یعنی ڈی این اے (DNA) دوسرے سے مکمل طور پر مختلف ہے۔ یہ اس کی مطلق مرضی (Divine Will) اور اس کا لازوال ڈیزائن ہے کہ وہ ایک ہی نطفے اور ایک ہی مٹی کے جوہر سے، اربوں ایسے منفرد اور بے نظیر شاہکار تخلیق کرتا ہے، جن میں سے کوئی بھی شاہکار کبھی دہرایا نہیں جاتا! یہ محض ارتقاء نہیں، یہ "المصور" کی لازوال فنکاری ہے۔

تخلیق کے حیرت انگیز مراحل: علم و حکمت کا بیان

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں نہ صرف یہ بتایا کہ وہ صورتیں بناتا ہے، بلکہ یہ بھی واضح فرمایا کہ وہ یہ کام کن حیرت انگیز اور منظم مراحل سے گزار کر انجام دیتا ہے۔ یہ اس کی صفتِ 'الحکیم' (عظیم حکمت والا) کا ایک اور کرشمہ ہے کہ اس نے اس عظیم عمل کو مراحل میں تقسیم کیا، تاکہ انسان اس کی کاریگری اور فن کو باریک بینی سے سمجھ سکے۔

ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا فَكَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْمًا ثُمَّ أَنشَأْنَاهُ خَلْقًا آخَرَ ۚ فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ

"پھر ہم نے اس نطفہ کو خون کا لوتھڑا بنایا، پھر لوتھڑے کو گوشت کی بوٹی بنایا، پھر بوٹی سے ہڈیاں بنائیں، پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا، پھر اسے ایک دوسری ہی مخلوق بنا کر کھڑا کیا۔۔۔ پس بڑا ہی بابرکت ہے اللہ، سب کاریگروں سے اچھا کاریگر!"

(سورۃ المومنون، آیت 14)

اس آیت میں "پھر اسے ایک دوسری ہی مخلوق بنا کر کھڑا کیا" (ثُمَّ أَنشَأْنَاهُ خَلْقًا آخَرَ) کا جملہ نہایت گہرا اور وسیع معانی کا حامل ہے۔ یہ وہ فیصلہ کن لمحہ ہے جب اللہ اس محض گوشت کے لوتھڑے میں 'روح' پھونک دیتا ہے۔ اس روح کے پھونکے جانے کے بعد وہ وجود صرف خلیات اور ٹشوز کا مجموعہ نہیں رہتا، بلکہ ایک 'انسان' بن جاتا ہے، جس میں احساسات، شعور، ارادہ، اور ذمہ داری کا احساس شامل ہو جاتا ہے۔ یہ ایک نطفے سے شروع ہونے والا سفر ہے جو ایک مکمل انسانی وجود پر منتج ہوتا ہے۔

صورت گری سے توحید تک کا سفر

اس آیت مبارکہ کا اختتام اللہ کی توحید کے ایک مضبوط اعلان پر ہوتا ہے: "لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ" (اُس کے سوا کوئی خدا نہیں)۔ یہ درحقیقت ایک نہایت منطقی اور فطری نتیجہ ہے۔

ذرا ٹھہریے اور سوچیے!۔۔۔ وہ ہستی جس نے آپ کو اس قدر پیچیدہ، اس قدر حسین، اور اس قدر منفرد صورت میں ڈھالا، جبکہ آپ اس وقت اس کے مکمل رحم و کرم پر تھے اور اپنی ذات کی مدد کرنے سے بھی قاصر تھے، تو کیا یہ ممکن ہے کہ اب، جب اس نے آپ کو شعور، طاقت، اور اختیار سے نوازا ہے، وہ آپ کو بے سہارا اور بے یار و مددگار چھوڑ دے؟

جس نے آپ کے چہرے پر آنکھوں کو بصارت، ناک کو سونگھنے کی حس، اور زبان کو ذائقے کی لذت بخشی، کیا وہ آپ کی ضروریات اور حاجات سے بے خبر ہوگا؟ ۔۔۔ جس نے آپ کے سینے میں ایک دھڑکتا ہوا دل رکھا، کیا وہ آپ کی گریہ و زاری اور دعاؤں کو نہیں سنے گا؟ ۔۔۔ یقیناً سنے گا!۔۔۔ اور ہر حال میں سنے گا! اسی لیے حقیقی معنوں میں عبادت کے لائق، پکار کے لائق، اور کامل بھروسے کے لائق صرف وہی ذات ہے جو "العزیز الحکیم" (زبردست قدرت والا اور عظیم حکمت والا) ہے۔

جب بھی آپ کبھی آئینے کے سامنے کھڑے ہوں اور اپنا چہرہ دیکھیں، تو صرف اپنی ظاہری خوبصورتی یا اس میں موجود خامیوں پر ہی غور نہ کیجئے، بلکہ اس چہرے پر اس 'المصور' کے دستخطوں کو پہچاننے کی کوشش کیجئے۔ آپ کا وجود، آپ کے خدوخال، آپ کا ہر نقش، اللہ کی طرف سے ایک ذاتی، دستخط شدہ اور بے مثال شاہکار (Signed Masterpiece) ہے۔ لہٰذا، اس بے نظیر شاہکار کو اس کے بنانے والے کی نافرمانی میں کبھی استعمال مت کیجئے۔ بلکہ اس کے دیے ہوئے ہر عضو اور ہر صلاحیت کو اسی کی رضا کے لیے استعمال کریں، کہ یہی شکر گزاری کا بہترین طریقہ ہے۔

🌸 غور کرو، دیکھو، سوچو — تمہارے چاروں طرف اللہ کی قدرت کے جلوے ہیں 🌸

No comments:

Post a Comment

Post Top Ad