اللہ کی نشانیاں

🌟 آج کی آیت

لوڈ ہو رہا ہے...

Sunday, November 9, 2025

خلا سورج کے باوجود شدید ٹھنڈا کیوں ہے؟ اللہ کی حکمت

السلام علیکم! آپ کے فراہم کردہ اسلامی میگزین بلاگ ٹیمپلیٹ کے مطابق، پیش خدمت ہے خلا کے ٹھنڈا ہونے کے موضوع پر ایک مکمل بلاگ پوسٹ۔ یہ HTML کوڈ آپ براہِ راست اپنے بلاگر (Blogger) میں پیسٹ کر سکتے ہیں۔ خلا سورج کے باوجود شدید ٹھنڈا کیوں ہے؟ اللہ کی حکمت

خلا سورج کے باوجود شدید ٹھنڈا کیوں ہے؟ ☀️ اللہ کی حکمت

🌿 کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ سورج، جو کروڑوں میل دور زمین کو گرم کر سکتا ہے اور جس کی اپنی سطح کا درجہ حرارت ہزاروں ڈگری ہے، وہ اپنے اردگرد موجود خلا کو گرم کیوں نہیں کر پاتا؟ یہ کائنات میں اللہ رب العزت کی قائم کردہ حکمت اور ڈیزائن کی ایک بہترین مثال ہے۔ ہم زمین پر سورج کی تپش محسوس کرتے ہیں، لیکن ہمارے اور سورج کے درمیان موجود وسیع و عریض خلاء، قطب شمالی سے بھی زیادہ ٹھنڈا ہے، تقریباً منفی 270 ڈگری سیلسیس! آئیے اس دلچسپ سائنسی حقیقت اور اس میں پوشیدہ نشانیوں پر غور کرتے ہیں۔

خلا گرمی کو کیوں نہیں پکڑتا؟ 🌌

گرمی کے سفر کرنے کے تین طریقے ہیں: **کنڈکشن** (Conduction) یعنی کسی چیز کو چھو کر گرمی منتقل کرنا، **کنویکشن** (Convection) یعنی ہوا یا پانی جیسے کسی واسطے (medium) کے ذریعے گرمی کا پھیلنا، اور **ریڈی ایشن** (Radiation) یعنی شعاعوں کے ذریعے۔ زمین پر ہمیں گرمی زیادہ تر کنویکشن کے ذریعے محسوس ہوتی ہے۔ سورج کی شعاعیں ہماری فضا (atmosphere) میں موجود ہوا کے ذرات (گیسوں) سے ٹکراتی ہیں، انہیں گرم کرتی ہیں، اور پھر یہ گرم ہوا پھیل کر ہمیں گرمی کا احساس دلاتی ہے۔۔۔۔ لیکن خلا میں ایسا نہیں ہوتا! خلاء، جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، ایک "خالی" جگہ ہے، جسے ہم ویکیوم (vacuum) کہتے ہیں۔ وہاں ہوا، پانی یا کوئی دوسرا مادہ موجود نہیں ہے جو گرمی کو جذب کر کے اِدھر اُدھر منتقل کر سکے۔
زمین کا ماحول سورج کی شعاعوں کو جذب کرتا ہے

پھر گرمی ہم تک کیسے پہنچتی ہے؟ ☀️

یہاں اللہ تعالیٰ کے نظام کا ایک اور کمال سامنے آتا ہے۔ سورج اپنی گرمی خلا میں **ریڈی ایشن** (شعاعوں) کی شکل میں بھیجتا ہے، جنہیں "انفراریڈ ویوز" (infrared waves) کہتے ہیں۔ یہ شعاعیں خلا کے خالی پن میں بغیر کسی واسطے کے سفر کرتی ہیں۔۔۔۔ وہ خلا کو گرم نہیں کرتیں، بلکہ اس وقت تک سفر کرتی رہتی ہیں جب تک کسی ٹھوس چیز سے ٹکرا نہ جائیں۔ جب یہ شعاعیں زمین، چاند، کسی سیارے، سیٹلائٹ یا کسی خلا باز سے ٹکراتی ہیں، تو وہ شے اِن شعاعوں کو جذب (absorb) کر لیتی ہے اور گرم ہو جاتی ہے۔۔۔۔ بالکل ایسے جیسے سردیوں میں آپ دھوپ میں کھڑے ہوں تو آپ کے کپڑے اور جلد گرم ہو جاتے ہیں، جبکہ آپ کے سائے میں موجود ہوا ٹھنڈی رہتی ہے۔
وَجَعَلْنَا سِرَاجًا وَهَّاجًا "اور ہم نے (سورج کو) ایک نہایت چمکتا ہوا چراغ بنایا۔" (سورۃ النبأ: 13)
💭 اس آیت میں سورج کو "چراغ" (سِرَاج) کہا گیا ہے۔ چراغ کا کام اپنے اردگرد کے ماحول کو نہیں، بلکہ ان چیزوں کو روشن اور گرم کرنا ہوتا ہے جن پر اس کی روشنی پڑتی ہے۔ یہ کتنی خوبصورت سائنسی مطابقت ہے کہ سورج کی گرمی بھی خلا کو نہیں، بلکہ صرف ان سیاروں کو گرم کرتی ہے جو اس کی روشنی کے دائرے میں آتے ہیں۔

سائے اور دھوپ کا کھیل 🌡️

چونکہ خلا میں گرمی پھیلانے والی ہوا موجود نہیں، اس لیے وہاں درجہ حرارت میں انتہا پسندی پائی جاتی ہے۔ جس چیز پر سورج کی روشنی براہِ راست پڑ رہی ہو، وہ شدید گرم ہو جاتی ہے، اور جو چیز سائے میں ہو، وہ شدید ٹھنڈی ہو جاتی ہے۔۔۔۔ اس کی مثال خلا بازوں (Astronauts) کے اسپیس سوٹ ہیں۔ اگر ایک خلا باز سورج کے سامنے ہو، تو اس کے سوٹ کا وہ حصہ 120 ڈگری سیلسیس تک گرم ہو سکتا ہے (پانی کے ابلنے سے بھی زیادہ)۔ لیکن اسی خلا باز کی پشت، جو سائے میں ہے، اس کا درجہ حرارت منفی 150 ڈگری سیلسیس سے بھی نیچے گر سکتا ہے! اسی لیے اسپیس سوٹ کو خاص طور پر سفید بنایا جاتا ہے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ روشنی کو منعکس (reflect) کر دیں اور خلا باز ابلنے سے بچ جائیں۔
خلا باز خلا میں سورج کی روشنی اور سائے میں

اس نظام میں ہمارے لیے کیا سبق ہے؟

یہ اللہ کا بنایا ہوا ایک بہترین نظام ہے۔ اگر خلا بھی زمین کی ہوا کی طرح گرمی جذب کر لیتا، تو سورج کی بے پناہ تپش سے سارا نظام شمسی جل کر راکھ ہو جاتا۔ لیکن اللہ نے خلا کو ایک بہترین "انسولیٹر" (insulator) بنایا، جو گرمی کو گزرنے تو دیتا ہے، مگر خود گرم نہیں ہوتا۔ اس نے زمین کو ایک خاص فاصلے پر رکھا اور اسے ایک غلاف (ماحول) عطا کیا جو ایک فلٹر کا کام کرتا ہے—یہ غلاف نقصان دہ شعاعوں کو روکتا ہے اور زندگی کے لیے ضروری گرمی کو قید کر لیتا ہے۔۔۔۔ یہ سب کسی حادثے کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک سوچنے سمجھنے والے، حکمت والے رب کی منصوبہ بندی ہے۔

مزید سائنسی تفصیلات کے لیے آپ ناسا (NASA) کی ویب سائٹ بھی ملاحظہ کر سکتے ہیں۔
روحانی نتیجہ ☁️ کائنات کی ہر نشانی۔۔۔ سورج کی تپش اور خلا کی خاموش ٹھنڈک۔۔۔
یہ سب اللہ رب العزت کے کامل توازن (Perfect Balance) اور اس کی بے مثال حکمت کی گواہی دے رہی ہیں۔
پس، ہر بار جب ہم آسمان کی طرف دیکھیں، تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ
"ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی ساخت بخشی، پھر راہ دکھائی۔" (سورہ طہٰ: 50)

No comments:

Post a Comment

Post Top Ad