اللہ کی نشانیاں

🌟 آج کی آیت

لوڈ ہو رہا ہے...

Sunday, October 19, 2025

رحمِ مادر کا معجزہ: نومولود فضلہ کیوں خارج نہیں کرتا؟ - اللہ کی حکمت کا ایک پوشیدہ راز

رحمِ مادر کا معجزہ: نومولود فضلہ کیوں خارج نہیں کرتا؟ (اللہ کی نشانیاں)

🤰 رحمِ مادر کا معجزہ: ایک خاموش حکمت

انسان ستاروں کو تسخیر کرنے نکلا ہے... سمندروں کی گہرائیاں ناپ رہا ہے... وہ سمجھتا ہے کہ اس نے علم کو پا لیا... مگر وہ اپنی ہی تخلیق کے معجزے سے غافل ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ اس کا اپنا وجود... اس کا عدم سے وجود میں آنا... اللہ کی قدرت کا سب سے بڑا شاہکار ہے۔

لوگ مزاروں پر جاتے ہیں... عاملوں سے مدد مانگتے ہیں... نجومیوں سے مستقبل پوچھتے ہیں... مگر اس ذات پر توکل نہیں کرتے جس نے انہیں "تین تاریکیوں" کے اندر پال کر ایک مکمل انسان بنا دیا۔ کیا آپ نے کبھی اس محفوظ پناہ گاہ (رحمِ مادر) پر غور کیا؟ وہ ننھی سی جان... جو ایک بند، پاکیزہ ماحول میں تیر رہی ہے... وہ غذا بھی حاصل کر رہی ہے... وہ بڑھ بھی رہی ہے... مگر اپنے ماحول کو آلودہ نہیں کرتی۔

وہ فضلہ کیوں نہیں خارج کرتی؟ اگر کرتی... تو اسی آلودگی میں اس کی موت واقع ہو جاتی۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں... یہ سائنس کا ایک باب نہیں... یہ توحید کا ایک دروازہ ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جس نے تخلیق کیا... اسی نے پرورش کا نظام بھی بنایا۔ آئیے، اس نشانی پر غور کریں... شاید کہ ہمیں اپنے رب کی پہچان نصیب ہو۔

🌿 تخلیق کا سفر: حقیر پانی سے بہترین صورت تک

انسان کی اکڑ اور اس کا غرور... اس کی حقیقت کے بالکل برعکس ہے۔ اس کی ابتدا کیا ہے؟ ایک حقیر پانی کا قطرہ... جسے اللہ اپنی قدرت سے چنتا ہے اور ایک محفوظ ٹھکانے پر پہنچا دیتا ہے۔ نہ اس میں انسان کا کوئی کمال... نہ کسی عامل کا کوئی چلّہ... یہ خالصتاً اللہ کا امر ہے۔

ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَّكِينٍ. ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً... فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ.

"پھر اسے ایک محفوظ جگہ (رحم) میں نطفہ بنا کر رکھا۔ پھر ہم نے نطفے کو خون کا لوتھڑا بنایا، پھر لوتھڑے کو گوشت کی بوٹی بنایا... پس بڑا ہی بابرکت ہے اللہ، جو سب سے بہترین پیدا کرنے والا ہے۔"

(سورۃ المؤمنون، 13-14)

یہ مراحل خود بخود طے نہیں ہوتے۔ ہر مرحلے پر اللہ کا حکم کارفرما ہے۔ وہ ذات جو ایک بوند کو لوتھڑے میں اور پھر بوٹی میں بدل سکتی ہے... وہی "احسن الخالقین" ہے۔

☁️ "قرارِ مکین": تین تاریکیوں کا قلعہ

بادشاہ اپنے لیے قلعے بنواتے ہیں... مگر اللہ نے انسان کے لیے جو پہلا قلعہ بنایا... اس جیسا کوئی نہیں۔ رحمِ مادر... جسے قرآن نے "قرارِ مکین" (محفوظ ٹھکانا) کہا ہے۔ یہ ایک ایسی دنیا ہے جو تین تاریک پردوں میں لپٹی ہے۔

...يَخْلُقُكُمْ فِي بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ خَلْقًا مِّن بَعْدِ خَلْقٍ فِي ظُلُمَاتٍ ثَلَاثٍ...

"...وہ تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں، ایک کے بعد ایک تخلیق کے مرحلے سے گزارتا ہے، تین تاریکیوں کے اندر..."

(سورۃ الزمر، 6)

ان تاریکیوں میں کون ہے جو اس ننھی جان کی حفاظت کر رہا ہے؟ کون ہے جو درجہ حرارت کو قابو میں رکھے ہوئے ہے؟ کون ہے جو اسے ہر جھٹکے سے بچا رہا ہے؟ وہ ماں نہیں... وہ ڈاکٹر نہیں... وہ صرف اللہ ہے... "اللہ الصمد"۔

🧬 زندگی کا پل: آنول (Placenta) کا خدائی نظام

پھر اللہ اپنی قدرت کا ایک اور کرشمہ دکھاتا ہے۔ ایک عارضی عضو... جسے آنول (Placenta) کہتے ہیں، تخلیق کیا جاتا ہے۔ یہ کوئی عام عضو نہیں... یہ ماں اور بچے کے درمیان "زندگی کا پل" ہے۔ انسان پل بناتا ہے تو دنیا کو دکھاتا ہے... اللہ نے یہ پل نو ماہ کے لیے بنایا اور پھر اسے ختم کر دیا... سبحان اللہ!

یہ پل ایک ذہین فلٹر ہے۔ یہ ماں کے خون سے آکسیجن اور غذا کو چھان کر بچے تک پہنچاتا ہے... مگر ماں اور بچے کے خون کو آپس میں ملنے نہیں دیتا۔ اسے یہ کیمسٹری کس نے سکھائی؟ اسے کیسے معلوم کہ بچے کو کیا چاہیے اور کیا نہیں؟ یہ علم صرف "العلیم" کے پاس ہے۔

آنول (Placenta) اور امبلیکل کورڈ کا سائنسی تصویری ماڈل

💧 حکمتِ طہارت: قدرت کا خودکار فلٹریشن پلانٹ

اور اب وہ سوال... جس نے اہل فکر کو حیران کر دیا... فضلات کا اخراج۔

بچہ جب غذا استعمال کرتا ہے تو فضلات (جیسے کاربن ڈائی آکسائیڈ اور یوریا) بھی پیدا ہوتے ہیں۔ اگر یہ زہریلے مادے اسی پانی کی تھیلی میں جمع ہوتے رہتے... تو بچہ اسی زہر سے مر جاتا۔ مگر ایسا نہیں ہوتا۔ کیوں؟

اس لیے کہ وہی "آنول"... وہی خدائی پُل... ایک دو طرفہ شاہراہ ہے۔ ایک طرف سے غذا اور آکسیجن بچے کو دیتا ہے... اور دوسری طرف سے بچے کے خون سے تمام فضلات اور زہریلے مادے واپس کھینچ لیتا ہے۔

یہ فضلات واپس ماں کے خون میں شامل ہوتے ہیں... اور ماں کے گردے اور پھیپھڑے... جو خود اللہ کے حکم کے پابند ہیں... اسے اپنے جسم سے خارج کر دیتے ہیں۔ بچہ پاک رہتا ہے... اس کا ماحول پاک رہتا ہے۔

رحمِ مادر میں بچے کی نشوونما کا منظر

انسان لاکھوں روپے خرچ کرکے فلٹریشن پلانٹ لگاتا ہے... جو چند سالوں میں خراب ہو جاتے ہیں۔ اللہ کا یہ فلٹریشن پلانٹ خود بنتا ہے، نو ماہ بہترین کام کرتا ہے، اور پھر خود ہی تحلیل ہو جاتا ہے۔ کیا کوئی ہے جو ایسی کاریگری کر سکے؟ استغفراللہ، استغفراللہ۔

💭 اس معجزے میں اہل ایمان کے لیے سبق

بھائیو! بہنو! یہ صرف بیالوجی کا سبق نہیں... یہ ایمان کا سبق ہے۔

اس میں سبق ہے کہ رزق اللہ دیتا ہے۔ اس بچے نے کون سا وظیفہ پڑھا تھا؟ وہ کون سے مزار پر گیا تھا؟ وہ تو صرف اپنے رب کے حوالے تھا... اور اس کا رب اسے پال رہا تھا۔

اس میں سبق ہے کہ اللہ "القدوس" (پاک) ہے اور پاکیزگی کو پسند کرتا ہے۔ اس نے ہمیں دنیا میں آنے سے پہلے ہی پاک ماحول عطا فرمایا۔

اس میں سبق ہے توکل کا۔ وہ بچہ مکمل طور پر اپنے رب پر بھروسہ کیے ہوئے ہے۔ اور ہم... جو چل پھر سکتے ہیں، سوچ سکتے ہیں... ہم اللہ کو چھوڑ کر در در کی ٹھوکریں کھاتے ہیں۔ ہم عہدوں اور منصبوں کے لیے پریشان ہیں... یہ عہدے تو آزمائش ہیں۔ کامیابی نہیں ہیں۔

اصل کامیابی یہ ہے کہ ہم اس رب کو پہچان لیں جس نے ہمیں "قرارِ مکین" میں پالا۔ اصل کمال یہ ہے کہ ہمیں کلمہ طیبہ نصیب ہو جائے... لا الہ الا اللّٰہ...

🌟 روحانی نتیجہ 🌟


غور کیجیے! وہ ذات جس نے آپ کو رحمِ مادر کی تاریکیوں میں پالا... آپ کی سانسوں کا حساب رکھا... آپ کی غذا کا بندوبست کیا... اور آپ کے ماحول کو آپ کے لیے پاکیزہ بنائے رکھا... وہ آپ کی زندگی کے کسی بھی لمحے آپ سے غافل نہیں۔

جو رب آپ کے بن مانگے آپ کے فضلات کو صاف کر سکتا تھا... کیا وہ آپ کے مانگنے پر آپ کے گناہوں کو صاف نہیں کرے گا؟

یقیناً وہ کرے گا۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نجومیوں، عاملوں اور دنیاوی سہاروں کو چھوڑ کر... صرف اسی ایک اللہ سے مانگیں... اللہ احد، اللہ الصمد۔

🌸 غور کرو، دیکھو، سوچو — تمہارے چاروں طرف اللہ کی قدرت کے جلوے ہیں 🌸

No comments:

Post a Comment

Post Top Ad