اللہ کی نشانیاں

🌟 آج کی آیت

لوڈ ہو رہا ہے...

Sunday, October 26, 2025

قسط ۱: ہم گزری ہوئی قوموں کا مطالعہ کیوں کریں؟ (وقت کے آئینے میں)

گزری ہوئی قوموں کا عروج و زوال وقت کے آئینے میں اور عبرت کی کھلی کتاب

قسط ۱: ہم گزری ہوئی قوموں کا مطالعہ کیوں کریں؟ (وقت کے آئینے میں)

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ جب ہم قرآنِ کریم کو کھولتے ہیں، تو ہم پاتے ہیں کہ یہ محض عبادات اور احکامات کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو حکمت اور دانائی سے بھرا پڑا ہے۔ اس حکمت کا ایک بہت بڑا حصہ... وہ قصے ہیں جو اللہ رب العزت نے ہم سے پہلی قوموں کے بیان فرمائے ہیں۔

یہ کہانیاں محض وقت گزاری یا تاریخ دانی کے لیے نہیں، بلکہ یہ ہمارے حال اور مستقبل کی تعمیر کے لیے روشن چراغ ہیں۔ ہماری سیریز "وقت کے آئینے میں" کی اس پہلی نشست میں، آئیے یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ قرآن ہمیں ماضی کی طرف اتنی کثرت سے دیکھنے کی دعوت کیوں دیتا ہے۔

قرآن اور تاریخ کا رشتہ: محض کہانیاں نہیں!

قرآن کریم تاریخ کو ایک جامد مضمون کے طور پر نہیں دیکھتا، بلکہ اسے ایک زندہ حقیقت سمجھتا ہے۔ یہ ہمیں بار بار حکم دیتا ہے کہ زمین پر چلو پھرو اور دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا؟ یہ "دیکھنا" صرف آنکھوں سے دیکھنا نہیں... بلکہ دل اور دماغ سے سمجھنا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ان قصوں کو بیان کرنے کا مقصد خود واضح فرما دیا ہے۔ یہ قصے "احسن القصص" یعنی بہترین کہانیاں ہیں، اس لیے نہیں کہ یہ دلچسپ ہیں، بلکہ اس لیے کہ یہ مقصدیت سے بھرپور ہیں اور سیدھا دل پر اثر کرتی ہیں۔

'عبرت' کا حقیقی مفہوم

قرآن ان قصوں کو بیان کرنے کا مقصد ایک لفظ میں خلاصہ کرتا ہے: **'عبرت'**۔

لَقَدْ كَانَ فِي قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ ۗ مَا كَانَ حَدِيثًا يُفْتَرَىٰ وَلَٰكِن تَصْدِيقَ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ... "یقیناً ان کے قصوں میں عقل والوں کے لیے عبرت (اور نصیحت) ہے۔ یہ (قرآن) کوئی ایسی بات نہیں جو گھڑ لی گئی ہو، بلکہ یہ تو ان (کتابوں) کی تصدیق ہے جو اس سے پہلے ہیں..." (سورہ یوسف، آیت ۱۱۱)

لفظ 'عبرت' عربی زبان میں 'عبور' سے نکلا ہے، جس کا مطلب ہے 'گزر جانا' یا 'پار کرنا'۔ یعنی ایک ایسی نصیحت جو محض کانوں تک نہ رہے، بلکہ دل میں 'اتر جائے' اور ہمیں جہالت سے علم کی طرف، اور غفلت سے بیداری کی طرف 'لے جائے'۔ گزری ہوئی قوموں کے قصے ہمارے لیے ایک پل کا کام کرتے ہیں، جن پر چل کر ہم ان غلطیوں سے بچ سکتے ہیں جنہوں نے انہیں تباہی کے گڑھے میں دھکیل دیا۔

مطالعہ اقوامِ ماضی کے بنیادی مقاصد

جب ہم قرآن میں قومِ عاد، ثمود، قومِ لوط، یا فرعون اور بنی اسرائیل کا ذکر پڑھتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ ہمیں چند بنیادی باتیں سمجھانا چاہتا ہے:

اللہ کی 'سنت' (قانون) کو سمجھنا

کائنات کا ایک طبعی قانون ہے (جیسے آگ جلاتی ہے)۔ اسی طرح قوموں کے عروج و زوال کا بھی ایک اخلاقی اور روحانی قانون ہے، جسے قرآن 'سنت اللہ' کہتا ہے۔ یہ قانون کبھی نہیں بدلتا۔

  • جب کوئی قوم اجتماعی طور پر انصاف، شکر گزاری اور توحید کا راستہ اپناتی ہے، اللہ اسے عروج دیتا ہے۔
  • اور جب وہ تکبر، ظلم، ناشکری اور اخلاقی بے راہ روی کا شکار ہوتی ہے، تو اللہ کی پکڑ اسے آ لیتی ہے۔

ماضی کی اقوام اس قانون کی عملی مثالیں ہیں۔ ان کا مطالعہ ہمیں یقین دلاتا ہے کہ یہ قانون آج بھی ویسا ہی کارفرما ہے جیسا کل تھا۔

...فَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَبْدِيلًا ۖ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَحْوِيلًا "...پس آپ اللہ کے دستور کو کبھی بدلتا ہوا نہ پائیں گے اور نہ ہی آپ اللہ کے دستور کو کبھی منتقل ہوتا ہوا پائیں گے۔" (سورہ فاطر، آیت ۴۳)

ایمان کو مضبوط کرنا اور توکل سیکھنا

جب ہم پڑھتے ہیں کہ کس طرح اللہ نے حضرت نوح (ع) کو طوفان سے، حضرت ابراہیم (ع) کو آگ سے، اور حضرت موسیٰ (ع) کو سمندر سے بچایا... تو ہمارا دل اللہ پر توکل سے بھر جاتا ہے۔ یہ قصے ہمیں سکھاتے ہیں کہ حالات کتنے ہی ناممکن کیوں نہ لگیں، اللہ اپنے ماننے والوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ یہ ہمارے ایمان کو جلا بخشتے ہیں اور ہمیں ثابت قدمی کا سبق دیتے ہیں۔

اپنے حال کا احتساب کرنا (آئینہ)

تاریخ خود کو دہراتی ہے۔ گزری ہوئی قوموں کے قصے دراصل ہمارے لیے ایک آئینہ ہیں۔ کیا آج ہماری سوسائٹی میں وہی برائیاں تو نہیں پنپ رہیں جو قومِ لوط کی تباہی کا سبب بنیں؟ کیا آج ہمارے بازاروں میں ناپ تول میں وہی کمی تو نہیں جو قومِ شعیب کی پکڑ کا باعث بنی؟ کیا آج ہمارے اندر طاقت کا وہی گھمنڈ تو نہیں جو فرعون اور قومِ عاد کو لے ڈوبا؟...

ان کا مطالعہ ہمیں خبردار کرتا ہے، ہمیں اپنی اصلاح کا موقع فراہم کرتا ہے... اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔

روحانی نتیجہ تاریخ ایک آئینہ ہے جس میں گزرا ہوا کل... آنے والے کل کی جھلک دکھاتا ہے۔۔۔ اللہ نے ہمیں یہ آئینہ اس لیے دیا ہے تاکہ ہم اپنا چہرہ سنوار سکیں... اس سے پہلے کہ وقت کا فیصلہ صادر کر دیا جائے۔
غور کرو، دیکھو، سوچو — تمہارے چاروں طرف اللہ کی قدرت کے جلوے ہیں

No comments:

Post a Comment

Post Top Ad