اللہ کی نشانیاں

🌟 آج کی آیت

لوڈ ہو رہا ہے...

Sunday, October 26, 2025

قسط ۲: حضرت آدم (ع) اور ابلیس: تکبر کا پہلا گناہ (وقت کے آئینے میں)

آدم و حوا کی توبہ اور ابلیس کا تکبر: نجات و گمراہی کے دو راستے

قسط ۲: حضرت آدم (ع) اور ابلیس: تکبر کا پہلا گناہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ آج ہم اپنی سیریز "وقت کے آئینے میں" میں انسانیت کے بالکل آغاز کی طرف سفر کر رہے ہیں۔ یہ وہ لمحہ تھا جب کائنات میں پہلا گناہ سرزد ہوا۔ وہ گناہ چوری، قتل یا جھوٹ نہیں تھا... وہ "تکبر" تھا۔ یہ قصہ صرف حضرت آدم علیہ السلام اور ابلیس کا نہیں، بلکہ یہ آج بھی ہر اس انسان کا قصہ ہے جو اپنے آپ کو علم، نسل، عبادت یا دولت کی بنیاد پر دوسروں سے برتر سمجھتا ہے۔

تخلیقِ آدم اور فرشتوں کا سجدہ

جب اللہ رب العزت نے حضرت آدم (ع) کو اپنے ہاتھ سے تخلیق فرمایا، ان میں اپنی روح پھونکی اور انہیں تمام چیزوں کے نام سکھا کر فرشتوں پر فضیلت بخشی، تو اس نے تمام فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو (بطورِ تعظیم) سجدہ کریں۔ تمام فرشتوں نے حکم کی تعمیل کی... سوائے ایک کے۔

وہ ابلیس تھا۔ وہ فرشتوں میں سے نہیں تھا، بلکہ جنات میں سے تھا، لیکن اپنی بے پناہ عبادت اور علم کی وجہ سے اسے فرشتوں کے ساتھ ایک معزز مقام حاصل ہو گیا تھا۔

وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَىٰ وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ "اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کیا اور تکبر کیا اور وہ کافروں (نافرمانوں) میں سے ہو گیا۔" (سورہ البقرہ، آیت ۳۴)

گناہ کی جڑ: "میں اس سے بہتر ہوں"

اللہ تعالیٰ نے ابلیس سے پوچھا (باوجود اس کے کہ وہ سب جانتا تھا) کہ تجھے کس چیز نے سجدہ کرنے سے روکا؟ ابلیس کا جواب... تاریخ کا پہلا نسلی تعصب، حسد اور تکبر کا پہلا باقاعدہ اعلان تھا۔

قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ ۖ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ "اس نے کہا: میں اس سے بہتر ہوں۔ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے پیدا کیا۔" (سورہ ص، آیت ۷۶)

یہی وہ جملہ تھا جس نے اسے 'ابلیس' (ناامید) اور 'شیطان' (سرکش) بنا دیا۔ اس نے اپنی ناقص منطق کو اللہ کے واضح حکم پر ترجیح دی۔ اس نے تخلیق کا عنصر (آگ بمقابلہ مٹی) دیکھا، لیکن وہ عزت نہ دیکھی جو اللہ نے خود آدم (ع) کو عطا کی تھی۔ اس کا علم اس کے تکبر کا ایندھن بن گیا، اور اس کی عبادت اکارت گئی۔

گناہ اور توبہ کا فرق

اس قصے کا دوسرا پہلو حضرت آدم (ع) کا عمل ہے۔ حضرت آدم (ع) اور حضرت حوا (ع) سے بھی غلطی ہوئی جب انہیں جنت میں ایک خاص درخت سے منع کیا گیا تھا، اور شیطان کے بہکاوے میں آ کر انہوں نے اس سے کھا لیا۔ لیکن ان کا ردِ عمل ابلیس سے بالکل مختلف تھا۔

جیسے ہی انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا، وہ تکبر یا ہٹ دھرمی پر قائم نہیں رہے۔ انہوں نے اپنی غلطی کی تاویلیں پیش نہیں کیں، بلکہ فوراً شرمندگی اور عاجزی کے ساتھ اپنے رب کے حضور جھک گئے۔

قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ "دونوں نے کہا: اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اور اگر تو نے ہمیں نہ بخشا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ہم ضرور خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔" (سورہ الاعراف، آیت ۲۳)

ہمارے لیے عبرت

یہ قصہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہم سب آدم کی اولاد ہیں، ہم سے گناہ ہو سکتا ہے۔ لیکن ہمارے پاس دو راستے ہیں: گناہ کے بعد ابلیس کی طرح تکبر، ہٹ دھرمی اور دوسروں کو الزام دینا... یا حضرت آدم (ع) کی طرح فوراً توبہ، عاجزی اور اصلاح کا راستہ اختیار کرنا۔

روحانی نتیجہ تکبر وہ پہلا گناہ تھا جس نے اللہ کے ایک مقرب کو ہمیشہ کے لیے راندۂ درگاہ کر دیا۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ علم، عبادت، نسل، یا دولت... کوئی بھی چیز برتری کی دلیل نہیں۔ برتری کا واحد معیار تقویٰ ہے۔ آدم (ع) نے غلطی کر کے توبہ کی اور "نبی" چن لیے گئے، ابلیس نے غلطی کر کے تکبر کیا اور ہمیشہ کے لیے "شیطان" بن گیا۔
غور کرو، دیکھو، سوچو — تمہارے چاروں طرف اللہ کی قدرت کے جلوے ہیں

No comments:

Post a Comment

Post Top Ad